پوسٹ – 2019-11-15

#3nnاپنی ، خودداری ، وقعت ، انا کے دفاع کے لیے اختلاف کرتے چلے جانے کی عادت۔
کچھ افراد، اس یقین کے ساتھ پل بڑھ کر جوان ہوئے ہوتے ہیں کہ ، شاید ، کسی مخصوص موضوع کا علم ، نہ ہونا، یا کم علم ہونا، ان کی وقعت ، میں کمی کردیتا ہے ، اور ان کی انا پر چوٹ لگتی ہے ۔
اس طرح کے افراد کی نفسیات پر ، یہ ٹھپا لگا ہوا ہوتا ہے ،کہ میں نے اگراس فلاں موضوع پر اختلاف نہیں کیا ، تو لوگ مجھے کم علم سمجھیں گے ، اور چونکہ میں حساس ہوں ،تو میں یہ جھیل نہیں سکتا۔ اس لیے ، بجائے ، سننے سمجھنے ، سیکھنے ، کے ، اختلاف کر کے اپنی nعزت بچا لوں ، اس لیے ، ایسے افراد کو اس بات کی چنداں پروا نہیں ہوتی ہے کہ ، موضوع کیا ہے ، دلیل کیا ہے ، بات کیا ہے ، بس انہوں نے اختلاف جڑ دینا ہوتا ہے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ بھی اس موضوع پر بات کرسکتے ہیں ۔n) دوسری شادی پر ہی دیکھ لیں ، کیسے کمسن ڈڈوں ، اور مینڈکیوں کو زکام ہوا وا ہے (nn جبکہ ، کسی موضوع کے بارے میں علم نہ ہونے کا دوسرا مطلب یہ ہے ، کہ آپ کو کچھ نیا سیکھنے کو مل رہا ہے ۔
کہتےہیں ، nHe who asks questions is a fool for five minutes, but he who doesn’t remains a fool forever.nجو سیکھنے/ سمجھنے کے لیے سوال کرے نہ کہ عادتا، ، وہ پانچ منٹ تک شاید احمق کہلایا جائے ، لیکن جو نہ کرے ، وہ پوری عمر کے لیے احمق رہ جاتا ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.