میری بے باکی کی پامالی کا سامان کرے کوئی nمجھے ویران کرے ایسے nجیسے بے نام بیاباں میں nبھٹکتا پانی کا قطرہ nمجھے سنسان کرے ایسے nجیسے یخ بستہ شب میں nتری گلی کا وہ کونا nمجھے اپنے پہلو کا مہمان کرے کوئی nمیں خلقت کی خلوت میں nکاسے توڑ ڈالوں گا ! nمجھے نوازنے پہ کوئی تو آئے nیہ احسان کرے کوئی

اترك رد