عورتیں تو ہوجائے ایک سائیڈ میں
ان سے تو منطق اور دین کی بات کرنا محض وقت کا ضیاع ہے
کیونکہ ان کے خمیر میں ہے کہ nبات اگر درست ہو تو سمجھاو نہیں،بلکہ منوا لو ۔nn بات کرتے ہیں ان مردوں کی بلکہ شناختی کارڈ کے حد تک متعدد مرد حضرات کی،
جن گلابی غریبوں کو چار شادیوں کی تعداد سنتے ہیں نماز کی سنتیں یاد آجاتی ہیں،
چاہے نماز بھی محض عید کی اس لیے پڑھتے ہو کہ اس میں سویاں یا گوشت ملتا ہےn ان سب سے یہ کہنا ہے
اے اس قوم کے nSissy Males nیعنی گلابی مرد حضرات
اگر بات سنت کی آئی اور موازنہ نماز کی سنتوں سے ہوتا ہے تو ایک سیدھی سی بات ہے کہ،n سنت تو پھر گیارہ کی تھی ،n کتنی نمازوں میں سنت پوری کرواؤ گے گیارہ کی تعداد پوری کرنے n؟
بات یہ ہے کہ تم جیسے جتنے بھی ہیں ان کی کی پہلی بمشکل ہوتی ہے اس لیے دوسری کی خواہش تو رکھتے ہوئے بھی بات کرتے ہوئے بہرحال جان جاتی ہے۔۔nnسب سے زیادہ مزے کی بات یہ ہے، دوسری شادی کے اوپر اپنی رائے آئیے اکثر اوقات زیادہ تر وہ دے رہا ہوتا ہے جس کی پہلی بھی نہیں ہوئی ہوتی یا دور تک ہونے کا کوئی چانس نہیں ہوتا خیر آج کل کے نوجوانوں کا یہ بڑا کامن مسئلہ ہے
دسویں جماعت میں سپلی ہو ہو لیکن باتیں میں نے پی ایچ ڈی کی کرنی ہے
پوسٹ – 2019-09-18
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد