زندگی کا دھیما پڑتا انجن، پھر سے رواں کیجئے۔nnپوسٹ – 7nnکیا آپ اتفاق کرتے ہیں کہ ، زندگی میں بہت سی چیزوں، بلکہ تمام چیزوں پر اصولوں کی ہی حکمرانی ہوتی ہے۔nnاصول قدرت قوانین جیسے ہوتے ہیں،
یہ فطری اور قدرتی ہوتے ہیں،
ان کی ماہیت آفاقی ہوتی ہے۔
یہ اقدار یا جذبوں کی طرح نہیں ہوتے،
جن میں ذاتی عقائد اور کیفیت مدغم ہوں
بلکہ، اصول، حقیقت پسندی پر انحصار کرتے ہیں،
کتنے ہی تلخ حقائق ہوں، کیفیت کا کوئی کام نہیں ، اصولوں کی پاسداری میں۔
کشش ثقل کو ہی لے لیجئے، وہ ایک مسلمہ اصول پر کاربند ہے کہ کوئی چیز گرے گی، تو گریو ٹی اسے اپنے تمام پیمانوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یے کنٹرول کرے گی۔nnبالکل ایسے ہی،
ہم خود پر ایک اصول لاگو کرلیں۔
کہ ہم ،روزانہ صحت بخش غذا کھائیں گے, تو یہ بات یقینی ہے کہ ہم اس کا فائدہ /نتیجہ، اچھی صحت کی صورت میں دیکھیں گے۔nnبالکل ایسے ہی اگر خود کو اس اصول کا پابند کرلیں کہ ،
ہم روزانہ ایک فقرہ لکھیں گے، تو ایک دن ،کتاب مکمل کر چکے ہوں گے
اور تو اور، ہم یہ طے کر لیں کہ
ہر مہینے اپنے قرضوں کا کچھ حصہ ادا کردیں گے تو آخرکار ،ان کو مکمل طور پر اتارسکیں گے۔
اور اگر ہم مناسب اور عقلمندانہ سرمایہ کاری کریں، تو یقینا وہ ہمیں فائدہ دے گی۔
پوسٹ – 2019-09-16
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد