فی سبیل اللہ کام ہے، زیادہ پیسے نہیں دے سکتے ، اللہ کے لیے کریں گے تو آخرت میں اجر ملے گا۔ nکیوں ؟ اللہ کی راہ میں پیسے نہیں نکلتے ؟ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اللہ کے لیے کام لے رہے ہو تو ، دنیاوی پیمانوں سے زیادہ پیسہ دو، وجہ ؟
ارے اللہ کا کام ہے نا ؟ تو اگر تم کسی کے رزق کا سبب بنو گے، اسے اللہ کا کام کرنے کا پیسہ زیادہ دوگے تو وہ تمھیں ریٹرن بھی تو اچھا دے گا، وہ کیا سناتے ہو تم لوگ، ووٹ کے لیے ارینج کیے درس قرآن/حدیث میں تم لوگ ؟ گندم کے خوشے والی ؟
خود پہ اپلائی کرتے کیا ہوتا ہے ؟
یہ جو معاشرے میں ذلت ہے وہ اس لیے ہے کہ تم نے نظریے کو ،کارکن کا پیٹ کاٹنے کا بہانہ بنا لیا ہے، اس لیے تمھاری سوچ محض جمعرات کی روٹی جتنی رہ گئی ہے۔ nایک کام کرو، یہ چھوڑو سیاست ویاست، اللہ کا نظام یہ سب سائڈ کرو، سیدھا سیدھا فرقہ پرست ٹایپ کا ایسا مدرسہ کھول لو جو قرا اور حفاظ کا استحصال کرتا ہو، اللہ کے نام پہn کیوں کہ مائنڈ سیٹ ویسا ہی ہے تم لوگوں کا، صدقہ زکوات خیرات
شرم نہیں آتی ، طاغوت کے مقابلے کی باتیں کرتے ہو، اور بھوک تقسیم کرتے ہو اللہ کے نام پہ، nیہ جو تمھارے اخبار رسائل ہیں ان میں اللہ کے نام پہ اشتہار چھاپتے ہو یا قیمت وصول کرتے ہو ؟n یہ جو اجتماعی قربانیاں یا جلسے جلوس یا ماہانہ بھتہ وصولی ہے یہ کس کھاتے میں لیتے ہو ؟ اللہ کے نام پہ لیا گیا مال nوہی جب ریٹرن کرنے کا وقت آتا ہے تو فی سبیل اللہ کہہ کر کارکنوں کی آنتوں کو قل ہو اللہ کی تلقین کر کے آخرت کی مارکٹنگ کرتے ہو
باتیں استعمار سے مقابلے کی۔n گویا مرسیڈیز سے ریس لگانی ہے لیکن ٹرائی سائیکل پر بیٹھ کر، ،توکل علی اللہ کا ورد، وہ بھی صرف کارکنان کے لیے۔ nکارکن بھوسی ٹکڑے، اور رہنما شیرمال۔
پوسٹ – 2019-05-09
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد