زندگی کا دھیما پڑتا انجن، پھر سے رواں کیجئے۔nnپوسٹ – 3nnیہاں موضوع ،حالات، معاملات ،مشکلات، آسانیاں یا مواقع نہیں nبلکہ مدعا یہ ہے کہ ، آپ کا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ کیا ہے، آپ کا چیزوں کو سمجھنے کا زاویہ کیسا ہے ،
آپ مشکلات کا سامنا ردعمل سے کرتے ہیں ، یا ایک سوچے سمجھے متوازن رسپانس سے کو اپناتے ہیں۔
یا پھر تعلقات نبھانے یا ان پہ کلہاڑا چلانے کے معاملے میں آپ کی ترجیحات یا سوچ کیا یے۔
رکھنا یے یا ٹھڈا مار کر ختم کرنا یے۔۔nnیہ سب چیزیں کچھ اصولوں کے گرد گھومتی ہیںn اور وہ اصول آپ نے خود پہ لاگو کرنے ہوتے ہیں۔nnدنیا پہ نہیں۔
مثلا اگر مالی مسائل کی بات کی جائے تو،
ایک بات واضح طور پر سمجھ لیجئے، کہ جو شخص پانچ لاکھ روپے کماتا ہے ، ممکن ہے وہ ، قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو ،
اور اس کو چکانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہو۔n بالکل اس کی طرح جو شخص پچاس ہزار روپے کما رہا ہوں لیکن اس کے اوپر کوئی قرض نہ ہوnnاور کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایسا آپ کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ تواتر سے ہوتا ہے
یہی عمومی نظریہ یا سوچ ہے کہ،جن لوگوں کی تنخواہیں آمدنی کم ہے، صرف انہیں چاہیے کہ وہ جمع خرچ میں ذرا دیکھ بھال کریں
اسی طرح، جو لوگ زیادہ پیسے کماتے ہیں ، ان کے بارے میں ایک زاویہ نگاہ یہ رکھا جاتا ہے کہ شاید، وہ پیسے بچانے کے اصولوں کی پاسداری سے، آزاد ہیں۔nn ایسے لوگ سیونگ/ بچت کے اصولوں سے اکثر احتراز بھی کرتے پائے جا رہے ہوتے ہیں ۔کہ ہم تو جی بہت زیادہ کماتے ہیں
ہمیں کیا پڑی بچت کی۔
پوسٹ – 2019-09-13
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد