پوسٹ – 2019-11-09

بنیادی بات یادرکھیں ، مزاح ایک کھیل ، باقاعدہ ،پروفیشنل کھیل کی طرح ہیں۔
یعنی ، پچھلی فتوحات تاریخ بن گئیں ، قصہ پارینہ ہوگئیں ، nآپ کو محض آج کے چوکے چھکوں پر داد ملے گی
بس فرق یہ ہے کہ ، پروفیشنل کرکٹ یا بیس بال میں ، آپ کو لاکھوں کروڑوں ملتےہیں جب کہ ، اچھی کامیڈی ، میں اچھا سکور کرنےوالا ، ہفتے کا نشہ پانی ہی پورا کرسکتا ہے ۔n جب ، تفریق کا یہ حال ہو ، تو انسان ، پلمبر بننے کو زیادہ ترجیح دے گا ، کہ وہ زیادہ پیسا کما لیتے ہیں ۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ، کامیڈی لکھنا ، اور مزاحیہ اداکاری ، دونوں ہی ، نمو پا رے ہیں ، اوپر اٹھ رہے ہیں ، رجحان پکڑرہے ہیں ۔
اور اگر آپ اس میں کامیاب ہوجاتاہیں تو، پیسوں کی بہتات کا عالم یہ ہے کہ ، جیسے مخصوص فلموں میں مخصوص کام کرنے والے حساس اداکار یا ماہرین کہتےہیں nکہ اس کام کے پیسے بھی ملتے ہیں ؟ اور اتنے زیادہ ۔ تو آپ بھی اسی طرح شاکڈ ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ بیس پچیس برسوں میں ، اس انڈسٹری میں ، آنے والی ایک بڑی تبدیلی یہ بھی ہے کہ ، اس انڈسٹری میں ، پروفیشنل اور اچھا لکھنے والوں کی قلت ہوتی محسوس ہوتی ہے ۔
کچھ کو عطا نہیں ہوتی ، کچھ میں وفا نہیں ہوتی ، اور کچھ کی لکھائی صرف اور صرف ، خطا ہوتی ہے ۔یعنی وہ اتنے ماہر نہیں ہوتے کہ آج کی بدلتی دنیا، اور اس کام یعنی مزاح نگاری میں پیدا ہوتے خلا کو پرکر کے ، مسکراہٹوں اور قہقوں کی ضرورت کو پورا کرسکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ، کامیڈی لکھنے اور اچھی کامیڈی پرفارم کرنے والوں کی تلاش بڑھتی جارہ ی ہے ، یعنی بڑے بڑے ادارے ، اچھے مزاح نگار ، ڈھونڈ رہےہیں ۔
تقاریر ، کاروباری بنیادوں پر بھیجے جانے والا پرنٹ / ڈیجیٹل مواد، اشتہارات، کالمز، ٹاک شوز، حتی کے سیلز/مارکٹنگ کے لیے جو پریزینٹیشنز دی جاتی ہیں ، اس میں بھی یہ چیز سرایت کر رہی ہے یعنی اسے کیسے لائٹر نوٹ یا ، ہلکے پھلکے انداز میں پہنچایا جا سکے ۔ اس کے لیے ، مزاح لکھنے والوں کی ضرورت پڑرہی ہے ۔nnکامیڈی کلب کی اپنی ایک تاریخ ہے ، ان کے وجود میں آنے ، اور کافی سارے بند ہونے کی بڑی وجوہات میں ، محض بری انتظامیہ اور غیر دلچسپ /بور کرنے والی پرفارمنس سر فہرست ہیں nاور جو باقی رہ گئے ہیں ان کا رجحان مکمل طور پر کاروباری ہے ، یعنی مختصر ا یہ کہ ، nپیسے اور سٹیج پرتک پہنچنے کے لیے کچھ بھی کروں گا۔
نئے /ناتجربہ کار/ پھکڑ باز/غیرمزاحیہ ، خود کو مزاح نگار کہنے اور سمجھنے والے اب اتنے سیکور یا محفوظ ہوچکے ہیں کہ ان میں بھی اجتماعیت آگئی ہے ، یعنی آپ انہیں کچھ کہیں تو پورا جتھا آپ پر یونین کے مزدوروں کی طرح چڑھ دوڑتا ہے ۔ nمزاح کی باقاعدہ تعلیم ،کا فقدان اپنی جگہ ، لیکن ایک بنیادی ضرورت اس چیز کو سمجھنے کی ہے nکہ اگر آپ nحقیقی طور پر ، مزاح نگاری ، لکھنا/پرفارم کرنا سیکھنا چاہتے ہیں تو، nدو بنیادی باتیں سمجھنے/جذب کرنے کی ضرورت ہے ۔n لوگوں کے پھینکے گئے ، کچرے کو خود پر سہہ کر موٹی کھال کا ہوجانا اور اس میں خوش رہنا۔
پھرتیلا دماغ۔
ایک چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں ۔
ایک کھوتا ، خشک کنوں میں گر گیا ، کسان نے اسے نکالنے کی کوشش کی ، لیکن ناکام ، وہ سمجھ گیا ، اسے اب اپنی یہ غلطی سدھارنے کے لیے ، اسے زندہ دفن کرنا پڑے گا ۔
اس نے پڑوسیوں کو بلایا اور وہ سب مل کر اس پر مٹی ڈالنے لگے ، پر کھوتا ، اتنا بھی کھوتا نہیں تھا ، اس نےمٹی جھاڑنی شروع کردی ، جتنی وہ پھینکتے ، اتنا ہی ہو جسم کو تھرتھرا کر مٹی جھاڑ دیتا۔
اس طرح ، مٹی کا ڈھیر بڑھتا گیا اور وہ آہستہ آہستہ اوپر آتا گیا۔اور ایسے وہ باہر آگیا۔
لوگ اس کہانی کا استعمال اس کانٹیکسٹ میں کرتے ہیں کہ ، انسان اگر خود پہ کی گئی ، تنقید، کچرا/مٹی /تنقید/ طعن و تشنیع کا استعمال ، کھوتے کی طرح مٹی جھاڑنے کے لیے کرے ۔
اور کوشش جاری رکھے ، تو ایک دن وہ اس تنقید اور کنویں سے بلند ہوجاتا ہے ، آزاد نہیں ، بلند۔
کہانی ٰیہاں ختم نہیں ہوئی ، ایک انجام اس کا خوشگوار تھا ، nلیکن کھوتے نے ، کنویں سے ، باہر آنے کے بعد ، کیا کیا؟
اگلے جملے ، اس موٹی ویشنل کہانی میں ، مزاح ڈال کر ، سبق ہی بدل دیں گے ۔
وہ کنویں سے باہر آتے ہی ، اس کسان کو کاٹنے کے لیے دوڑا اور دولتیاں مار مار کر ،اس کا حشر کردیا
اب اس کہانی سے کیا سبق ملتا ہے ؟
غلطی کربیٹھو تو اسے کور کرنے کی احمقانہ حرکت نہ کرو،ورنہ وہ غلطی آپ کو کاٹ کھانے ضرور آئے گی۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.