دو مفید عادات nnایروبکس، یعنی ، یوگا ، ایکسرسائز، اور سانس کی مشقوں کو اپنائیے، ان سے آپ کی ذہنی و جسمانی کیفیت پہ بہت فرق پڑے گا۔۔nnیہ چیزیں، جسم ڈوپامائین نامی کیمیکل کی پیداوار بڑھاتی ہیں جس سے لامحالہ، نیند، موڈ، یادداشت، وغیرہ پہ بہت مثبت اثر پڑتا یے اور تو اور ، ایروبکس، آپ کی تخلیقی صلاحتیوں کو بھی نکھارتی ہیں۔ nnیاد رہیے کے ڈوپامائین کی قلت nڈپریشن
جسم میں درد
مضمحل اعصاب nتوازن کا قائم نہ رہ پانا
موڈ سوئنگ
فوکس زیرو ہوجانا
ناامیدی کی کیفیت طاری رہناnnخود شناسائی سے دور ہوجانا
اور nہر وقت پر مژدگی چھائے رہنے جیسے مسائل کا سبب بھی کہی جاتی ہے۔nnایروبکس کے بعد، دوسری مفید ترین عادت، کوکنگ ہے، یا کم ازکم ،اپنا کھانا خود ،تیار کرنے کا شوق، گرم نہیں ۔۔ تیار nnبہرحال ،اپنا کھانا خود بنانا بھی، تخلیقی صلاحیت اور صحت دونوں ںڑھاتا ہےnnنوٹ : nnپاکستانی گھٹیا اور کم ظرف دو نمبر فےمینسٹ کو تھوڑی سی عقل ہوتی ہو تو وہ عورت مارچ میں ڈوپامائین ڈال کر ، مردوں کو، سائنس واسطے ، کوکنگ پہ لگا سکتی تھی۔۔۔ nnخیر زنانے کھسروں نما عورتوں سے عقل کی آس ویسے ہی بکواس ہے۔
ویسے، سب کی بات نہیں کرتا، پر پاکستان میں اکثر اوقات جنہیں کوئی چھیڑتا نہیں، ان کی پیاس انہیں فے مینسٹ بنا دیتی ہے، nخیر ، میں تو خود سے یہ کہتا ہوں۔۔۔
مجال ہے، ان کے، جلسے جلوسوں میں، کوئی ایک ڈھنگ کی بوتھی نکل آئے، جسے خوب صورت تو کیا، عورت ماننے پہ بھی مائل۔ہوجائں، چھیڑنا تو اگلا لیول ہے
یار ان کی شکلیں ہیں چھیڑنے یا ہراس کرنے والی nبہرحال اس موضوع پہ پنگا پھر سہی۔۔
پوسٹ – 2019-07-24
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد