ڈنگر سے لنگر تکnnدنیا ویلفئیر اسٹیٹ کو پسند کرتی ہے
اندر سے ننگے ہو، پر چہرے پہ، شٹل کاک ، افغانی برقعہ ہونا چاہئے،ایسا ہے یہ معاملہ۔
عوام بھی حکمران بھی، ملک کوئی ہو، لیکن فارمولا ایک ہی رہتا ہے
گندے سب ننگے سب۔ لیکن محفل میں فرنچ فیشن پہ فریفتہ۔
سوسائٹی سیکس فری ہو، لیکن ،بل کلنٹن مونیکا کو ہاتھ نہیں لگا سکتا
لگا لیا، اور رپورٹ باہر آگئی تو کہانی ختمnnاس لیے،
عشروں کے کہرام کو، قورمے سے دھونا ایسے ہی نہیں ہے ، nپہلے آپ دنیا کی نظروں میں، مدرسہ تھے شدت پسند تھے ، اب کارپوریٹ سیکٹر بننا ہے، تو جھلسے ہوئے منہ پہ، ویلفیر، انسانی ہمدردی، بھوکوں کو کھانا nوالا چہرہ تو لگانا پڑے گا، وہ بھی بحیثیت سربراہ، ۔nnوہ کیا کہتے ہیں، ہیومین ٹیریین گراؤنڈز پہ تو ،گھسنی ہی ہوگی۔
آپ ٹاکی ہو، صرف جھاڑ پونچھ کرنے آئے ہو۔
وہی کروائی جا رہی ہے۔nnیہ گزشتہ چالیس سال پہ پھیلی ہوئی ڈنگر خانے سے کنجر خانے اور پھر لنگر خانے تک پہنچنے کی ٹرانسفارمیشن ہے
جو ابھی تیسرے فیز میں ہے۔nnسو اب آگے دیکھتے ہیں، ہوتا ہے کیا
پوسٹ – 2019-10-08
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد