اپنی مرضی سے باہر جا کر، نیلا لال ہرا پاس پورٹ لینے کے لیے، دوسرے درجے کا شہری بن کر
پاکستان سے باہر ، شہریتیں لے کر خود وہاں کی ساری سہولیات انجوایے کر کے، ان کے رزق پہ پلتے ہوئے یہ کہتے رہنا کہ پاکستان میں رکھا ہی کیا ہے، اور جب اولاد جوان ہونے لگے تو واپسی کے لیے پردیسی رنڈی رونے ڈالتے یہ کہنا کہ اپنا کلچر اپنا کلچر ہی ہوتا ہے، اور واپس پھر ںھی نہ آنا اور اس سب کے باوجود، بجائے غیر ملکی کے، بیرون ملک پاکستانی کہلوانا ایسا ہی ہے جیسے ، سگریٹ کے ڈبے پر ، کینسر کی ڈراونی تصویریں بنوا کر، حکومتی سرپرستی میں بیچ کر کہنا کہ
تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے ۔
پوسٹ – 2019-07-22
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد