پوسٹ – 2019-11-19

#25nتو پھر یہ چیز ہمیں کون سمجھائے گا؟n ہمیں کون بتائے گا؟n ہمارا یہ کام کون کرے گا ?جی ہاں
آپ ٹھیک سمجھے nوہ شخص جو ہماری مخالفت کر رہا ہوںnnلیکن اس میں سب سے پہلے یہ سمجھ لیںn اس شخص کا اس قابل ہونا بہت ضرور ی ہےn کہ وہ اپنی سائیڈ کا ہی سہیn لیکن کم ازکم آپ جتنا تجربہn مشاہدہn مطالعہ نقطہ نظر ادراک یا شناسائی رکھتا ہوںnnتب ہی وہ آپ سے اچھی پوزیشن میں ہوتا ہے کہn آپ کوn آپ کے پرسپیکٹو یا تعصب یا زاویہ نگاہ سے ہٹ کر کچھ الگ دکھا سکےnnاور اسی طرح ہم ان کے لئے۔
سادہ سی بات ہےn nجو باتیں ہم جانتے ہیںn وہ باتیں وہ نہیں جانتےn جو باتیں وہ جانتے ہیںn ضروری نہیں کہ وہ باتیں ہم بھی جانتے ہوں۔nnآپ اس طرح سوچ سکتے ہیںn جس طرح وہ نہیں سوچ سکتےn وہ اس طرح تصور کرسکتے ہیںn جس طرح ہم تصور نہیں کر سکتےnnاور اس سب سے ہٹ کرn ہمارے اندر ان کو غلط ثابت کرنے کی خواہش ہوتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ، ان کو ایک الگ زاویہ نگاہ دکھانے کی چاہ ، ان سے زیادہ موجود ہوتی ہے بہ نسبت،
اپنے مشاہدے کو بڑھانے کےnnاسی طرح nان کے اندر بھی یہ خواہش ہوتی ہےn کہ ،وہ آپ کو، آپ کے ایک مخصوص نقطہ نظر کے علاوہ، کوئی دوسرا رخ بھی دکھا سکیںn وہ بھی اسی طرح معذور ہوتے ہیںn جس طرح آپ۔n انہی وجوہات کی بنا پر جو اوپر بیان کی گئیnnمختصر یہ کہ، مناظرے کو، اگر علم مشاہدے ادراک اور اور ایک الگ زاویہ نگاہ کا، بارٹر سسٹم سمجھ لیا جائے۔
تو یہ مناظرے، مباحثے، کمنٹس در کمنٹس، اختلاف در اخلاق صرف ایک چیز میں ڈھل جائیں گے اس کا نام ہے ہے نالج شئیرنگ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.