خود کو لکھنے پہ کیسے مائل کریں۔nnپوسٹ – 3nnکچھ بھی لکھنے کے لیے کسی بھی طرح کے ،محرکات استعمال کرنے کی، چار بنیادی /مرکزی وجوہات ہوتی ہیں۔nnپہلی وجہ nnبھئی ،آپ کو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا، آغاز کہیں نہ کہیں سے تو کرنا پڑے گا، بجائے اس کے کہ، آپ گھنٹوں بیٹھے، ایک سادہ کاغذ، کو گھورے جا رہے ہوں،n اور ایک پیراگراف بھی نہ لکھ پائے ہوں۔nn آپ کو لکھنے کے لئے ،کچھ نہ کچھ کو قوت مہمیز یعنی تخیل کی تحریک چاہیے ہوگی۔n سادہ کاغذ کو گھورتے رہنے سے تو بہتر یہی ہے نا کہ ،
ایک غیر متعلق /بے ربط/ رینڈم/متفق، قوت مہمیز یعنی،ایسے کسی جملے، کسی لفظ ، یا کسی پیراگراف پر، فوکس کیا جائے،n جو آپ کو لکھنے پر مجبور /مائل کر سکے۔
کیونکہ کم ازکم اس سے آپ کے دماغ میں لکھنے کی حس ںہرحال ایکٹی ویٹ ہوگی۔
اپنے دماغ کو اس بات پر مائل کیجئے،۔کہ آپ کم از کم، دس منٹ تک، اس متعلقہ، غیرمتعلقہ ،رائٹنگ پلاٹ، پر لکھتے چلے جائیں ۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ، ایسا کرنے سے،ممکنہ طور پر یہ بھی ہوسکتا ہے، کہ آپ، ایسی مشق کرنے سے، اپنے ذاتی، بنیادی اور مرکزی آئیڈیا کی طرف لکھنے کے لیے بھی مائل ہو جائیں۔n جس پہ آپ قوت مہمیز یعنی تحریک سے بھی پہلےسے لکھنا چاہ رہے ہوں، لیکن، آپ کا موڈ نہیں بن پا رہا ہو،ایسی مشقوں کا، بہرحال مقصد یہی ہوتا ہےnn یعنی پہلے بھی آپ کے پاس، اپنا آئیڈیا شعوری طور میں بہرحال موجود ہوگا، لیکن اس کا آغاز کیسے، کہاں ،کب، کس طرح ہو۔ یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہوتا۔nnمختصرا یہ کہ،
بنیادی بات یاد رکھیے اور وہ یہ کہ ۔n ہر کہانی ،ہر افسانہ ، ہر فلم, ہر ڈراما گنتی کے چند موضوعات /تھیم/جانرا یعنی صنف پر مشتمل ہوتی/ ہوتا یے، اصل کھیل ،اس کے اندر، موجود پلاٹ، ٹوئسٹ، کلائمیکس موڑ ،اتار ،چڑھاؤ، نشیںب ، فراز وغیرہ سے کھیلنے کا ہوتا ہے ۔
پوسٹ – 2019-10-14
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد