#27nnسوشل میڈیا پر جاری بے ثمر مباحثے / سیاسی بحث در بحث اور اس سے پھیلتی منفیت/ڈپریشن کا سدباب ۔nnستائیسویں اور آخری قسط nnایک بات تو سب سے پہلے سمجھ لیجئے کہ ہمیں سیاسی مباحثےے جیتنے کی کوشش بہرحال کرنی چاہیے nnہحتی کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم نے جیت کی کوشش کریں ۔ nnکیونکہ اگر اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو ایک طرح سے یہ اپنے گروپ یا اپنی کمیونٹی کو دھوکا دینے nnکے برابر ہے nnاس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے پلے اور ہم وزن مخالف کو بھی ویلکم یا سیلی بریٹ کرنا چاہیے جو کہ دوسری طرف سے جتنے کی کوشش کر رہا ہوں nnکیونکہ ایک منطقی سوچ رکھنے والا ایک صحت مندانہ ڈسکشن، اور توانائی کو لے کر چلنے والا nnجس کے اندر سچ کی کھوج کی صلاحیت ہو، ایسا مباحثہ، بہرحال بہت سارے ممکنات/امکانات nnکا سبب بنتا ہے ۔ nnجیسے کہ nnایک دوسرے کے علم میں اضافہ nnاغلاط کی تصیح nnتعصبات کی صفائی۔ nn nnاور یہ کام اتنے حیرت انگیز انداز میں ہوتاہے کہ ، nnکبھی کبھی تو انسان کو یقین نہیں آتا اس نے ، اس ، مفید ڈسکشن سے، اس نے کتنی جلدی، کتنا کچھ سیکھ لیا nn nnلیکن nnایک بات یاد رکھیے کہ nn یہ فوائد دو طرفہ ہیں اور دونوں طرف کی ,رائے دلیل, اختلاف, علم , فہم ، اتنے ہی گاڑھے ، گہرے اور مضبوط ہونے چاہئیں ۔ nnاور سب سے بڑھ کر nn دونوں ہی مناسب انداز میں ، دوسرے کی ٹھیک کو ٹھیک ، اور اپنے غلط کو غلط سمجھیں nnتب جا کر ، مذکورہ بالا فوائد ، اٹھائے جا سکتے ہیں؛ nn ورنہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا اگر آپ کی سوچوں پر، آپ کا خوف حکمران ہوگا ، تو یہ سب کا سب رائیگاں nnاب، ان سب باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان چار اصولوں پر عمل کر لیجئے nn اور اس کے بعد آپ چاہیں تو سوشل میڈیا اصل زندگی حتی کہ سیاسی مباحثوں میں بلاخوف حصہ لے سکتے ہیں nnلیبل لگانے / کسی کی تضحیک سے گریز کریں ، یعنی کوئی نام دیے کر اس کا مذاق مت اڑائیں، nnجولوگ ایسا کرتے ہیں ، وہ چیخ چیخ کر یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس ، دلیل نہیں ۔ منطق نہیں ، ہم ہار رہے ہیں ، ہمارے پل جل چکے ، ہم مزید تباہی سے بچنے کے لیے ، کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ nn(ذاتی طور پر ، یہ پوائنٹس لکھتے ہوئے ، میرے ذہن میں ، فتوی فروش حلوہ خور اور حب الوطنی /غداری کے لیبل ، بانٹتے ،پالشیوں کے ریوڑ آگئے ۔کیاکہا ؟ nnپالشی حلوہ خور بھی توٹائٹل ہی ہے ؟ nnجی پتا تھا، یہی آئے گا دماغ میں nnتو اب سنئے اس کا جواب nnآخری اصول یہ ہے کہ nnاگر کوئی چاہ رہا ہو کہ ، اس کی کھجلی مٹا ئی جائے تو ، اوراس سے کچھ تھوڑا بہت ، اسے سکون آئے تو یقین کیجئے ، اس طرح کے پر امن ۔مناظرے ، محض ، زہر اور ڈپریشن جنریٹ کرتے ہیں ۔ nnاس کو یوں سمجھ لیں ، nnسامنے والا کینسریا بواسیر ہو ہو ، اور آپ اسے بخار یا عام پھوڑا پھنسی سمجھ کر میٹھے ہو ہو کر ، ہینڈل کر رہے ہوں nnجیسا ، اکثر ،انتظامی عہدوں پر براجمان ، افراد کا پرابلم ہوتا ہے ، کسی بھی کارپوریٹ کلچر میں ۔nnپھر سب کو خوش کرنے کے چکر میں ایسے افراد، خود ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں ، وجہ ؟nnجج نہ کرپانا کہ ، ڈسکس اور ڈس گسٹ میں کیا فرق ہے ۔nnاور کون ، ڈسکشن جوگا ہے ، اور کون ، ڈس گسٹ ہے ۔nnایسے لوگ پھر قابل رحم بالکل نہیں ہوتے nnجو ڈسکشن کرتے چلے جائیں اور پھر ، نتیجہ خیزی نہ پا کر ، رونے دھونے کریں nnکیوں کہ جب پہلے کہا جا رہا ہو ، کہ سینس کرو ، کس کسے کیا ڈسکس کرنا ہے اور کتنا ، اور کس سے نہیں کرنا، اس کو سٹریٹ اوے ، رگڑا دینا ہے nnتو اس وقت، سردائی پی ہوئ ہوتی ہے ان کے شعور نے nnلیکن ، جب ڈسکشن کا انجام ان کی اپنی انٹل ایکچول ذلت کی صورت میں نکلتا ہے اور جس کو خوش کرنے کے چکر میں یہ ، لیڈر بنے ڈسکشن کر رہے ہوتے ہیں ،nnوہی ان کے لیے پورس کا ہاتھی ثابت ہوجاتا ہے nnتو پھر ، خود ترسی طاری ہوجاتی ہے ۔nnفیر کہندے او زوہیب گالاں کڈ دا اےnnختم شد

اترك رد