جس قوم کے پبلک بیت الخلا میں، آج تک سستی جگت بازی جیسے کہnnاوے دنیا چاند پر پہنچ گئی اور تو یہیں بیٹھا ہے
زور لگائیں ،وقت بچائے
لڑکیوں کے فون نمبر
وہ بھی غلط
نیوڈ سکیچز nحتی کےمساجد تک کے واش روموں میں، مسلکی غلاظت
اور یونی ورسٹیوں کے بیت الخلا میں،
محبت بھرے اشعار
ٹھرک کا اظہار
موجود ہو، nغضب خدا کا، دیواروں کے کان ہوتے ہیں تو سنا تھا، لیکن دیواروں کا ایسا گندا اور گھٹیا چہرہ بھی ہوتا ہے، یہ بہرحال اس قوم کے پبلک بیت الخلاوں میں، اپنی آنکھوں سے دیکھا ہےnnبھارت کے ہاں سونچالےنہیں ہیں،
ہمارے تو اذہان سونچالے بن چکے ہیںnnاور ہم لوگ، پڑوسی ملک یعنی، بھارت کے خلاءمیں کچھ کلومیٹر سے ناکام مشن پر اسے جگتیں لگا رہے ہیںnnاحمقوں/ مسخروں کی ریاست غلیظہ کے بے تاج اور بلا مقابلہ منتخب بادشاہوں۔
یہ صرف ان کی ناکامی نہیں، ہے یہ سائنس کی، یہ انجینئرنگ کی یہ ٹیکنالوجی کی ،یہ ذہانت کی، یہ تخلیق کی، عزم کی پیشانی جھکنے کا لمحہ تھا۔
جسے تم لوگوں نے اپنی کھوکھلی کامیابی بنا کر، پوری دنیا میں حتی کے بی بی سی تک پر پر اپنا تماشا لگوایا ۔n ٹھیک ہے، تم لوگ مسخرے ہو ،اور تم پر مسخرے ہی حکمران ہے لیکن اگر، تھوڑی سی انجینئرنگ اور ذرا سی انسانیت، تم لوگوں میں باقی ہے ،تو سوچنا، ضرور سوچنا، کہ چاند پر اترنے کا ناکام مشن ، محض اس لئے ذلت انگیز ہے کہ وہ انہوں نے کیا۔
اگر ایسا کوئی مرحلہ یہاں پر ہوتا ،تو تم لوگوں نے ، سستے موٹیویشنل سپیکروں کی جگالی ذدہ ، پوسٹ کے ڈھیر لگا دینے تھے کہ کوشش تو کی نا، نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں قدرت کے ہاتھ میں ہوتا یے، کم ازکم کوشش کرکے تو ہارے نا نہ کوشش کئے بغیر تو لڑے بغیر تو ہار نہیں مانی نہ نہ اور یہی کام اگر بھارت کر رہا ہے تو تم اور تمھارے کھوتے وزیر اس کا مذاق بنا رہے مذاق تم اور تمہاری پوری نسل بن رہی ہے سمجھے nکون لوگ ہو تمn کہاں سے آتے ہو تمnnیہ لوگ بھی کیا۔لوگ ہیں
مر کیوں نہیں جاتے
پوسٹ – 2019-09-08
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد