سب کی بات نہ بھی کروں ، تو ، اکثر پیٹ بھرے افراد ہی ، نسبتا زیادہ حب الوطن اور مطالعہ پاکستان کے مریض ہوتے ہیں ۔nnچلو بچوں / لڑکوں کاسمجھ میں آتا ہے ، کہ ان کے لیے یہ بہتر بھی ہے ، کسی حد تک ، کہ بہت زیادہ ، کم عمری میں ، پازیٹو رہنا بھی چاہئے، لیکن ایک مخصوص عمر کے بعدآنکھیں نہیں کھلتی ہیں تو سمجھو پیٹ بھر گیا، nnیقین کریں ، یہاں حب الوطنی کا کوئی تعلق، ایمان و یقین سے نہیں ۔nnپالش چاٹنا ، حب الوطنی نہیں ، اور بھوکے پیٹ نعرے بازیسے کچھ نہیں ہوتا۔ اور جو ، فوکس ہو کر، کام کرتے ہیں ۔ ان کو ان چیزوں کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ، اور فرق بھی نہیں پڑتا۔ زیادہ وہی اچھل رہا ہوگا، جس کو پانچ چھ دن ، کھوتے کی طرح کام کر کے ، ایک دو دن ایسے مواقع پر چھٹی مل جاتی ہے ، اور جنہیں معلوم ہوتا ہے کہ ، ان کی نوکری محفوظ ہے ، اور لگی بندھی چلی آرہی ہے ۔۔ اس لیے ایسے افراد جگہ جگہ ، غیر ضروری طور پر حب الوطنی کردیتے ہیں۔nnنوٹ: اور ہاں ، نوٹ کیجئے گا ، جو جتنا زیادہ غیر متعلق ہوگا، پاکستان اور پاکستان کے معاملات سے ، وہ ، اتنی ہی زیادہ ، سبز چل رہا ہوگا، اپنے آپ میں ۔۔جو ، جتنا دور ہوگا، اتنا زیادہ قربت بھگارے گا۔

اترك رد