میں کمرے میں داخل ہوئی تو وہ برہنہ لیٹے ہوئے تھے، مجھے کچھ خاص حیرت نہیں ہوئی ، یہ ان کا معمول تھا کہ وہ ہوا خوری ایسے ہی کیا کرتے تھے ، ایک دم انہوں نے موبائل کی سکرین مجھ سے چھپا لی ، میں نے تجسس پہ قابو پاتے ہوئے اگنور کیا اور ان سے کہا کہ ذرا ریموٹ دیں تو وہ کہنےلگے ریموٹ کے سیل میں کوکین کی کاربن آ گئ ہے ،میں نے کہا کہ میں ٹی وی کا ریموٹ کہہ رہی ہوں ۔۔ یہ کہہ کر وہ چونکے ۔۔ اور تکیے کے نیچے سے ریموٹ مجھے پکڑا دیا، nاچانک چونکنے کی وجہ سے ۔ ان کے کان میں ، جی کان میں لگی ہینڈز فری اتر گئی ، بوکھلاہٹ کے مارے ہینڈز فری لگاتے لگاتے فون کی سکرین کا رخ میری طرف ہوا ، میں نے جلدی سے دوپٹہ سینے پر پھیلالیا، فون کے اسپیکر سے ایک آواز پھوٹ رہی ۔ nاو ناسورا، او دلیا ، میری کالی دال پھر چرا لے گیا، تیرے شیرو دی پین دی سری ، اس آواز کے آتے ہی انہوں نے اپنا سر جھکایا اور تاسف کا اظہار کرتے ہوئے اسکرین پر موجود چہرے سے مخاطب ہو کر کہا، nنہیں اب شیرو کسی کام کا نہیں رہا۔n او دلیا میں کتے دی گل نہیں کریا۔
اسپیکر پھر گرجا
میں بھی اس کی بات نہیں کررہا nوہ ممنانے لگے ،n اتنی دیرلوڈ شیڈنگ کی وجہ سے انٹرنیٹ بند ہوگیا -n موم بتی ادھر رکھی ہے ۔۔ اور آج صرف ایک ہی ہے n۔ ان کی آواز میں بے بسی تھی ، میں نے حقارت سے ایک طرف تھوکا اور لڑکھڑانے کی ایکٹنگ کر تی ہوئِ موم بتی ڈھونڈنے چل پڑی nواپس آئی تو وہ پیٹ کے بل خراٹے لے رہے تھے اور ان کی پشت پر کچھ کالا سا تھرتھرا رہا تھا، میں نے موم بتی مشکل وقت کے لیے سنبھال لی اور موبائل کی ٹارچ ان کی کمر پر ماری تو وہ کچھ سیاہ دانے تھے ، اوہ وہ کالی دال تھی ۔۔ nمجھے تعجب ہوا لیکن ، مجھے اس رشتے میں تعجب ہی تھا جو خالص ملا تھا، nتین سو ناٹ آوٹ اور اب زیرو پر آوٹ ۔۔ nn- مینڈا نشئی سے اقتباس۔
پوسٹ – 2018-07-12
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد