ذاتی طور پر مجھے عورتیں بہت پسند ہیں ، خصوصا وہ جو بے وقوف ہوں اور جنہیں اس بات کا ادراک بھی ہو کہ وہ بے وقوف ہیں ، حتی کے پسندیدگی کی معراج تو عورت کی وہ عقل ہوتی ہے جو اسے باور کرواتی ہے کہ اپنی بدھی ، اپنی عقل اپنی منطق، اپنے من پسند مرد کے سامنے الٹی چھری سے ذبح کر کے پھینک دے ، تو وہ تجھے عقل مند مان لے گا—ورنہ نہیں ، مرد کی یہ فطرت ہی نہیں کہ وہ عورت کو عقل مند سمجھے – دل میں چاہے مانتا ہو ۔ شرط بس یہی ہوتی ہے کہ عورت اپنی تمام تر عقل اپنی لمبی چوٹی میں سمو کر مرد کے گرد لپیٹ لے اور روبوٹ ہوجائے – ایسا بہت مشکل ہوتا ہے – اور ایسا ہوجائے تو مرد کے وہ سارے پیمانے جس میں اس نے عورت کو اپسرا کاروپ دے کر سوچا ہوتا ہے وہ پگھل کر بہہ جاتے ہیں اور پھر راج کرتی ہے وہ بظاہر بے قوف لیکن بلا کی عقل مند گلہری کہ جس کا اپنا دماغ مرد کے قدمو ں ، جس کی اپنی مرضی مرد کی بوٹ کی نوک پر ۔۔ لیکن اس کی اپنی مٹھی میں معلوم ہے کیا ہوتا ہے ؟ – جی ہاں ۔۔ مرد کا دماغ ۔۔ ہو سکتا ہےیہ بات سب پر لاگو نہ ہوتی ہے پر ہم تو بھیڑئیے اور گلہری کی بات کررہے ہیں ،، گلہری یہ بات سمجھ چکی تھی اور جذب بھی کر چکی تھی ۔۔ اس نے بڑے سکون سے “میں تیری غلام ہوں ” کہہ کر بھیڑیے پر کاٹھی ڈال لی ، اور سوار ہوگئی اب بھیڑیا سمجھتا کہ یہ مجھے فالو کرتی ہے، جبکہ گلہری یہ سوچ کراپنی دم جیسی چٹیا میں منہ دیے رکھتی ، اپنا پسینے والا دوپٹہ منہ میں دیے ہنستی ہے۔۔ کہ عجیب پاگل مرد ہے ۔۔ جاہل کہیں کا۔۔ اس بھیڑیے کو یہ نہیں پتا کہ میں اسے فالو نہیں کر رہی ۔۔ اس پر سواری کر رہی ہوں nnمجھے محبت کیوں نہیں ہوتی سے اقتباس

اترك رد