پختہ ذہن کی محبت، ڈائن ہوتی ہے، سب سے پہلے دل نکال کھاتی ہے، اور پھر کیفیات کو مٹھی میں نچوڑ کر، ان میں تیزاب آلود ملامت بھر کر، ان پہ سحر، پھونک کر، ان احساسات کو، کھال، مساموں، نسوں شریانیوں پر اوڑھ دیتی ہے، پھر دل کی جگہ ، مہیب خلا ہوتا ہے ، جس سے آتی کریہہ دھڑکنیں واہمہ بن کر، روگ و پے میں رودھالی ہوجاتی ہیں۔۔nnنوٹ : یہ لکھنے کے بعد ، میں نے شکر ادا کیا، کہ میں ٹھرکی ہوں۔

اترك رد