خدارا ، کریڈٹ لینے کی جنگ میں نہ پڑ جانا اب کہ یہ کامیابی ، کس کی وجہ سے ہوئی ۔
ایسی سوچ آنے لگے تو حضرت عمر کا وہ فیصلہ یاد کرلینا جس کے تحت انہوں نے ، دوران جنگ اپنے چیف آف آرمی سٹاف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کو محض اس وجہ سے الگ کیا تھا کہ لوگوں کہ دلوں میں یہ یقین بیٹھنے لگا تھا کہ خالد جہاں جاتا ہے فتح وہاں ہوتی ، تو حضرت عمر نے اس یقین کوخالد کے بجائے اللہ کی طرف ڈارئیکٹ کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا ۔۔ nاور وہ واقعہ بھی یاد کرلینا جو ہم ساتویں، آٹھویں جماعت سے پڑھتے آرہے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید کے باوجود مسلمان ، بظاہر سامنے نظر آتی فتح کی خوشیاں منانے اور ایک انہتائی اہم پوسٹ یعنی درہ جس کے بارے میں اللہ کے نبی نے فرمایا تھا ، کہ اس کا پہرہ ، اس کی نگرانی کسی طور نہ چھوڑنا لیکن مسلمان خوشی کے عالم میں مال غنیمت سمیٹنے لگے اور کفاد نے پلٹ کر وار کردیا تھا ۔
مختصر یہ کامیابی ٹیم ورک لگتی ہو یا انفرادی ، یہ بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ، خوش اس بات پر ہوں کہ اللہ نے اس کام کے لیے چنا ۔
سرکاری سطح پر وزیر اعظم نے جو کیا وہ اس کے لیے توصیف کے مستحق ہیں ، سوشل میڈیا پر جس نے ایک نقطہ بھی لکھا وہ بھی اسی تکریم کا مستحق ہے کہ اللہ نے اسے بھی چنا ، اسے بھی سوچ دی کہ وہ اپنا حصہ ڈالے ، باقی جس کے پاس جتنا اختیار ہے اس کے اوپر ذمے داری بھی اتنی ہے اس سے سوال بھی اتنا ہی بڑا ہوگا ، پھر ان لوگوں کو بھی مت بھولیں جو سڑکوں پر نکلے جنہوں نے بائیکاٹ کیا ، یاد رکھیں ہر ایک کا میدان ، ہر ایک کی کوشش کا زاویہ الگ ہوتا ہے ، اللہ قبول فرمائے اور اللہ جوڑے رکھے ۔۔ nیہ کریڈٹ کی جنگ نہیں ۔۔ یقین کیجئے یہ کریڈٹ کی جنگ نہیں ۔۔ جو ایسا کرتا نظر آئے اسے بھی سمجھائیں ۔۔
پوسٹ – 2018-08-31
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد