آو گٹکو منزل کی جانبnn————————————nnگٹکوں سے بھرپور ایک علاقے کی دیواروں پر ابھی ابھی یہ لکھا ہوا دیکھا–nn”آو مہاجرو منزل کی جانب”nیہ پڑھ کر، ہنسی ترس اور مضحکہ تینوں ہی آن ٹپکے سوچ میں ان سب نے مل کر ایک حقارت کی شکل اخیتار کی — اور سوال یہ ابھرا۔ جب ان گٹکوں کا بے گردن والا رہنما ٹائپ مخلوق موجود تھا، اس وقت یہ کہتے تھے کہ ہمیں منزل نہیں رہنما چاہئے، اب رہنماوں کی تشریفیں سیک سیک کر
ان میں سے کوئی دو تین رہنما بنا دئیے گے تو اب کہتے ہیں ۔۔ کہ چلو منزل کی جانب۔مطلب منزل سامنے ہو تو یہ منزل چھوڑ کر بلکہ منزل پر لعنت بھیج کر رہنما کے پیچھے چل پڑنے والی گٹکا خور ذہنیت ہے — اور اگر رہنما نہ ہو تو انہیں منزل چاہئے ہوتی ہے — کیا بات ہے ۔۔ ویری گڈ۔۔ ایک آخری بات
راہ نما کس لیے ہوتا ہے ؟ منزل کے لیے– یا وی سی آر بیچ کر بندوقیں خریدنے کے مشورے دینے کے لیے ؟ یا پھر ٹی وی پر ، پبلک میں جلسوں میں بیٹھ کر سیکس ، سپرم ، عورت کے انڈوں پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے لیے ؟ جس کو یہ گٹکے ، جی بھائی ، جی بھائی ری پروڈکشن ۔۔ nمزے کی بات چیک کروn”تصویر میںٰ -کیا لکھا ہے ۔
تمام کارکنان اس خطبے کی سی ڈیاں گھروں میں رکھیں ۔۔ لول nظاہر ہے – -ان لوگوں کے ہاں پڑھنے لکھنے کا رجحان تو ہوتا نہین ۔۔ ورنہ یہ بتائیں آٹھویں کلاس کی سائنس اور نائن کی بائیلوجی میں لکھی ہیں ، لیکن اس کے لیے اسکول جانا ضروری ہے ۔۔ اس عمر میں تو یہ گٹکے خوری ، سیکٹر آفسوں کی تیاری میں لگے ہوئے ہوتے ہیں ، پھر ظاہر ہے ایسے ہی سیکھٰن گے ۔۔ nکہہ کر گفتگو کی گرمی کم کرنے کی کوشش کرتے ہٰن ۔۔ اس کام کے لیے ہوتے ہیں رہنما ؟ پھر ٹریبیون پر لگنے والا ایک گٹکا بلاگ کہتا ہے کہ جی ، بے گردن کی اس مخلوق جس کو یہ لوگ کبھی والد اور کبھی بھائی کہتے ہیں ، اس نے تو سمپل ہیومن بائیلوجی ایکسپلین کی تھی ۔۔ اس میں کیا ولگر– لول ۔۔ اس کا جواب تو ایسا ہے نا کہ ان کی نسلون کی آنتیں اگنا بند ہوجائیں مرچیں تو چھوٹی چیز ہیں ۔۔ لیکن بات کو ختم کرتا ہوں اور ان پر مزید نفرین بھیجتا ہوں یہ پڑھ کر کہnnآو گٹکو منزل کی جانب ، جب کہ رہنما اب لسوڑے لگوا بیٹھا ہے ۔۔ تو انہیں منزل یاد آگئی ہے ۔
پوسٹ – 2018-07-11
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد