پوسٹ – 2019-08-22

ابا پٹواری ہیں nتحریر : صہیب جمالnnہم ایک تقریب میں بیٹھے تھے اور آج کل جاری تاریخی مہنگائی پر پریشانی کا اظہار کر رہے تھے ، ہمارے درمیان ایک پچیس چھبیس سال کا جوان بھی بیٹھا تھا ، ہم بچوں کی فیس ، بجلی کے بل ، راشن کے ریٹس اور سب سے بڑھ کر بزنس کم ہونے پر تبادلہء خیال کر رہے تھے ۔
اس جوان کے چہرے کے تأثرات بدلتے جا رہے تھے ، اچانک وہ پھٹا اور کہنے لگا “پچھلے لوگوں کی چوری اور کرپشن کی وجہ سے ملک تباہ ہوا ہے ، ایک سال میں وقت نہیں بدل سکتا ، تھوڑا صبر کریں ، چوروں کو خان گھسیٹ رہا ہے ، تبدیلی آپ لوگوں کو راس نہیں وغیرہ وغیرہ ” وہی فیس بکی دلائل جو ہم روز فضائل مہنگائی یا گرتی معیشت کی رحمتوں کے نام پر سنتے ہیں اور ایک جیسی باتیں سن سن کے کان بھی پک گئے ہیں ۔
ابھی میں کچھ کہتا ایک ادھیڑ عمر صاحب اس کے پیچھے کھڑے اس کو سنتے رہے اور گھما کر گُدی پر تھپڑ مارا اور کہا “الو کے پٹھے ، پوری رات فیس بک اور واٹس ایپ میں گھسا رہتا ہے ، یوٹیوب پر فلمیں دیکھتا ہے ، تین بجے اٹھتا ہے تو کبھی شام چار بجے ، بیچلر مکمل ہوا نہیں فیل ہو رہا ہے ، صرف پیسے ڈبو رہا ہے ، یہاں بیٹھ کر معیشت اور تبدیلی پر لیکچر دے رہا ہے ، باہر نکل دو پیسے کما تب پتہ لگے آٹھ افراد کا کنبہ کیسے چلتا ہے ؟ تو کون سا گھر چلا رہا ہے جو ان کو صبر کا کہہ رہا ہے ؟ اپنی زندگی میں تبدیلی لایا نہیں اور ملک میں تبدیلی کی بات کرتا ہے ” nپھر وہ ہماری طرف گویا ہوئے “تم لوگ مجھے جانتے ہی ہو کب سے دواؤں کی کمپنی میں کام کر رہا ہوں اوور ٹائم لگاتا ہوں ، ایک سال سے اوور ٹائم بند ہوگیا ہے ، کمپنی کہتی ہے کام ہی کم ہے تو اوور ٹائم ورک کیسا ؟ بارہ ہزار کی کمی ہوئی ہے اور اخراجات میں اتنی رقم کا اضافہ بھی ہوگیا ہے ، یہ ہڈحرام تبدیلی آئی رے پر ناچتا ناچتا آج یہاں سب کو تبدیلی کے دلاسے دے رہا ہے ” یہ سب کہتے ہوئے ان کی آنکھیں بھر آئی تھیں اور وہ جوان تبدیلی کا چورن فروش موبائل میں جھکا کسی کو اپنی پوسٹ پر تبدیلی کے لیے دلائل دے رہا تھا ۔
ہم نے کہا “سن نہیں رہے کیا کہہ رہے ہیں ابّا ” nاس نے جھکے جھکے کہا “پٹواری ہیں “

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.