مہاجروں کو ، اردو بولنے والوں کو ، ایک جگہ جمع کرنا ، واقعی مینڈکوں کو تولنے کے برابر ہے ، ، ایک طرف اٹھا کر رکھو، دوسری طرف باٹ رکھو تو معلوم ہوا، آدھے بھاگ گئے ، ان کو اٹھا کر رکھو ، پھر باٹ رکھو ، تومعلوم ہوا چھ اور بھاگ گئے ، مہاجروں کو تو اونچی آواز سے بات کرو تو وہ بھاگ جائیں ، ان کو تو سردی بڑی لگتی ہے ، ان کو تو گرمی بڑی لگتی ہے ۔ وہی کمزور اور بزدل لوگ آج مثال بن گئیے ہیں بہادری کی ، ثابت قدمی کی ، ان پنجابیوں کے لیے جو مظلوم ہیں ۔۔ nnالطاف حسین کے مبشر لقمان کو دیے گیے ایک انٹرویو سے اقتباس

اترك رد