پوسٹ – 2018-08-14

مجھے محبت کیوں نہیں ہوتی – پانچویں قسطn—————————————————nکمرے میں اندھیرا چھا گیا ، میں جو لومڑی کی چالاکی اور خلوص کو زیر کرکے گلہری کو پس پشت ڈالنا چاہ رہا تھا ، وہیں ٹھٹک کر رگیا ، جس صوفے پر لومڑی نے سگریٹ سلگائی تھی اب وہاں صرف ایک خلا تھا، اندھیرا ۔۔ خلا، شاید یہ ذہن کا کوئی شعبدہ تھا ، پلکیں پٹ پٹاتے ہوئے میں نے ، اپنے تصور کی کمینی انتہاوں کو کھوجنا چاہا، اوہ ایک بات بتانا تو میں بھول ہی گیا ، ۔ یہ جو اچانک سے چھا جانے والا گھپ اندھیرا ہوتا ہے نا، مصنوعی ہو یا پھر قدرتی ، چاند کی ناراضی ہو یا واپڈا کی بیزاری ۔تو ایسے اندھیرے میں ،میرے لیے ٹائم فریز ہوجاتا ہے ، لمحات دھندلے اور پرمژدہ ہوجاتے ہیں ، سیکنڈ ، منٹ ، منٹ ، گھنٹے اور گھنٹے ؟ گھنٹے احساس بن جاتے ہیں ۔کیفیت میں ڈھل جاتے ہیں جیسے اس دنیا میں صرف میں ہی باقی بچا ہوں ۔۔ اس وقت شاید چند ساعتوں نے ہی بجلی کی آنکھیں ڈھانپی تھیں ، لیکن ان چند لمحوں نے میری آنکھوں کے سامنے چھائے اندھیرے میں ایک سہاگ کی سیج کا منظر پینٹ کردیا تھا ، اور معلوم ہے اس پر کون براجمان تھی ؟ — جی ہاں بالکل غلط سمجھے آپ، آپ یہی سمجھے تھے نا کہ اس پر گلہری ہوگی ، ہے نا ؟، جی نہیں ایسا ہوتا تو یہ محبت کیوں نہیں کا سوال کیوں ہوتا اس سیج پر ۔۔ گلہری نہیں تھی بلکہ وہ لومڑی تھی ، گلہری کی دوست، اس کی راز دان۔۔اور درپردہ اپنی دوست کے گھر میں نقب انگیزی پر مائل ، آج وہ پامالی ٹھان کر آئی تھی ، شادی شدہ تھی ، بچے بھی تھے ، پر شاید ایسی عورتوں کے بچے حادثے ہوتے ہیں ، اور ایسی عورتیں سانحہ ، عمر گلہری سے ڈبل تھی ، فطرت گلہری سے کہیں زیادہ ذلت بھری ۔عورتوں کا موازنہ تو حمقاء کا شیوہ ہے پر بس ویسے ہی بتا رہا ہوں کہ اس کے اور گلہری کے بیچ ایک آنچ کی کسر تھی اور وہ تھی فرمابنرداری کی آنچ- ، لومڑی نے نافرمانی کی کوشش میں خود کو نابود کردیا تھا ، اور گلہری نے فرماں برداری مجھ پر لاد کر خود کو نامزد کردیا تھا۔ اب وہی تھی ، اور وہی رہنی تھی ، یہ پتا نہیں کہاں سے آگئی تھی ، تصور کی نقب زن ۔۔ حقارت سے ایک طرف تھوکا، منہ خشک تھا، نفرت کی بھی گنجائش نہیں بچی تھی اب تو ۔۔ پر یہ لومڑی بدذات، محبت کا دم پانی میں ڈوبنے والے آکسیجن کے متلاشی کی طرح بھرتی تھی ۔۔ ڈوبتے پھیپڑوں کو تنکے سی سانس ملتی تو پھر نافرمانی تنومند ہوجاتی تھی ، اور بے نیاز ایسے جیسے پانی کہ تہہ میں بیٹھا ، آکسیجن پر قابض کوئی بدصورت آکٹوپس۔ اہم ہوتی تو تصور میں نہیں ہوتی ، اس کی جگہ حرام مغز میں بھی نہیں بچی تھی ۔۔ بچی کیا تھی ؟کبھی تھی ہی نہیں ، یہ تو خود پیٹ بھر کر بھکاریوں کی طرح لنگر کے لیے ناچنے کو خلوص اور استحقاق کہتی تھی ، میں چاول چنتا رہتا ، اسے ڈالتا رہتا ، یہ سمجھتی بریانی بن رہی ہے ، اور پھر نصیب میں کھچڑی بھی نہ ہوتی اس کے ۔۔۔ لیکن یہ لومڑی تھی کہ ،سہاگ کی سیج پر بیٹھی ویران ہونٹوں پر خون رنگ لپ اسٹک سجائے ، گزری اور باقی ماندہ پاکیزہ عمر پر نفرین بھیجتی ہوئی مسکرارہی تھی ۔۔یہ تم نے سہاگ کی سیج پر عبایا کیوں پہنا ہے ، تصور سے ہم کلام ہوا تھا میں ، کیوں کہ میں تمھاری گلہری کی طرح ، کنجری نہیں ہوں ، اچھے خاندان سے ہوں شریف عورت ہوں اور پاکیزگی تو بہتی ہے مجھ سے ،، یہ دیکھو ، دیکھو نا- دیکھتے کیوں نہیں ، وہ ایک ایک کرکے عبایئے کے بٹن کھولنے لگی تھی ، مجھے اپنی پاکیزگی کا پاس ہے ، میں مکمل طور پر ایک باوفا عورت ہوں تمھیں کیسے لگا کہ میں کسی غلط ارادے سے موجود ہوں یہاں ، یہ دیکھو مجھ سے کیسی پاکیزگی پھوٹ رہی ہے ، عبائے کے اندر سی تھرو ڈریس میں اس کا رواں رواں اس کے پاک ہونے کی گواہی دے رہا تھا ، ایسی بے بہا ، سستی اور وافر پاکیزگی میرے تصور کی کھال تک کو جلا رہی تھی ، میرے تخیل کی جنت جھلس رہی تھی ، میں نے خود کو جہنم سے حقیقت کے گھونٹ بھرتے ، دیکھا ، عملیت کی آکسیجن سے حقیقی جہنم دھواں دھواں ہو رہا تھا ، اسی لمحے لائٹ آئی ، نجانے کتنے مائیکرو سیکنڈ یا سیکنڈز کا جھماکا تھا جو یہ فلم چلا گیا تھا، وقت کا فریز ہوجانا ، گھپ اندھیرے میں ، ایسے ہی کمالات دکھاتا ہے ۔ دماغ دھونکنی کی طرح خیالات اگل رہا تھا، حقیقت ابل ابل کر یہ سوال اٹھا رہی تھی ، ہر مسام سے سانس نکل رہی تھی ، اتنا مکمل تصور ؟ دروازے پر دستک ہونا ، پھر مسکراتے ہوئے لومڑی کا اندر آنا ، مسکراہٹ اچھا ل کر سگریٹ سلگانا، ۔ پھر گلہری کے بارے میں حقارت سے پوچھنا کہ “کردیا بلاک ، کنجری کو ؟ “پھر میرے ساتھ قہقہے لگانا، اور وہ وہ ، عبائے والی سہاگ کی سیج ۔۔ وہ کیسے اتنا تفصیلی انعکاس بن گئی تھی ؟ میں سوچ بھی کیسے سکتا تھا کہ لومڑی کی آمد حقیقی ہوسکتی ہے ؟ اب پھر میں تھا، کمرہ تھا اور وہ سوال جو ہذیانی ناچ ناچتا پھر رہا تھا ، مجھے محبت کیوں نہیں ہوتی، مجھے محبت کیوں نہیں ہوتی ؟ nیہی نہیں بلکہ، سوال نے انڈے بچے دینا شروع کردیے تھےاور اتنی تیزی سے کہ ابھی ایک چیاوں چیاوں کرتا تو دوسرا غاوں غاوں ، پھر تیسرا میاوں میاوں ، اس متنوع قسم کی کنفیوژن کا سبب کچھ ایسے سوال تھے ۔ کہ محبت ہوتی ہے تو ایک سےکیوں نہیں ہوتی ؟ایک سے ہوتی ہے تو گلہری کہاں ہے ؟ اور ہے تو بلاک کیوں ہے ؟ چل کردیا بلاک۔۔ تو پھر لومڑی کا تصور تیرے ذہن پر کیسے نقب لگا رہا ہے ؟ اور لگا ہی رہا ہے تو، تو نےلومڑی کی فیشنی پاکیزگی برباد کیوں نہیں کی ، اور ٹھرکی نہیں ہے تو پھر گلہری کی دم ادھیڑنے کے درپے کیوں رہتا ہے ؟
کیا کہا ؟ کہ وہ منکوحہ ہے ؟ منکوحہ ہے تو کیوں ہے ؟ محبت کے بغیر ہے یا ٹھرک کے ساتھ ؟ نکاح ٹھرک کا لائیسنس ہے کیا n؟ نہیں وہ تو ۔۔۔ کیا نہیں وہ تو بے ؟ بول نا – تو ٹھرکی ہے یا محبوب ہے ؟ ا ن میں سے کوئی ایک بات تو ہے ، سوال گول گول گھوم رہا تھا اور چکرا میں رہا تھا۔
یا خدا گلہری ہوتی ہے ، تو مسئلہ ، نہیں ہوتی تو سردرد ، کیا کروں؟ کہاں جاوں؟ ، میں بھی سوال بنا سر پکڑ کر کمرے میں گول گول گھومنے لگا ، خدا کا تبسم بصورت اذان کھڑکی سے اندر چلا آیا ۔۔ میں جائے نماز اٹھا کر کونے میں بھاگا ، بچھائی اور پڑھنے کےلیےکانوں ہاتھ اٹھائے ہی تھے “وضو تو کر لے ” یہ گلہری کی سرگوشی تھی ۔۔ ہڑبڑا کر ادھر ادھردیکھا ۔۔کوئ نہیں تھا، سگریٹ ادھ موئی پڑی ایش ٹرے میں آخری سانسیں لے کر جل رہی تھی ،وضو کیا ، نماز پڑھی ، تھوڑا سکون ہوا ، چلو اب صبح دیکھتے ہیں ، گلہری کو ٹریس کرتے ہیں ، سوچتا سوچتا سوگیا ، تھوڑی دیر ہی سویا ہوں گا، آنکھ ایک بیپ سے کھل گئی ، موبائل سکرین روشن تھی ۔۔ فیس بک کا نوٹی فیکشن تھا، لال آنکھ سے لال نوٹی فیکشن پڑھا ، نیند بھاگ گئی ۔ گلہری کا کمنٹ آیا تھا میری کسی تحریر پر ، لیکن یہ کیا تحریر کی پوسٹ کا وقت بتا رہا تھا کہ میں نے اس وقت کوئی پوسٹ کی ہی نہیں تھی میں تو اس لمحے لومڑی کے تصو ر میں قیدتھا ، سدھ بدھ ہی نہیں تھی تو کیا پوسٹ کرتا اور کیسے کرتا ؟ اور کی بھی ہوتی تو گلہری تو بلاک تھی ۔ اس کو کیسے مل گئی اس نے کیسے پڑھ لیا، ایک اور سوال ۔۔۔ بھاگتا ہوا انباکس گیا، گلہری کے نام کے ساتھ ننھا سبز نقطہ مسکرا رہا تھا، بلا رہا تھا ، رجھا رہا تھا ۔۔ جیسے گلہری رجھاتی تھی ۔۔ ہائیں یہ تو بلاک تھی ، ان بلاک کیسے ہوگئی کس نے کردیا ؟ ششش ششش گلہری کے میسج باکس میں ٹائپنگ کا نشان ظاہر ہو رہا تھا وہ لکھ رہی تھی کیا لکھ رہی تھی پتا نہیں ۔۔ پر شوق زائرسا بیٹھ گیا میں وہاں ۔۔ ٹائپنگ ہوتی رہی میں بیٹھا رہا ، وہ لکھتی رہی میں سوچتا رہا کہ کیا لکھ رہی ہے ۔۔ ویسے جب وہ لکھتی ہے نا تو دل کرتا ہے اس کی انگلیاں چلتے ہوئے دیکھوں کی بورڈ کی ٹک ٹک سنوں ، کاغذ پر قلم کی سرسراہٹ اور اس کی خوبصورت انگلیوں کی قلم کے ساتھ جو لگاوٹ ہے وہ اٹھکیلی مجھے بہت پسندہے وہ لکھتی نہیں پھسلتی ہیں ۔۔ جیسے پیانو بجا رہی ہو – میرا دل کرتا میں دیکھتا رہوں ،سنتا رہوں جواب سے بے نیاز ہوجاوں ، موسقیت تو موسیقار کی انگلیوں میں ہوتی ہے نا ، نہ کہ ستار کے تاروں میں ، کہانی تو انگلیوں کے ریشے بنتے ہیں نا،نہ کہ کاغذ و قلم ۔۔ بس ایساہی لگتا تھا مجھے جب وہ ٹائپ کرتی تھی ۔۔ وہ کیا لکھتی ہے یہ سوچ چھوڑ کر میں اس کی کاغذ پرگھسٹتی انگلیوں کی بورڈ پر چلتے اس کے پوروں پر فدا تھا ۔لیکن ابھی میں چاہ رہا تھا کہ یہ جلدی سے بتا دے کہ انبلاک کیسے ہوگئی
اور میرے اکاونٹ سے پوسٹ شدہ گزری رات کا باسی فسانہ پڑھنے کے بعد کمنٹ بھی کررہی ہے ، وہی کہانی وہی فسانہ جو مری ڈھٹائی ، اداسی ، اسیری اور پشیمانی کا مرقع تھا ، پر یہ لکھا کس نے َ؟ پوسٹ کس نے کیا ؟
ٹرنگ—انباکس میں گلہری نے آواز لگائی ۔۔ آج صبح دس بجے جامعہ پہنچ جانا ، انتظار کروں گی ، اور ہاں آئندہ بلاک کرنا ہو تو اپنے اکاونٹ کا پاسورڈ تبدیل ضرور کردینا ، بڑا آیا مجھے بلاک کرنے والا – ایک ننھا سا شیطان ایموجی اس پیغام سے نتھی مسکرا رہا تھا ۔ اوہ خیر ، nتو یہ بات تھی ۔۔۔ ہم نے نکاح کے وقت ،ایجاب پر سائن کرتے وقت ایک دوسرے کے فارم پر اپنے اپنے اکاونٹ پاسورڈ بھی لکھ دئیے تھے ۔۔ مجھے اس کے عاشق پسند تھے ، اسی میری گم گشتہ محبتیں ، وہ پڑھتی رہتی پرانی کہانیاں ، انباکس سے باسی گلاب سونگھتی ، نہ اس کو شک تھا نہ مجھے بھروسہ ، بلکہ یقین تھا دونوں کہ دونوں کے پلے اب کسی کو دینے کے لے کچھ نہیں سب کچھ تو ایک دوسرے پر تج چکے ، چکھ چکے ، سما چکے نبھا چکے تو کیوں نہ کرید کریں ، تو کیوں نہ ماضی کھنگالیں اور انجوائے کریں ، لباس ہیں تو یہ دھاگوں میں کیا الجھنا کہ نہیں تم میرا فیس بک نہیں چیک کرو وغیرہ وغیرہ ، ہم تو مقابلے کرتے تھے باقاعدہ ، کس کے کتنے یار ہیں وہ ہار جاتی تھی ، معصوم سی کنجری ، میں کھلا ڈلا ذلیل سا بھیڑیا ، ہر جگہ تھوتھنی لبیڑتا ، عجیب کمینہ رشتہ تھا اپنا ، چل رہا تھا، چلا رہے تھے ، گا رہے تھے ، کھیل رہتے ھے ، جی رہے تھے ، انجوائے کر رہے تھے ، اور راتوں میں جائے نمازیں بھی گیلی کردیا کرتے تھے ، اگلی صبح، خواہشات ڈھیلی بھی کردیا کرتے تھے ، کبھی ساری رات خواہشات ڈھیلی ہوتی اور فجر ہوتے ہی جائے نماز گیلی ہوتی ۔۔ مجھے اعتراف نے ہانپنے پر مجبور کردیا تھا ، اور میری گلہری کی تسلی نہیں ہوتی تھی ۔۔ یہ سن کر کہ مجھے اس سے محبت ہے ، وہ کہتی یہ تو ہر کتا بلا کہتا رہتا ہے ، جا کچھ نیا کر ، کچھ نیا بن ، کچھ سوت کر کچھ کات ، کچھ پھاڑ کر کچھ سی ،نیا لفظ بنا ، نیا تعلق نبھا ، میں اسے کیا کہتا ، کہ ابھی تو میں خود اس مخمصے میں ہوں ، کہ مجھے محبت کیوں نہیں ہوتی ، جب یہ عیاں ہوگا تب ہی بتا پاوں گا کہ محبت نہیں ہوتی تو کیا ہوتا ہے ؟۔؛

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.