پوسٹ – 2020-01-03

میڈیاانڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ، ایک نسبتا ، کھسرے سے فرد سے بات ہو رہی ، جناب کسی بات پر ، ہتھے سے ہی اکھڑ گئے ، اور کہنے لگے ۔nnان کے الفاظ کچھ اس طرح تھے nمیں زیادہ تجربہ تو نہیں رکھتا لیکن ، پاکستانی عورتوں میں ، بہت زیادہ نہیں تو ، کم از کم بھی نوے پچانوے فیصد۔n گھٹیا ، چیپ ، خود غرض ، اور سب سے بڑھ کر، چھوٹی کم ظرف فقیرنیاں ٹائپ ہیں ذہن سے ، جسم سے بھی فقیرنیوں سے بھی گئی گزری ہوں گی آءی ایم شیور ان سے اچھی گلی محلے کی فقیرینایں ہوت ہیں کچھ نہ کچھ ، کرنے کی ، لگن بہرحال ہوتی ہےn کردار گندا ہوگاn جسم گندا ہوگاn ظاہر گندا ہوگاn پر عمل کی قوت ، بھوکے ، معدوں سے امڈی پڑ رہی ہوتی ہے اور سو کالڈ پاکیزہ کھوتیاں گھیرلیو ان کے پیٹ بھرے ہیں کوکھیں آباد ہیں تو مرداد گدھ جیسی ہو چکی ہیں خصوصی طور پر ، کنواری اور عمومی طور پر شادی شدہ پاکستنانی عورتیںnnابھی میں ان کا منہ تک ہی رہا تھا کہ انہوں نے آخری جملہ جوتے کی طرح میرے منہ پر دے مارا اور وہ یہ تھاےnnپر عورتوں کی اس بدنسلی میں ہاتھ بھی ، نوے سے پچانوے فیصد مرد کا ہی ہوتا ہے nnنوٹ: اب سمجھ آیا وہ بےچارہ کھسرا ٹائپ کیوں تھا۔nnبوہہت ستیا سی ۔۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.