مجھے محبت کیوں نہیں ہوتیnnچوتھی قسطnnاچھا ایک بات بتاتا ہوں – گلہری سے نہیں کہئے گا لیکن کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ۔لات مار کر چلی جائے ، بیوفا کہہ کر تھوک دے ۔۔۔نامرد جان کر طعنے دے۔۔اسکےلیے دنیا کے سامنے نہ کھڑا ہونے پر رزیل کردے ۔۔۔ کچھ بھی ہو بس وہ چھوڑ دے
جانتے ہو کیوں۔۔۔ کیونکہ مرد بڑی کتی چیز ہوتا ہے۔۔ اسے روٹی چاہئے ہوتی ہے تو بات آٹے کے بحران سے شروع کرتا ہے۔۔ عورت چاہئے ہوتی ہے تو معاشرے میں موجود بے حیائی کو ٹارگٹ کرتا ہے ۔۔۔ تو عورتیں اسے محافظ سمجھتی ہیں ۔۔ خدائی طلب ہوتی ہے تو خدا سے جھگڑا کرتا ہے وجہ۔ ؟؟ توجہ کی طلب ۔۔ مرد سپیشل چائلڈ کیس ہوتا ہے۔ منہ سے بولتے جان جاتی ہے۔ ۔۔۔ میں تو بھیڑیا تھا جنسی بھیڑیا بھی اور فطرت سے بھی ۔۔۔سو میں تو اسے نہ چھوڑتا ۔۔وجہ بے اختیاری کہہ لیں یا انا پرستی۔۔۔۔لیکن اگر وہ چھوڑ جاتی تو ہنستا ۔۔قہقہے لگاتا اور کہتا کہ مجھے پتہ تھا تم چھوڑ جاو گی ۔۔۔ اپنی فتح بہت عزیز ہوتی ہے ہم بھیڑیے نما مردوں کو۔۔عورت کی فراوانی رہے یا عورت قدموں کے پاس سسکتی رہے تو مرد کیکئے وہ ڈسٹ بین ہو جاتی اور ڈسٹ بین کے پاس ہر وقت کون بیٹھا کرتاہے ؟ لیکن وہ اہم تو ہوتی ہے نا کہ مرد کی ساری غلاظتیں ، کسل مندیاں اس کی بے راہ رویاں خود پر لے لیتی ہیں ، اس کے عجیب خیالات میں ناگواری کے باوجود ساتھ ہوتی ہیں ، اس کے بدبو دار ، رشتوں کا تقدس خراب کرتے نظریات کو بھی اپنی جھولی میں سمیٹ لیتی ہیں ۔ تو ایسے مرد ایسی عورتوں کو ڈسٹ بن ہی سمجھتے ہیں – اپنی ذاتی ملکیت والی ڈسٹ بن ۔ایسے ہی عجیب خیالات کا اظہار وارد ہوتا رہتا اور یہ منحوس گلہری شکنجہ بنی اپنے روئیں بھرے بازو میرے گرد لپیٹی سنتی رہی
میری سوچ میں بولتی تھی ، مجھ سی ہوتی جا رہی تھی ۔۔ مجھے خود سا کر رہی تھی ۔۔ کبھی کبھار تو یوں لگتا کہ ہماری جنس تبدیلی ہوجاتی ہے – وہ پگڑی پہن لیتی ہے میں چادر ۔۔ پھر شہوت، ہوس، جنس یہ سب کوفت ذدہ ہوکرہماری بے حسی کے پھیرے لیا کرتی اور ہم مکمل لباس میں آنکھوں میں بے لباسی لیے ایک دوسرے کو تکتے ۔۔ اچھے مزے کی بات بتاوں ؟ ٹرانس قائم بھی وہ خودقائم کرتی ۔۔ اور ریزہ ریزہ بھی خود ہی کردیتی ۔۔ وہ وڈیو کال پر خاموش ایسی ہوتی جیسے گونگی اور مفلوج یکتا۔۔ پر جسم سے اٹھتی کشش کی لہریں ۔۔۔۔ اف توبہ ۔۔ مجسم ٹارنیڈو ہو جیسے ۔۔ میں ہر وقت بولنے بلکہ بکواسیات سے لبریز رہنے والا بندہ ۔۔ اس کے سامنے ایسا ہوجاتا جیسے بولنا سیکھا ہی نہ ہو۔۔ ایسے میں جنس کہاں سے سر ابھارے – آنکھوں سے نیچے اتریں دوپٹے کےسوا کچھ سونگھیں تو پھر بات بھی ہے – یہاں تو آنکھوں سے شروع ہو کر دوپٹے پر دی اینڈ ہوجاتا—نامرد بھی کہتی – اور لپٹ جاتی – میرا نامرد کہہ کر۔۔ عجیب تھی – نہ مجھے کوئی غصہ نہ پشیمانی – ذات اس میں مدغم ہوچکی تھی – وجود بس اس کا انعکاس رہ گیا تھا میرا۔۔nnعجیب عادات تھیں ، مضامین پڑھ کر خود کا موازنہ ان کے مرکزی کرداروں سے کرتی اور کہتی ۔ میرے ساتھ بھی وہ سب کرو نا جو فلاں افسانے میں اس نقاب والی کے ساتھ کیا- یا رکشے میں میں بھی ایسے ہی ٹانگ نکال کر بیٹھوں تو تم مجھے چھیڑو یا پھر استانی بن کر تم سے فلرٹ کروں ۔۔کرتے کیوں نہیں ہوکیا مجھ میں شریفاں سا ابال نہیں ، کیا عینی کا لال بیگ میں نہیں رکھ سکتیں ، تم عفان کیوں نہیں ہو ۔۔ میں چونکتا- بھولے بسرے افسانے پھر سے پڑھتا۔۔ اور سوچتا کہ آخر ہونٹ پر سگریٹ یا بلیڈ کے کٹ لگا کر کون سے رومانس چاہتی ہے یہ کیوں کہ میں تو ایسی ہی چیزیں لکھتا—اور لکھ بھی کیا سکتا تھا۔۔ ؟ لکھاری ہوتا تو کچھ لکھتا—ذہنی پراگندگی کو کاغذ پر انڈیل لینا اگر لکھنا ہے تو وہ” دیکھو کتے کا بچہ پیشاب کررہا ہے ” یہ بھی تو لکھنا ہی ہے۔۔ یہ سب سوچتا کہ اسے کیا ملتا ہے مرکزی کردار کی سلمی بن کر ۔۔ تم میری آخری محبت ہو کی ثمر کیوں بننا چاہتی ہے ان سے تو ملن کوسوں دور رہا—کیا یہ بھی دوری کے بہانے ڈھونڈ رہی یا اشارے دے رہی ہے ۔۔ کہ تیرے افسانے حقیقت بنیں گے ۔۔ سگریٹ کے داغ لگوانا چاہتی ہے – جب کہ ففٹی شیڈز آف گرے نہ اس نے دیکھی نہ میں – میں نے سنی تو ہے پر اس نے تو شاید سنی بھی نہ – اور ہو بھی تو ہم نے تو کوئی حوالہ کہیں بھی نہیں دیا—پھر میں مخمصے میں پڑ جاتا ۔۔ کہ اسے داغ دوں تو اس کا مکمل حسن ناراض نہ ہوجائے – اور نہ داغوں تو گلہری کہتی ، کہ ٹھیک ہے اب میرا جسم میری خوبصورتی ، میری بے داغ چمڑی اب میرے احساسات اور خواہشات کے آڑے آئے گی – صحیح ہے بھئی صحیح ہے ۔۔ یہ چیزیں زیادہ اہم ہوگئیں اب تیرے لیے – نہ کہ میری خواہش ۔۔ اب کیا کرتا مجبورہوکر سگریٹ بجھا دیتا ۔۔ کبھی ہاتھ زخمی کرلیتااپنے کہ دیکھو اب تو میں سگریٹ ہی نہیں پی سکتا کہ داغوں کیسے ۔۔ سر جھکائے – دل ہی دل میں بڑبڑاتی ہوتی – مکار خبیث۔۔ دنوں ناراض رہتی ۔۔ اور پھر ہاتھ کی خیریت بھی پوچھتی ۔۔ ہنستا تو کہتی تمھاری نہیں سگریٹ کی فکر ہے کہ دوبارہ پینے کے قابل کب ہوگے – کب بلیڈ پکڑ سکو گے – کب میرے ہونٹوں کے دائیں کونے پر ہلکی سی کھال چھیل سکو گے ۔۔بدنما کر سکو گے ۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔ میں پھر گہری سانس لے کر رہ جاتا-۔۔ کبھی پگڑی پہنتی کبھی مونچھوں کو تاو دیتی کبھی مجھے نسوانیت سے لبریز کرتی ۔۔ کبھی کہتی یہ لو میرا دوپٹہ سونگھ کے اوڑھ لو اب فیصلے میں لوں گی – تم صرف فالو کروگے – بلیک میلر کہیں کی – فی میل ولن – کنجری – ذہنی طوائف نہ ہو تو—جانے کیسے جان گئی کہ شکست کی دبی خواہشات ٹوٹ پھوٹ بلکہ غلامی کے نشے سے واقف ہوگئی – یہاں تک سمجھ گئی کہ مرد کو در اصل ایک ملکہ چاہئے ہوتی ہے جو بستر میں فتح کرلے – اور اور باہر داسی ہوجائے – ہم نے تو ایک دوسرے کو چھوا تک نہیں کہ وہ منع کرتی تھی کہ نہیں رخصتی سے پہلے نہیں ۔۔ اور تو مجھے شریعت نہ سکھا – میں جانتی ہوں تو میرے لیے حلال ہے – پر یہ ملن نہ ہونے کا حلال سا ملال میرا اور تیرا محرم حال ہے ۔۔ اس کی ساری کدورتیں سنبھال اور شادی کی رات گلاب سی مسل کر مجھے پھر ڈسٹ بن میں پھینک دینا—شادی کے بعد – رخصتی سے پہلے نہیں – سمجھا — ؟میں تمھی کرn nnمیں تجھے ترسانا چاہتی ہوں اس لیے ذرا صبر nnمیں دانت پیستا وہ مسکرائے جاتی ۔۔ nnایک دن غائب ہوگئی – میں ایک دوسرے شہر میں تھا—نمبر بند—نیٹ نہیں ۔۔ کیا کرتا ۔۔ کچھ دن کھوجا – فیس بک دیکھا – واٹس ایپ پر سب بند—میں تلملایا اور پھر خوش ہوا کہ چلو دفع ہوگئی ، اچھا ہوا—ہروقت سر پر سوار رہتی تھی – راج کرتی تھی – اندر خواہش بھی تھی اور تجسس بھی کہ یار منکوحہ ہے – ایسے کیسے جا سکتی ہے – میں اس کے کریکٹر پر کیچڑ پھینکنے لگتا- -بھاگ گئی ہوگی کسی یار کے ساتھ—ایسی ہی ہوتی ہیں یہ سب ۔۔ اچھا ہوا حرام کی جنی سے جان چھوٹی ۔۔ گندے خاندان کی ۔۔ پھر محسوس ہوا کہ کیچڑ کی بو میرے وجود سے اٹھنا شروع ہوگی ہ ے—ہڑبڑا کر دل میں جھانکا – تو وہ کنجری وہاں مسکرا رہی تھی—بھاگتا گیا – اور فیس بک پر آیا – بہت دن بعد آیا تھا اس کی آئی ڈی کے ساتھ ہرا ڈاٹ موجود تھا—پورے ہفتے بعد نہایا ۔۔ بال بنائے ، خوشبو لگائی ، سب سے اچھا والا ٹراوزر پہنا،ہاتھوں پہ عطر ملا،ویڈیو کیمرہ اڈجسٹ کیا اور کمرے کی لائٹ تیز کردی — ، دروازہ بند کیا مانٹیر اسکرین پر اس کے نام کو ہولے سے چوما اور ایک گالی دی – اور پھر بلاک کر کے کمپیوٹر بند کردیا—اس وقت میں ہوٹل کے کمرے میں تھا زیادہ دیر نہیں گزری تھی – رات جاگ رہی تھی ۔۔ دل میں کہا—بھاڑ میں جا اب ڈھونڈتی پھرے گی ۔۔ ذلیل عورت—ہونا خوار اب – بھیڑیا دانت نکوستے ہوئے سگریٹ سلگانے لگا– اور نکاح کی تصویر کو لائٹر دکھا دیا—ایک مخمور سا اطمینان اندر اترنے لگا – -nnسگریٹ آدھی ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی –nnیس – آجاو—میں نے چائے منگوائی تھی شاید ویٹر آیا تھا—nnپھر دروازہ بجا—اندر کوئی نہیں آیا—اٹھ کر سگریٹ کو ایش ٹرے میں راکھ کیا- اور دوازہ کھول دیا—کیا تکلیف ہے اندر کیوں نہیں — جملہ ادھورا رہ گیا—وہ مہکتی ہوئی اندر آگئی – آتے ہی دوپٹہ سائیڈ پر رکھا—اور مجھے پرے ہٹا کر سگریٹ سلگا کر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھی—میرے منہ پر معطر دھواں چھوڑا اور ہونٹوں کے قریب ترین مقام پرگہرے گہرے کش اور سانسیں مکس کرتی رہی – مسکراتی رہی – میں ہونق تھا—کہ یہ یہاں کیا کررہی ہے – پھر دونوں مسکرائے – اس نے آنکھوں سے پوچھا—nn”کیسا رہا”nnمیں نے چند لمحے اس کو دیکھا اس کے سگریٹ کو ہی ہونٹوں پر لگایا ، فلٹر پر اس کے گیلے داغ کو محسوس کیا اور دھواں واپس لوٹا کر کہاnn”کردیا بلاک کنجری کو”nnشاباش ناقابل تسخیر نامرد—گلہری کی فیس بکی دوست – لومڑی – اور بھیڑیا—پاگلوں کی طرح ہنسنے لگے – لاہور کے اس ہوٹل کا رنگ اب سیاہ پڑ گیا تھا—مدہم قہقہے اور گھلتے وجود—گلہری کی گمنامی کا جشن منانے لگے ۔ گم گشتہ سوال اب کچھ کچھ واضح ہو رہا تھا—کہ مجھے محبت کیون نہیں ہوتی ۔۔
پوسٹ – 2018-06-29
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد