پوسٹ – 2019-09-16

زندگی کا دھیما پڑتا انجن، پھر سے رواں کیجئے۔nnپوسٹ – 6nn اگر آپ تعلقات کے معاملے میں، ایک کلیدی اصول کی پاسداری نہیں کرتے۔n یعنی خود پر انحصار زیادہ سے زیادہ، اور دوسروں پر کم سے کم۔nnتو آپ کی یہ ذہنی حالت /کیفیت یا طبیعت اس وقت بھی ایسی ہی رہے گی،n جب آپ کسی پسندیدہ ترین شخصیت سے تعلقات کا آغاز کریں گے۔
اور اس کلیدی اصول کو خود پہ لاگو نہ کرنے کی صورت میں، لامحالہ آپ اس شخص، اور اس تعلق کو بھی سبوتاژ کردیں گے ۔n ،کیونکہ تعلقات کے معاملے میں، نہ پہلے آپ کا کوئی اصول تھا اور نہ ہی ،اس وقت ہوگا nتو ثابت یہ ہوا کہ، تعلقات بنتے رہیں گے، تعلقات ٹوٹتے رہیں گے اصول مسلمہ رہتے ہیں، اور رہنے چاہئیں۔nnاصول کیا ہوتے ہیں ؟nnاصول، ایک ایسا بنیادی/مرکزی سچ ہے، جس کے گرد آپ اپنی زندگی کی بنیاد کھڑی کر سکتے ہیں
اصول، کوئی خاص موقف یا عقیدہ وغیرہ نہیں ہوتا
یہ بنیادی طور پر کاز یعنی وجہ، اور افیکٹ یعنی اثر کا معاملہ ہوتا ہے nnیعنی واقعہ/حالات اور اس کی وجوہات۔nnاصولوں کو آپ ،ذاتی ہدایت ناموں، یعنی پرسنل گائڈ لائنز ،کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔nnمثال کے طور پر nn پیسوں، اخراجات اور معیشت سے متعلق چند اصول یہ ہوسکتے ہیں۔nnمستقل ہونے والے خرچوں یعنی اوور ہیڈ ایکسپینس کو ،کم سے کم رکھیے ۔nnقرض سے باہر نکلئے اور باہر ہی رہئے۔nnہر مہینے کوشش کیجئے کہ ،
جتنا آپ اس مہینے کمانے میں، کامیاب ہوئے، خرچ اس سے کم رکھئے۔ nnمشکل وقت کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ ، بچا کر رکھئے ۔nnماہرین معاشیات کا اس ایک اصول پر، کلی اتفاق ہے کہn پیسوں کے معاملے میں کہ،n ہر اصول کا اور قاعدے کی بنیاد،
قرضوں کی ادائیگی سے ڈالی جائے،اس سے آپ کا ذاتی بجٹ اور بینک بیلینس صحت مند رہتا ہے۔nnخاص طور پر، سودی قرضوں سے تو ،کوسوں دور رہیں۔n کیونکہ، پچیس تیس سال بعد، اس کی رقم پہاڑ جتنی محسوس ہوگی چاہے وہ آپ واپس کر چکے ہو۔nnاصول پرستی کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ،
یہ عادت ، آپ کو مختصر المعیاد کے بجائے، طویل المدتی بقا کی طرف مائل کرتی ہے۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.