پوسٹ – 2019-05-09

ایسا کیا کیا جائے کہ کوئی بھی پوسٹ کی جائے اورسوال نہ ہو nnایک آپشن ، اگر کسی گروپ میں ہو تو ، کمنٹ آف کردینا ہے ، لیکن یہ بدتمیزی لگتی ہے ، فیس بک چھوڑ چکا ہوتا ، پروفیشنل مجبوری ہے ، اس لیے نہیں چھوڑ سکتا– nnلوگوں سے میل جول کی کمی کرچکا، گفت شنید بند کرچکا، یعنی اوائڈ کرتا ہوں ، وجہ وہی ، سوال اگر مگر چونکہ چناچہ ، nnمجھے یہ برا نہیں لگتاnnبس میں سوال سننے اور اس کا جواب دینے کی اہلیت سے فارغ ہوں ، دماغ پراسیس ہی نہیں کرپاتا کہ فلانی بات کو کیسے انٹرپریٹ کر کے کیسا جواب دینا ہے ، خاص طور پر سوال جواب یا چونکہ چناچہ اگر مگر کو ، nnاس لیے جب پراسیس نہی کرسکتا تو فطری طور پر چاہتا ہوں ، نہ کوئی سوال کرے نہ کوئی چونکہ چنانچہ ، nسوال جواب تو چھوڑو وہ انسان کے دماغ میں فطری طور پر جنم لیتے ہیں ، اس کو نہیں روکا جاسکتا ، میں بس اتنا کہتا ہوں کہ میرے پاس آپ کے سوالوں اور اگر مگر چونکہ چنانچہ کا جواب نہیں ، تو مجھ سے نہ پوچھا کریں nباقی اگر مینشن کی بات کروں تو ، اس قوم نے کیا سدھرنا جس نے محض اتنی سی بات کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہو کہ جتنا منع کرے گا اتنا ہی مینشن کریں گے ، کیا ہے ، معذرت تو ویسے بھی سستی طوائف ہے ، جب چاہو پیش کردیں گے ۔۔ خیر سوال جواب ، مینشن وغیرہ ایک طرف ، اب nاس کو کوئی مغرور ہونا سمجھے تو یہ اس کی مرضی ، میں بہرحال معذور سمجھتا ہوں خود کو- اس لیے برائے مہربانی ، مجھ سے سوال جواب سے گریز کیا کریں nnنوٹ: اس سے زیادہ ، تمیز ، بے چارگی اور نرمی نہیں بھر سکتا لفظوں میں ، اس پر بھی اگر کوئی قہقہے لگائے ، مذاق اڑائے ، ہنسی میں اڑا دے ، تو میرا خیال ہے مجھے واقعی کسی ماہر نفسیات کی ضرورت ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.