مزا تو تب آیے گاجب ہم اپنی آنکھوں سے ان تجزیہ نگاروں کو ایم کیو ایم کا دفاع کرتے دیکھیں گے، جو سالہاسال جھولی پھیلا پھیلا کر سانحہ بلدیہ ٹاون کے ذمے داروں بدعائیں دیتے رہے، اور ایم کیو ایم کے بظاہر زوال کواپنی روحانی تاثیر کا نتیجہ بتاتے رہے۔
مزا تو تب آیے گاجب ہم اپنی آنکھوں سے ان تجزیہ نگاروں کو ایم کیو ایم کا دفاع کرتے دیکھیں گے، جو سالہاسال جھولی پھیلا پھیلا کر سانحہ بلدیہ ٹاون کے ذمے داروں بدعائیں دیتے رہے، اور ایم کیو ایم کے بظاہر زوال کواپنی روحانی تاثیر کا نتیجہ بتاتے رہے۔
اترك رد