میں پنجاب نہیں جاوں گی, تجھے لے کر کون جا رہا ہے ؟ بھنگن ؟n———————————————nn”میں تو جانتی تھی کہ پنجابی فیوڈل کا گزارا ایک بیوی سے نہیں ہوتا۔تمھارے دادا مجرے دیکھتے تھے ، تمھارے ابو ، دو نمبر عورتوں سے چیٹنگ کرتے ہیں ، تو تم کچھ نیا کرلو– شادی کرلو نا اپنی اسی کزن سے “nnولایت سے پڑھ کر آنے والی کراچی کی لڑکی مہوش حیات کا اپنے ایکس بوائے فرینڈ کو پورے گاوں کے سامنے جھپی ڈالنے کے بعد ، شوہر کو اپنی کزن کے ساتھ جھپی ڈالتے دیکھ کر کیا جانے والا ایک تبصرہ ۔nn واقعی کراچی کی اس لڑکی مہوش حیات کو شاید مجرا ، دو نمبر عورتوں سے چیٹنگ اور نکاح میں کوئی فرق نہیں سکھایا گیا، مزے کی بات یہ ہے کہ ایسی لڑکیاں خود لندن میں پڑھائی کی دوران ، اپنے بوائے فرینڈ کو “وی اور جسٹ فرینڈ” کہہ کر اس کے ساتھ پیرس بھی گھوم آتی ہیں ۔ مندرجہ بالا سطور تو خیر فلم کی صورتحال کی عکاسی ہے – لیکن ۔ ایسے ڈائیلاگز کی وجہ سے گٹکوں کا مائنڈ سیٹ خوب سامنے آتا ہے ۔– پھر ان کو کرانچی کا پان یاد دلایا جائے تو پانی ان کے معدے تک پہنچ جاتا ہے –اورہاں یہ تو بتانا ہی بھول گیا ، کہ کراچی کی اس لڑکی مہوش حیات نے کہانی کے مطابق، اس پنجابی فیوڈل کے ستر مربے دیکھ کر اپنے ایکس کو لات ماردی تھی ، ورنہ کہانی کے مطابق یہ تو بیاہ کر یہ تو پنجاب جانا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔ اب میں یہ بات سمجھ سکتا ہوں جو کہ فلم میں دکھائی گئی ہے کہ بھوکی ننگی پڑھی لکھی مڈل کلاس جاہل کرانچی والیاں ، ستر مربے کو دیکھ کر سچی محبت کیوں نہ کریں — ارے یہ کیا– کسی کو بھی ستر مربے دکھاو ، چھوٹی باجی فری میں لے آئے گی اور والدہ بھی — یہ میں نے سب عورتوں کو نہیں کہا– صرف مکار اور لالچی عورتوں کے لیے کہا ہے — کیوں کہ میں تو بھوکے پیٹ کی محبت والیوں کو بھی جانتا ہوں ، پھر بھی سچا پیار نہیں ملا — ستر مربے ہی مل جاتے تو چلو پیار نہ ملنے کی محرومی سہہ جاتا– لول — —چلو خیر– ستر مربے کے رقبے کو اگر کراچی کے غریب پروروں کے حساب میں نکالیں ۔۔ کیوں کہ ان بے چاروں کی زندگیاں دڑبوں میں گز ناپتے گزرجاتی ہیں اس لیے ایکڑ یا مربے کو گزوں میں سمجھا دیتا ہوں ۔۔مربے ، کنال اور ایکڑ تو ہم کراچی کے غریب عوام کے لیے سپیس سائنس جیسے ہوں گے اس لیے ان کو کراچی کی سائنس اور رقبے سے سمجھاتے ہیں ۔
nایک ایکڑ = 4,840گز nایک مربہ = پچیس ایکڑ
اور فلم کے مطابق فیوڈل کے پاس
ستر مربے یعنی = چوراسی لاکھ ستر ہزار اسکوائر یارڈز یعنی گز کی زمین تھی ۔۔ہوائیاں اڑنے سے پہلے مزید کلئیر کردوں یہ پے پسی اور کرانچی کے چانول خوروں کہ ،ایک رف آئیڈیا سا ہے ۔۔ کہ یہ جو نوے نوے گز کے دڑبے ہوتے ہیں نا جنہیں پلاٹ کہا جاتا ہے — nستر مربے کا مطلب ہوتا ہے اس طرح کے تقریبا چورانوے ہزار ایسے پلاٹ جو نوے گز کے ہوں – nتو جناب فلم کی کہانی کے مطابق، کراچی کی لڑکی مہوش حیات نے پہلے پنجابی فیوڈل سے شادی سے انکار کیا- اور پھر جب اس نے یہ کہا کہ میں تمھارے نام ستر مربے لگا دوں گا- تو چند سین اور ایک گانے کے بعد وہ اس سے شادی کرنے پر تل گئی- ابھی بھینسوں کا حساب تو لکھا ہی نہیں ۔۔ nبہرحال اتنا رقبہ تو ان بے چاروں کو اختلاج میں مبتلا کردے گا کہ ان گٹکوں کے اصل مسئلے ہی یہ ہیں ، ہمیں الگ جگہ نہیں دی — ہمیں دیوار سے لگایا ، ہمیں الگ صوبہ دو، جہاں ہم ویزا لگا کر لوگوں کو آنے دیں ۔۔ اگر نہ مگر گٹکا نگر۔۔ nnایسی ہی میری کرانچی کی مہوش حیات۔
یہ لو ایک اور ڈائیلاگ چیک کرو- nشوہر کہتا ہے ۔۔ nYou are exceeding your limitsnlimits ? nlimits مائی فٹ ۔۔
میں وہ لڑکی نہیں ہوں جس کو تم ڈراو گے تو ڈر جائے گی nیا تمھاری محبت میں مر جائے گی nمیں وہ ہوں جو ، وفا کرو گے تو وفا کرے گی اور دغا کرو گے تو دغا کروں گی –nشوہر غصے میں آتے ہوئے nمونچھوں کو تاو دیتے ہوئے ۔
دغا کرو ں گا تو کیا کرو گی ؟
طلاق لوں گی تم سے ، ڈنکے کی چوٹ پر لوں گی– اور یہ جو تمھاری مونچھ ہے نا– اسے اتار کر تمھاری ہتھیلی پر رکھ دوں گی nnاس کے بعد وہی ہوا جو ہونا چاہئے — nپہلے اس کا جب کہ اس کا شوہر ڈانٹ بھی نہیں رہا– اور یہ بپھر رہی ہے اس نے وارن بھی کیا کہ تم حد سے بڑھ رہی ہو ، پھر ایسے تیور کے ساتھ تو کوئی عورت حق کی بات بھِی کر رہی ہو تو در اصل وہ مرد کے ہاتھ میں اسلحہ لوڈ کر کے دے رہی ہوتی ہے ۔۔- چماٹ کی طلب پکارتی ہے عورت کو۔۔ا — ظاہر ہے- بچپن سے نیچے لگے مرد دیکھے ہوتے ہیں انہوں نے — پرکھوں کے دور سے — تو پھر انہیں لگتا ہے کہ ہر مرد کا خون گلابی رنگ کا ہوتا ہے — بائے دی واے — ایک بات نوٹ کی مندرجہ بالا ڈائلاگ میں ؟
یہ وفا ، دغا ، جفا، — یہ اس طرح کہ ڈائیلاگ ، لانڈھی ، کورنگی ، لالوکھیت کی دیواروں پر نوے کی دہائِ میں کس کس نے پڑھے ؟ اور پھر آج بھی ان کا یہی حال ہے– اب تو فلموں میں بھی — nہنسی ہی آتی ہے– ان ملوکڑوں کی بے چارگیاں اور بے چینیاں دیکھ کر–nکیا قابل ترس مخلوق ہیں یہ– انسان نہیں — مخلوق- سب ہیومن لیول سے بھی نیچے -کے الطافی گٹکے — حیرت ہے یہ تعصب اسکرین پر چلنے کیسے دے دیا گیا– یعنی گورمنٹ نے- کیوں کہ پنجاب کا پیٹ بھرا، کھیت ہرا اور پانی ٹھنڈا ہے — ، اس لیےذہن کشادہ اور دل میں وسعت ہے — nاس طرح کی چیزیں اسکرین پر چلنا تعصب نہیں ہے لیکن ان کی نشاندہی کرنا ضرور تعصب ہے — واہ کیا کمال لاجک ہے ۔۔
پوسٹ – 2018-07-09
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد