پوسٹ – 2018-06-17

مجھے محبت کیوں نہیں ہوتیnnپہلی قسطn————————————————————–nnعمر کے آدھے حصے میں پہنچ کر خیال آیا کہ ، اب محبت کو خضاب لگاتا اچھا لگوں گا ؟ کیوں کہ ماضی میں جو محبت نام کی ہلڑ بازی مچا چکا تھا وہ کافی ہے ، سن دوہزار سات سے دوہزار اٹھارہ بہت وقت ہوتا ہے ، لڑکیوں کو لباس کی طرح بدلنے لگا تھا، اورپھر ایسا نہیں کہ ہر لڑکی سے ایک ہی ڈیمانڈ، جسم ،۔ نہیں ایسا نہیں ہوا۔۔۔ ہونا چاہئے تھا ، پر نہیں ہوا، اس لیے کہ ہمت نہیں پڑی ۔۔ تو بس باتوں سے کام چلاتا رہا ، اور جب لگا کہ۔۔۔ ہاں ہمت کرکے، اب بات کرسکتا ہوں ، تو یہ محسوس ہوا کہ پیار ہوگیا ہے ، بائیس تئیس سال کی عمر میں یہ بے قوفی سر چڑھ کر بولتی ہے کہ پیار روح کا بندھن ہوتا ہے ، جب کہ تحت شعور میں، عورت برہنہ محو رقص ہوتی ہے ، کم ہمتی پر روحانیت کا غلاف چڑھا کر محبت کرتے ہیں ہم لوگ ۔ شاید میں نے ایسے ہی کی – جب بھی کی ، جس سے بھی کی ، جتنی بار بھی کی ۔nnاب آپ سے کیا پردہ کہ اس دور میں جب دوست سولہ سولہ ہزار روپے کی نوکری کرتے تھے ، اس وقت میں ساڑھے تین ہزار تنخواہ وصول کر شہنشاہ بنا پھرتا تھا کہ ،ڈگری شوق پر تیاگ دی ، اتنی سی تنخواہ اور شوق راسپوتین سے ، اس کا گھر آفس سے قریب ہیy تھا بس ایک دو چورنگی کا فاصلہ، nnلیکن ملی وہ انٹرنیٹ کے کسی چیٹ روم پر تھی ، ہاں شاید کسی نیوز چینل کی ویب سائٹ کے لائیو چیٹ روم میں۔ بہت کشش تھی اس دور میں ۔۔ اور کٹ، ایم ایس این میسنجر بس یہی دو سمتیں تھیں جہاں لڑکیاں پائی جاتی تھیں ، شایدجعلی آئی ڈیز کی بیماری قدرے کم تھی ۔۔ تھی ،لیکن کم تھی ۔۔ بس لڑکی کو نیٹ سے اتار کر ایم ایس این میسنجر میں قید کرنا اسے دل میں قید کرنے کے مترادف ہوا کرتا تھا ۔ ایک پورا مشن ہوتا تھا ، ایک اچیومنٹ ہوتی تھی ۔۔ تو بس ایک رات کی چیٹ کے بعد، حسین اتفاق یہ ہوا کہ اس نے میرا نمبر مانگا، یہ میں ہیرو نہیں بن رہا ، واقعی اس نے مانگا ، وجہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی ، شاید کچھ امکانات اور اس کی شخصیت کے بارے میں ، میرے لگائے گئے کچھ اندازوں پر وہ متاثر ہوگئی تھی ،بہرحال اندھے کو کیا چاہئے – دو لڑکیاں ۔۔ سلسلہ چل نکلا اور چلتا ہی چلا گیا ، کم تنخواہ کی نوکری نے اسے پانے کی ضد پیدا کردی ، اس لیے نہیں کہ پیار تھا ، اسلیے کہ اختیار سمجھتا تھا۔۔ یہ محبت تھی یا شاید پھر ضد ، بس لگتا تھا کہ اب یہی ہم نشین ہے اور یہی محرم حال، وقت گزرتا گیا ، اس مبہم سے موہوم رشتے کی تفصیل میں جائے بغیر ، اتنا کہوں گا کہ چونکہ بلوغت کے بارہ سال سے بائیس سال کی عمر تک ۔۔ دس سال خشکی میں گھومنے کے بعد ، ہر نصیحت نابود کر کے نسوانی نخلستان کی آسودگی نصیب ہورہی تھی وہ بھی اس وقت جب پڑھائی مکمل کرنے کے بعد مجھےنوکری کے آرے پر ضمیر بنا کر چیرا جا رہا تھا، پیسے تھوڑے تھے، پر اپنے تھے اور میرے تھے تو اس کے تھے ۔۔ بس اسی نشے میں یہ عالم تھا کہ پہلی بار جیتی جاگتی لڑکی سے ہمنوائی کا شرف حاصل ہو رہا تھا، وہ بھی مجھ جیسے انسان کو جو بلوغت کے آغاز میں ہی قحط النسا کا شکار ہونے کی وجہ سے ، مختلف توہمات میں گھرا رہا تھا ، جن میں سے کچھ ایسے بھی تھے کہ ، شاید لڑکیوں کے جسم سے کسی قسم کی بھی بو نہیں آتی ہوگی ، ان کا پسینہ بو سے پاک ہوتا ہوگا، ان کے دانت پیلے نہیں ہوتے ہوں گے ۔۔ ان توہمات کو عجیب سمجھتا تھا ،پر لڑکی کو کبھی بائیولوجیکل مخلوق سمجھا نہیں تھا، آسمانی سمجھتا تھا، حیران بھی ہوتا ، ہنستا بھی اور اپنے وہم کو سینے سے لگائے رکھتا۔۔ گویا ، اللہ کی اس حسین ترین مخلوق کو حور کا عنوان سمجھ بیٹھا تھا ۔۔ آج بھی سمجھتا ہوں ، بہت سوچا پر اس مائنڈ سیٹ کی کوئی ممکنہ وجہ سمجھ میں نہیں آئی ، تو پھر عادت سے مجبور ہر کر وجہ خود بنا لی ۔۔ اور وہ یہ تھی کہ ، بچپن سے ہی ، ہمارے گھر میں ڈائجسٹ افسانے ، جیسی چیزوں پر پابندی تھی ، کہ یہ نوجوانوں کا دماغ خراب کرتے ہیں ، پڑھائی پر دھیان دوبس، زیادہ سے زیادہ بھی صبح ساڑھے ساتھ بجے والے کارٹون یا پھر شام کی چائے کے ساتھ پنک پینتھر دیکھ لو—یا پھر ٹام اینڈ جیری ، واحد لٹریچر جو گھر میں موجود ہوتا تو صرف اردو کی ٹیکسٹ کی کتابیں ، ویسے بھی نوے کی دہائی آخری سانسیں لے رہی تھی، مشغلوں کی کمی تھی ، اور مسئلوں کی زیادتی ، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ گھر سے پیسے چوری کر کے ، سودے سے کرپشن کر کے ، وڈیو گیم کون سا کھیلنا ہے ؟ یا پھر سائیکل کرائے پر لینا کچھ ، اپ گریڈیڈ خبیث اس عمر میں موٹر سائکل کے شہوار بھی بنتے تھے ۔۔ چھپ چھپ کر ۔۔ بس یہ چند لمیٹڈ آپشن تھے تفریح کرنے کے۔nn ۔۔ آج کل کی طرح نہیں کہ مشاغل ہر وقت مودب کھڑتے رہتے ہیں ، بوریت کو برا لگتا ہے ، بوریت خود بور ہوتی ہے ، مشاغل اس کا مذاق اڑاتے ہیں، اور ایک مشغلہ دوسرے سے کشتی کرتا ہے ، گردن ناپتا ہے ، پہلے میں پہلے میں کی رٹ لگاتا ہے اور مشغلے میں مبتلا شخص اس دھینگا مشتی کو دیکھ کر اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔۔nnیہ بات ہے نوے کی دہائی کی – انیس سو اٹھانوے ، جب میرا لڑکپن دہائی دیتا سرزد ہو رہا تھا اس وقت آج کل کی طرح مستیاں اور ہمت دونوں کم تھے ، تھی ہاں یہ الگ بات ہے کہ انٹرنیٹ نے ابھی بس آنکھیں کھولیں تھیں اور چند قدم چلا تھا اس لیے شاز شاز ہی لوگ اس سے واقف تھے اور جو واقف تھے وہ ٹیکنیکل تھے ، ہمارے لیے تو دکان پر ٹوکن یا پھر تنکا لگا کر پسندیدہ وڈیوگیم کھیل لینا ، ایک روپے میں پورے پورے اینڈ کے لیول تک جانا ، حتی کے دکان دار زچ ہو کر ٹوکن دینے سے انکاری ہوجاتا کہ یہ لوگ گاہک مار دیتے ، بس یہی ٹیکنالوجی کی معراج تھا۔۔ ایک مدعا یہ بھی تھا کہ نوے کی دہائی کی آخری چیخیں بہت کربناک تھیں ، ماں باپ کے لیے ۔۔ کیوں ؟ یہ وہ دور تھا جب گھر سے باہر گئے لڑکے ، خبریں بن کر واپس آتے تھے ۔ اس لیے بچپن، بند کمروں میں سیکورٹی کنسرن پر لیکچر لیتےگزرا یا پھر پٹائی کھاتے ۔۔ باہر جاتے ہو ، حالات نہین دیکھے باہر کے وغیرہ وغیرہ ۔۔– میڈیا کی سنسنی کو ابھی بے راہ روی کی چاٹ نہیں لگی تھی لیکن اخبار جو لکھتے تھے وہ کافی ہوتا تھا ۔۔ پھر ایسے میں جب جب ،جیسے جیسے، جہاں جہاں موقع ملا، تفریح کے کسی بھی لمحے کو گریبان سے پکڑ کر چوما ، چاٹا ، چوسا، اس کا رس نکالا، وہ ویڈیو گیم ہو یا پھر کوئی ناول۔۔ اسے بھرپور انجوائے کیا ، اس وقت مسرت کے لمحات بس کیپسولوں میں بل بورڈز پر کبھی کبھار ملتے تھے ۔۔ چھوٹی معصوم خوشیوں کے لیے بہت تگ و دوو کرنی پڑتی اور حصول کے بعد ٹھکائی بھی بھرپور ہوتی ۔۔ وجہ وہی ۔۔ باہر گئے تو کیوں گئے، شرفا کے ہاں وڈیو گیم تو گویا کسی طوائف گاہ سے کم نہیں تھا، اور کباڑئیے سے افسانے ناول خرید کر پڑھے تو کیوں پڑھے – کورس کا کیوں نہیں پڑھتے—پہلے کم دماغ خراب ہے – جو یہ بھی پڑھ رہے ہو—یہ صورتحال تھی –nnآج کی طرح نہین کہ نوٹی فیکیشن کے بھنور میں ، الرٹس کے ہجوم میں اطمینان غارت ہورہا ہے ، سوشل میڈیا نے فاصلے تو گھٹائے ،لیکن آنکھوں میں پانی ماردیا، ککرے پڑ گئے ، نظریات ، رائے ، نیوز، شخصیت پرستی ، جیسے بڑے دیو ، چھوٹی چھوٹی خوشیاں کھا گئے ،، حادثے نوے کی دہائی میں بھی ہوتے تھے ، لڑائیاں جھگڑے سب ہوتا تھا ، پر جو نسل اس دور میں پروان چڑھی وہ جانتی ہے کہ تناسب کیا تھا۔ آپ مجھے غلط کہہ سکتے ہیں لیکن مجھے کافی بار محسوس ہوا ہے کہ نوے کی دہائی ، عقل کی معراج تھی ، اس کے بعد آنے والی نسلوں میں کوڑھ ایک جینیاتی ایلیمنٹ کے طور پر وارد ہوا۔۔۔ یہ صرف میرا وہم بھی ہوسکتا ہے ۔ اس کے لیے ایک مکمل موازنے کی تفصیلی چاہئے ۔ میں بس جو ریزن پیش کرتا ہوں اس سوچ کے پیچھے، وہ یہ ہے کہ نوے کی دہائی میں لڑکپن یا نوجوانی میں قدم رکھنے والے جو بھی افراد میں ان میں اکثریت ایسی ہے جن کو اپنے سے پچھلوں سے زیادہ پتا ہے اور اگلوں سے پہلے پتا ہے – کیوں کہ اسی دور میں انٹرنیٹ کا دھماکہ ہوگیا تھا تومعلومات پھر در کی باندی ہوگئی – بہرحال یہ اس وقت موضوع نہیں ۔۔nn کہاں د س روپے کے بیس وڈیو گیم ٹوکن ، خوشی کی معراج ہوتے تھے، سودے سے پیسے اڑا کر سائیکل کرائے پر لینا، گھر سے پیسے چراکر مسجد بنک کرنا پھر وڈیو گیم پر باجماعت نماز کی ادائیگی کے بعد گھر آکر سچے بن جانا کہ جی ہم تو مسجد کی فلانی صف میں تھے اور امام صاحب نے آج یہ سورت پڑھائی اور رنگ بھرنے کے لیے وضو کا ناٹک کرنا کہ گھر جاتے ہوئے بال تھوڑے گیلے کرلینا۔۔ اتنی عقل یا شعور تب نہیں تھا کہ مسجد جاہی رہے ہ سر کے مسح کو شو آف کرنے لیے بال گیلئے کرنے یا سچے ہونے کے لیے سورت سننے یا پھر صفیں گننے مسجد چلے ہی گئے ، تو احمق آدمی نماز ہیnnپڑھ لو—nnجو بھی تھا،، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی ایکساٹمنٹ اور سینس آف ایڈونچرازم ۔۔ پڑا ہوا نہیں ملتا تھا۔ بلکہ حاصل کیا جاتا تھا۔۔ کہاں وہ دور، اور کہاں یہ ٹیکنالوجی سے بھرپور دور، جب ٹیکنالوجی ، سستی بھی ہے اور وافر بھی ، ایک انگلی کے پور پر موجود وہ سب ویڈیو گیم اب ٹچ فون میں بے توقیر ہوئے پڑے ہیں ۔ پہلے کھیلنے سے فرصت نہیں ملتی تھی ، اور اب کھیلنے کا وقت نہیں ملتا۔ ۔۔ مشاغل کا ہجوم ہے ، لیکن آج بھی انسان موبائل پر پی ڈی ایف پڑھتا ہے ۔۔ میں اس دور کو نہیں کوستا، لیکن اس دور کی وقعت سمجھتا ہوں ، بس اتنا سمجھ لیں اس وقت جو دور تھا وہ ، جیا جا رہا تھا۔۔ اب جو دور ہے ، وہ گزارا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے آگے پھر کچھ ایسا پلٹ کر آئے ۔ کہ لوگوں میں محنت سے کچھ کرنے کچھ پانے کا عزم ہو ، چھوٹی خوشیوں کی اہمیت سمجھیں ، ڈیوائیسز کے جنجال سے نہ نکلیں کہ یہ ضرورت ہے لیکن اس کے غلام بھی نہ بنیں، لوگوں سے جا کر ملیں نہ کہ فرینڈ ریکوئسٹ بھیج کر، پر ایک طرح سے یہ دور بھی صحیح ہے ، کہ لوگوں کی منافقت اور معاشرے میں پھیلی بے حسی دور سے ہی پتا چل جاتی ہے ۔۔ دھوکے کا چانس تھوڑا کم ہوگیا پر بے قوف آج بھی زندہ ہیں اور عقل مند آج بھی پیٹ بھرے ۔nnاپنے لڑکپن کے سادہ سے دور میں ، کتاب پڑھنا , لچر کو لٹریچر سمجھنا، کہ مجبوری تھا کہ کچھ پڑھنے کو نہیں ، اور نہ ہی اجازت تھی کہ کہ پڑھائی پر دھیان دو ، یہ سب فضول کام ہیں ۔۔ تیرہ ، چودہ سال کی عمر سے ہی ڈائجسٹوں میں سر گھسائے رکھتا، فزکس میں عمرا ن سیریز، بائیولوجی سے خواتین ڈائجسٹ ، اور کیمسٹری ، رومانی داستانیں جھانکتی تھیں ، پکڑے جاتے تو ذلیل ہوتے ۔۔ کہ یہ لڑکا اس عمر میں ایسی چیزیں پڑھتا ہے آگے نجانے کیا گل کھلائے گا۔۔ مزاحمت ، ملاحت بنتی چلی گئی ، اس ضد میں پھر سب کچھ پڑھا ، لیکن ادب سے دور تک تعلق نہیں کہ اس دور میں ادب کباڑ کے بھاو نہیں بکتا تھا ۔۔ بس پھر جو ہاتھ لگا ، پڑھ ڈالا، خواتین ، ارم کرن، شعاع، آنچل ، پاکیزہ ، سب پڑھے ، ا ن کی ہیریوئنز کے نام ، سچیوشین کی وارفتگیاں ، ہیرو کی شرافتیں ، ہیروینز کی نزاکتیں ، چونچیں لڑاتی غیبتیں ، خاندانی مسئلے مسائل ، ساس بہو کی عشوہ طرازیاں ۔۔ یہ سب پی گیا۔۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اپنا شوق ایکشن اور جاسوسی پڑھنے کا تھا یا پھر سائیکو تھرلر، لیکن کباڑئے بھلا شوکیس سجائے پھرتے ہیں ؟ پھر جب جو جہاں ہے کہ بنیاد پر پڑھنا پڑتا۔۔ پڑھنا مجبوری تھی کہ وڈیو گیم کی طرح یہ شوق مار کے بجائے ڈانٹ پر موقوف تھا ، اور اس میں گھر والوں کو یہ بھی ہوتا تھا کہ چلو گھر میں تو بیٹھا ہے ۔۔ بڑی برائی سے چھوٹی برائی بہتر۔۔ بس پھر یہ خواتین ڈائجسٹ پڑھ پڑھ کر عورت کا تصور حور سا کرلیا ، یہی تو موضوع تھا ، اور یہی تو بتاتے بتاے لڑکپن پر نکل گیا تھا کہ لڑکیاں حور کیوں لگتی ہیں ، اب ایسا لڑکپن گزرا ہو ، اور ایسے شخص کو عمر کے تئیسویں سال ، لڑکی ملے تو پھر ہوگیا نا مجنوں فرہاد، رانجھا ، سب کچھ ۔۔nnپھر ایک دن وہ لڑکی – “تم بہت غصے والے اور بدزبان ہو ” کہہ کر چلی گئی ، جب کہ میں ، محض ان بائک سواروں کو برا بھلا کہتا جو رات میں ہماری پیکیج لگی بارہ سے چھ کی فون کال کے دوران گلی سے شور مچاتے گزرتے ۔۔ بس فرق یہ تھا کہ میں کال پر ہی برا بھلا کہنا شروع کردیتا تھا۔۔ جس سے اس لڑکی کی نزاکت زک اٹھا تی تھی ۔۔۔ تھی وہ کافی حاکم ٹائپ اور میں اس معاملے میں شیر خوار۔۔ بلکہ صرف خوار۔۔ کیوں کہ شیر کی دم کاٹ کر ہی تو عشق کے نیچے لگا تھا—مجھے وہ بائیک سوار انٹرنیشل اسٹیبلمشنٹ یا کسی یہودی پروٹوکول کے باجگزار لگتے ۔۔ جو ہماری دال جوتیوں میں باٹنے آپہنچتے ۔۔ اور میں ہتھے سے اکھڑ جاتا—بس اسی طرح ایک دن اس کے دل کی کرسی سے گر پڑا ۔۔ ،میں چیختا رہ گیا ، وہ برا مانتی چلی گئی ۔۔ جب چلی گئی تو کچھ دن گزرے مجھے محسوس ہوا کہ کچھ درد سا ہے ۔۔ پھر دماغ آگے بڑھا اور کہنے لگا ، یار ایک بات بتا، جو درد سوچنا پڑے وہ درد کیسا ؟ منطق کی کند چھری نے عشق کی شہ رگ کاٹی دی ، بھل بھل سے جذبات بہنے لگے ، آنسونہ پہلے کبھی اپنے پلے تھے نہ اب ہیں بس ،وقت دھند ہوتا گیا اور جذبات برف۔۔ برف پگھلنی بھی تو تھی ،۔۔ اس نے مجھے میرے رویے کی وجہ سے لات مار کر نکالا تھا اور آج بھی اس کی نظر میں میں قصور وار ، غیر ذمے دارکمٹمنٹ نہ کرنے والا ، خود غرض سا بے وفا شخص ہوں ۔۔ ہوا کروں ۔۔ پرکارپوریٹ کلچر کے ان تازہ اور تاریک دنوں میں نوکری کے دوران ایک سوال بار بار جگمگانے لگا ، کہ یار کیا ہوا جو اس نے مجھے ٹھوکر ماردی ۔۔ میں نے تو نہیں ماری نا ؟ میں نے دکھ نہیں دیا نا۔۔ بس یہ لاجک میرا خول بن گئ میرا مضبوط ترین دفاع بن گئی ، اگر یہ سوچ نہ آتی تو شاید پہلے معرکے میں کام آچکا ہوتا ۔۔ لیکن یہی دماغ ہتھیار بن گیا ، کہ سلوک جیسا بھی صحیح تو بے وفا نہیں، تو نے لڑکی نہیں چھوڑی ، لڑکی نے تجھے چھوڑا، پھر اس لذت میں تسکین ملناشروع ہوئی ، اپنی پرسنیلٹی میں تبدیلی کم ہی لایا اور آنے والے شخص میں لانے کی کوشش بالکل نہیں کی اور جب جب لات پڑتی سکون ملتا ، کہ تو نے کم از کم ساتھ نبھایا ، لڑکی ہی کم ہمت نکلی ، ہوسکتا ہے یہ کوئی نفسیاتی مرض ہو لیکن جو بھی ہے بہت پیارا ہے ۔ خلوص کی انتہا سمجھوتہ نہیں ہے ۔۔ بس یہ سمجھ آگیا ۔۔ یہ واہمہ مضبوطی بن گیا ۔۔ ذلیل ہو کر بے وفا کہلانے کا خون منہ کو لگ چکا تھا ، بچپن میں لگائے گئے واہموں کا پردہ عیاں ہو رہا تھا ، کہ لڑکی حورہوتی ہے ۔۔ آج بھی وہی واہمے پسند ہیں ، لیکن لڑکیاں سونگھنا ممکن نہیں ، ان کے دانت بس دیکھ لیتا ہوں ۔۔ لیکن وہ لڑکی سکھا گئی کہ عورت کے جانے سے جگہ بن جاتی ہے ، ہوا آتی ہے ، دوسری عورت کی خوشبو ساتھ لاتی ہے ۔۔ بس اگر ایک بار پختہ ہوجاو ، ساتھ نہ چھوڑو، کوئی چھوڑے تو جوڑو ، کوشش کرو آخری لمحے تک ، اور جب چھوٹ جائے تو ایسے چھوڑو جیسے موت کے بعد اعضا تک ڈونیٹ کردیے ہیں —دونوں طرف کی شدتیں سہتا تھا ، اور خوش رہتا تھا ، آج بھی رہتا ہوں ، محبت حیران ہوتی تھی ، جذبات پشیمان ہوتے تھے ، شاید بچپن میں پڑھے گئے نسوانی کردار حقیقی زندگی میں مہک بن کر سمارہے تھے روم روم میں بس رہے تھے ۔۔ اور کاغذ سے زیادہ یہ گوشت کے کردار خوش کن تھے ، خوشبودار تھے ۔۔ آگئے بڑھتا گیا، پھٹتا گیا، گرتا گیا، اٹھتا گیا، چلتا گیا، صحیح غلط کی سمجھ کو تجربے کی دھند نگل رہی تھی ۔۔ شعور تھا ، پر مجبور تھا ، جبر تھا خود پر – لیکن صبر موڈ کا تابع تھا ۔۔ اور موڈ ۔۔۔ موڈ تو شاید من کا حاکم ہے ۔۔ ہر عورت سے محبت کی ، پھر بھی محبت کی گنجائش بڑھتی گئی ، زیادہ تر بلکہ نوے فیصد کیسز میں مجھے لات پڑتی رہی ، میں عورت کو بے وفا نہیں کہتا، نہ مانتا۔۔ میں اسے مزید پریکٹکل کہتا ۔۔ اس وقت۔ اور خود کو ہواوں کے تعاقب میں سمجھ کر قصوروار ٹھہراتاکہ ہاں میں کیوں بھاگ رہا تھا اس کے پیچھے ؟ اس نے تو یہی کرنا تھا ۔۔ بس ذایقے مختلف ہوتے گئے ، اور باتیں دعوے بنتی گئیں ۔۔ کسی سے بھی فراڈ نہ کرنے کی نس تو دب چکی تھی ، خلوص اور جذبے ہم معنی لفظ تھے ، اور ہیں ۔۔ ہاں بس لفظوں سے مات دینا نہیں آتا تھا، وہ آج بھی نہیں آتامٹھار مٹھار کے بولنا ،نہ کہنا۔۔ بس چلتا رہا، آگے بڑھتا رہا۔ بہت سے سنگ میل آئے جن پر بات غیر ضروری ہے کہ یہاں “میں محبت کیوں نہیں کرسکتایا کرپاتا”مضمون ہے نہ کہ عورتوں کا میٹر۔۔ جو گنتی ہی کروائے جاوں۔۔nnپھر جیسے بہت سے ماہ و سال ، زن زن گزر گئے ۔۔ اور کردار ابھرتے ، معدوم ہوتے رہے آخر کار ، دو ہزار اٹھارہ آگیا ۔۔ ساتھ ہی وہ آگئی جیسے لفظوں کے سیلاب میں کچرا سا ۔۔ ہاں کچرا ہی لگی تھی ۔۔ کہ جعلی تھی ، حقیقی نام بعد میں پتا چلا، وہ مجھے تئیس سال کی عمر میں واپس لے گئی ۔۔ یا ابھی لے جا رہی ہے ۔۔ وہ جس نے میرے پر پرزے کاٹ دئے ، محکوم ہو کر حاکم ہوگئی اسے ، شاید کیپری کورن ہونے کی وجہ سے معلوم تھا کہ کیپری کورن مرد کو ہنکانا انتہائی آسان ہے – وہ اس طرح کہ ان کو باور کرواو کہ تم حاکم ہو اور پھر ان کو ریڑھے میں جوت دو۔۔ یہ چلتے رہیں گے، چابک خود پر برساتی اور آگے میں بڑھنے لگتا۔۔ جوتیاں خود کو مارتی ، خچر میں ہوجاتا۔۔ میں جانتے بوجھتے خچر بنا ہوا تھا کہ چلو ایک تجربہ یہ بھی صحیح ۔۔ مجھے یہ احساس تو تھا کہ میں نے ٹوٹ کر کسی محبت نہ پہلے کبھی کی ہے نہ اب کروں گا ہاں صرف ٹوٹ جانے کے لیئے تیار رہتا ہوں ، ۔۔ محبت کر سکتا نہیں ۔۔ کیوںکہ ایک تو وہ عمر نکل گئی ، دوسرا اب ترجیح نہیں ، تیسرا ایک گھسا پٹا سا جملہ کہ کوئی ایسی ملی نہیں یا یوں کہوں کہ ٹکی نہیں ۔۔ پر یہ بھی احساس بخوبی ہے کہ ٹوٹ کر ایک بار تو کسی کی عادت ہونی چاہئے ۔۔ سوچتا تھا ، پھر وہ لڑکی مجسم ہو کر آگئی ۔۔ پاگل،میری تحریریں ورد کی طرح پڑھتی ، خود تسبیح کا منکا بنی میری انگلیوں سے لپٹی رہتی ، مجھے کسی عمل کی طرح کرتی ۔۔ لٹی رہتی ۔۔ لوٹتی رہتی ۔ کتیا بنی رہتی ۔ کتا بنائے رکھتی ، پر احساس یہ دلاتی کہ وہ مالکن نہیں بلکہ مالک میں ہوں ۔۔ معمول وہ ہے عامل میں ہوں ۔۔ ہاں یہ عجب معمول ہے جس کو عامل کی شاید اتنی ضرورت نہ ہو کہ اس کے پاس شاید عمر کے سال اور محبت کے مواقع زیادہ ہیں ، اور مجھے زیادہ ضرورت لگتی ہے اس معمول کی – ہم دونوں جانتے ہیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے پر لعنت بھیج کر دفع بھی کردیں تو پیٹھ موڑ کر ہنسیں گے ۔۔ اور پھر کسی موڑ پر ملیں تو ایسے ملیں گے کہ پہلی بار ملے ہیں یعنی والہانہ ۔۔ عجیب سی ہے ۔۔ نہ منہ نہ متھا جن پہاڑوں لتھا۔۔۔ صبح اٹھتی ہےتو بھی حسین ، رات سوتی ہے تو بھی حسین ۔۔ شاید اساس وہی احساس ہے کہ عورت سے بو نہیں آتی ۔۔ اس لیے بھی منہ نہ متھا ہے ۔۔ پر اپنا لگتا ہے – اپنی لگتی ہے- میرے کہنے سے پہلے سوچ لیتی ہے ۔۔ میرے سوچ کو پڑھ لیتی ہے۔ پٌھر کہتی ہے کہ مجھے لفظ دو۔۔ کہتا ہوں تو کہتی ہے جانتی ہوں ۔ میں کنجوس بخیل اظہار کاچور۔۔ آج تک نہ دے سکا۔۔ لیکن اب دینے لگا ، ہم ایک دوسرے سے امر بیل کی طرح لپٹے ایک دوسرے کو ختم کر کے ایک دوسرے کی خوارک بنے ہوئے ہیں ۔۔ میٹھے درد کے قیدی ہیں ۔ اس کو لفظ لےکر چین آتا ،مجھے شاید دے کر آنے لگا۔۔ مجھ پر مضامین لکھتی ہے ، کہتی ہے تم نے لکھنا سکھایا ، جبکہ میں خود کوئی لکھاری نہیں ، سگریٹ پینا کون سا کمال ہے ، اسی طرح ٹائپ کرتے جانا، ہم بات بھی تو کرتے ہیں اس بات کو لکھ دینا کیا کمال ہے بس وہی کرتا ہوں ۔۔ میں ایج مارجن سمجھ کر چھوڑ دیتا ہوں ، کہ بچی ہے اور میں گھاٹ کا شکاری، پر یہ اسے بھی معلوم ہے ، ہم نے اعتراف کیا نہ اظہار۔ ، کرلیتے تو مانتے نہیں ۔۔ میں نے دیکھے بغیر اس کی شدت کو محسوس کیا ، آواز سے دہقانی لگتی ہے ، جملوں سے روحانی اور جسم سے شیطانی ۔۔ میں اس کے شہد میں الجھ گیا ہوں ۔۔ دل نہیں کرتا کہ نکلوں کہ کم از کم یہ سوچنے کا موقع تو دیتی رہتی ہے کہ میں محبت کیوں نہیں کرسکتا—یہ مجھے اس کی سازش لگتی ہے کہ کہیں اس سوال کے گرداب سے جو جواب برآمد ہو اس کا نام محبت ہی ہو۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.