دربانn————————————nآج سے دو ماہ قبل ، پہلی بار اسے دیکھا تھا ، nاس وقت بھی ایک یا دو سیکنڈ دیکھ پایا تھا ، اور آج بھی ایسا ہی ہے ۔۔ nکیا ایسا ممکن ہے کہ حسن ، آپ اپنا دربان ہوجائے ؟ کیوں کہ آج بھی گذشتہ ، پانچ چھ گھنٹوں سے کوشش کررہا ہوں کہ اس خوبصورتی کو دیکھوں ، لیکن ہو نہیں پا رہا، ایک سے دو سیکنڈ ، بس اس سے زیادہ نہیں ، سوچ سوچ کر ادھ موا ہوگیا ہوں کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کسی عورت کے ہونٹوں کا ناک سے فاصلہ، اس کے بالائی لب کا محراب ، اس کے نچلے لب کا مکمل امتزاج کے ساتھ بھرا ہونا ، آنکھوں کے درمیان اتنا ایون فاصلہ ، اس کے شہد رنگ بال، بالوں کی آوارہ لٹیں ، سر پر پڑتا روشنی کا شیڈ– یہ سب مل کر کیسے کسی ناظر کو چندھیا دیتے ہیں ؟ nیوں محسوس ہو رہا ہے جیسے اس کا عکس آنکھ پر پڑتے ہی ، ریٹینا سے جڑا ، بصری اعصاب کا نیٹورک ، چندھیا کر رہ جاتا ہے ، اور دماغ کو اس کے مکمل حسن کا عکس یاد داشت میں تخلیق کر کے محفوظ کرنے سے منع کرتا ہے ، کہ شاید اگر ایسا ہوا تو دماغ کا باقی نظام اس عورت کے گرد رقصاں ہو کر – یہی گنگنائے گا
تم آئے تو آیا مجھے یاد nگلی میں آج چاند نکلا
جانے کتنوں دنوں کے بعد nگلی میں آج چاند نکلاnnمعلوم ہے مجھے یہ اداکارہ ہے ، یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ ایک بہروپ ہے ، پھر بھی خوبصورتی کی ایسی تکمیل؟ کہ بہروپ کو حقیقت کہنے پر مجبور کررہی ہے ۔۔
جانتا ہوں اس کی سادہ سی ساڑی صرف کاسٹیوم ہے ، پھر بھی اس سے گرہستی کی مہک آرہی ہے ، یہ وجود ، جب کچن میں کام کےدوران پیشانی کاپسینہ گوشت ، کاٹتے ہوئے ، چھری کو بائیں سے دائیں ہاتھ میں منتقل کرتے وقت ساڑھی سے پونچھتا ہوگا یا پھر، یا پھر آٹا گوندھتے ہوئے اپنی لٹوں کو کانوں کی لو کے پیچھے اڑستا ہوگا ، ، تو اس کے عرق سے، کیسی مہک پھوٹتی ہوگی ، سمجھ سکتا ہوں ، nحسرت بس ایک ہورہی ہے ، کیا اس کو کبھی نظر بھر کر دیکھ پاوں گا– ؟ nیا اس کا حسن اعصاب چندھیاتا رہے گا ؟
اور کیا میرے لیے ممکن ہوگا کہ لفظوں کو ایک مشاق مگر بور آرٹسٹ کی طرح ، جھنجھلائے ہو برش سٹروک سار نچھاور کروں اور پھر اس کے وجود کے عکس کو ہی سہی، رنگوں سے بھر ڈالوں –؟ نہیں ہوسکتا ایسا جانتا ہوں ، کاش لفظوں سے تصویر پینٹ کرنے کے ہنر سے واقف ہوتا تو اس حسن پر پی ایچ ڈی کے مقالے لکھ کر ، فیل ہونے میں بھی تشنہ آرزووں کو قرار دے پاتا ۔۔ nہائے یہ عورت جات — -کیا مخلوق ہے — کیا چیز ہے ۔۔ دل جیسے کھال سے باہر آرہا ہے ، یہ ہے وہ مخلوق جو دل کے قریب ترین ہوتی ہے ، پسلی کی شکل میں, لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس قرب بھری کیفیات میں زیادہ بھینچ لیا تو یہی قریبی عزیز پسلی ، دل کو پنکچر نہ کردے ۔۔ لفظ ہیں کہ لہو، بہے جا رہا ہے — اور ریٹینا، پپوٹے ، کورنیہ، سب اس کے اس عکس کا طواف کر رہے ہیں جو میں نے ایک با ربھی ، ایک بار بھی ، پوری زندگی میں ایک بار بھی ، ایک یا دو سیکنڈ سے زیادہ نہیں دیکھا–nٹائپ کرتے کرتے انگلیوں کی سانسیں نہ پھولتیں ، تو شاید کی بورڈ ٹوٹ جانا تھا ، یہ عورتیں ، ایسی عورتیں ، ایسا حسن ، کالا جادو ہیں ، سفلی ہیں ، ٹونا ہیں دل کو پتلا بنا کر اس میں پن چبھوتی ہیں ہنستی ہیں ، اور ان کے ادھ کھلے ہونٹوں سے جھانتے سفید دانت پر ،سوچ بھی نہیں سکتا کہ ، کیا کیا نچھاور کر ڈالوں ، کہ اگر حد مختص کردی نچھاور کرنے کی تو اس خوبصورت چہرے کی بے توقیری نہ ہوجائے ۔
پوسٹ – 2018-09-05
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد