جب آپ اپنی متعلقہ معاملات میں ، ہنر اور صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں ، تو آپ ہر اس چیز اس میں منہ مارتے ہیں ، جس کا آپ سے کوئی براہ راست لینا دینا نہیں ہوتا، نہ ہی آپ کے کہنے سے اس کو کوئی سنجیدہ لیتا ہے ۔
عوام سے اشرافیہ ، سب کا یہ یہی سین ہے ۔
فوج چیف جسٹس بنواتی رہی ہے nچیف جسٹس ڈیم بنواتا رہا ہے nnیہ تو دو پرایمننٹ مثالیں ہیں ، nلیکن ، یہ مثالیں بندہ تب دیتا اچھا لگتا ہے ، جو ، خود اپنے کام سے کام رکھے nہر ثاقب نثار کو بار بار ، غیر متعلق کہنے والے ، تمام کے تمام افراد ، کیا خود بھی یہی نہیں کرتے رہے ؟ یعنی جو ان کا کام نہین ، اس میں بار بار بولنا nفوج کی سیاسی مداخلت ،اب فیشن کی طرح سب کی زبان پہ ہے nایجنسیوں نے سینٹ میں یہ کیا وہ کیا ، وغیرہ وغیرہ nیہ باتیں کرنے والے جتنے بھی پاکستانی عام عوام ہیں nان میں سے کتنے افراد ایسے ہیں جو ، nاپنی اپنی فیلڈ کے ماہر ہیں اور اس پر ڈسکشن کرتے ہیں nاور اگر نہیں ہیں تو پھر دوسرے معاملات میں گھسنے کی وجہ nجس طرح ، میں صحافی نہٰں ہوں ، لیکن سوال اٹھا کر وہی حرکت کر رہا ہں خیر nتاریخ بھری پڑی ہے ، اب دیکھو نا ، میرا کوئی کام نہیں تاریخ سے ، لیکن میں نے پھر بھی مثال دے دی 🙂 nجیسے موٹی ویشنل سپیکر، کا ہر چیز کو ہائی لائٹ کرنا ، جس کو اس نے خود بھی ایکسپیرنس نہ کیا ہو، صرف کتابیں پڑھ کر کہانیاں سنا رہا ہو،
خیر، بات در اصل یہ ہے کہ مجھے تو یہ جاننا ہے ، عوام کا لینا دینا کیا ہے ، سیاست سے ؟ جو سیاست پر لگے رہتے ہیں ؟
کیا یہ لوگ اپنی اپنی فیلڈ میں اس قابل ہیں ؟ کہ اتنے ڈسکشن کر سکیں ؟
اگر ہوتے ۔ تو سیاست پر لگے ہوتے ؟nnنوٹ: جیسے مجھے نہ لکھنے کا علم ہے ، نہ نفسیات کا ، نہ عورتوں کی سمجھ ، میں ہر وقت انہی دونوں چیزوں پر لگا رہتا ہوں ، عورتوں پر نہیں لگتا، وہ بھی نہیں لگتیں :'(nnایک اور نوٹ: پلیز کوئی مذہبی چوڑا ، مجھے سیاست عبادت والی کہانی نہ سنائے ۔
پوسٹ – 2019-08-05
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد