پوسٹ – 2018-06-17

مجھے محبت کیوں نہیں ہوتیnnدوسری قسطnnاور تو اور میں جتنا اس سے دور ہوتا ہوں وہ اتنا قریب کرتی اسے بخوبی اندازہ ہے ، کہ عورت خود سے مائل ہو تو مرد کے لیے بے کشش ہوجاتی ہے ۔ پھر مجھ جیسا شخص جو پسند کا بہت ہی مشکل پیمانہ رکھتا ہے ، نہیں ایسا نہیں ہے کہ میں سرو قد، صراحی دار گردن، گوری رنگت موتی جیسے دانت ہرنی جیسی چال جیسے شاعرانہ مبالغوں کا اسیر ہوں ، ہاں انہیں حقیقت سمجھتا ہوں ، فطرتی بھی اور ان کا احساس بھی رکھتا ہوں شاید کسی گوشے میں ، کسی حد تک یہ سب چاہتا بھی ہوں گا، لیکن پھر اندر سے ایک بھیڑیا چنگھاڑتا ہے ، ایسے سب کتابی لفظ، چہرے ، اور میعار سہم کر گنگ ہوجاتے ہیں ، بھیڑیا ان سب لفظوں میں سے ایک لفظ چنتاہے ، ایک پیمانہ منتخب کرتا ہے ، اور وہ ہے کہ بس عورت ہو، عمر ، رنگ قد کاٹھ ، روپ یہ سب ہارمونز کو خوش کرنے کی حد تک تو ٹھیک ہے ، لیکن بھیڑیا گوشت کھانے کا قائل ہے ، وقت پر ملے اور بقدر بھوک ملے ، نہ زیادہ نہ کم ، یہ شاید عورت کو منتخب کرنے یا اس پر مائل ہونے کا مشکل ترین پیمانہ ہے ۔۔ وہ بھی عورت کے لیے – کیوں کہ عورت اس سوال میں غوطے کھاتی رہتی ہے کہ مجھ میں ایسا ہے کیا جو یہ اتنا پاگل ہے ۔۔ اتنا بپھرتا کیوں ہے کہ ۔۔ اور بھیڑیا دانت نکوس کر اسے چبا چبا کر لفظوں کی طرح تھوکتا رہتا ہے ، عورت ملکہ بنی رہتی ہے ، مفتوح ملکہ ، اور بھیڑیا اس سے بقدر بھوک اپنا حصہ کشید کرتا ہے ۔۔ آخر میں شکار بھی خوش اور شکاری بھی ، بس یہ حال ہے اپنا ، اس طرح کی کیفیات میں آدھی عمر گزار دی ، ایسا نہیں ہے کہ یہ جذبات ابھی ہیں ، نہیں سن بلوغت سے ہی ہیں ، وجہ شاید جس ماحول میں پروان چڑھے اس ماحول میں گوشت کی ایک بوٹی کی خوشبو کے لیےبھی ترسنا پڑتا تھا ، تو پھر گوشت سے بنے مختلف سالن، ڈشیں ، کٹا کٹ، نہاری ، کباب، اسٹیو، سٹیک ، تکہ ، یہ سب اپنی کشش کھو بیٹھے ، حقیقی زندگی میں بھی کچا گوشت مصالحہ لگا کر کھانے میں جو لطف ہے وہ شاید پکا ہوا ہوا نہیں ۔۔ لیکن میرینیٹڈ گوشت کی تھالی میں پڑے ان استعاروں کو شاید ہی کوئی سمجھے ۔۔ کہ بھوک جوع البقر بن گئی کہ بس پھر حسن ماند پڑتا گیا، پیمانے سرنگوں ہوتے گئے ، اور پورے قد سے بلند ہوا ایک پیمانہ ، “عورت ہونی چاہئے ” ۔۔ یہ سب چل رہا تھا کہ ایک دم حال کی کوکھ نے گلہری کو اگل دیا ، دس بارہ سال چھوٹی گلہری ، گلہری جتنی بھی بپھر جائے ۔۔ بھیڑیے کا کر ہی کیا سکتی ہے۔۔ بس جنگ ہوا کرتی گلہری اور بھیڑئیے کے بیچ۔ گلہری لات مارتی ، بھیڑیا لڑکھڑانے کی اداکاری کرتا ، گلہری گھونگھٹ نکال کر سنبھالنے کا ناٹک کرتی ۔۔ سنبھال بھی لیتی اور پھر چند قدم پیچھے ہٹ کر ۔۔ دوبارہ سے حملہ آور ہونے کا اسٹانس بنا لیتی ۔۔ ،میں سمجھ رہا تھا یہ سب چالیں ۔۔ کہ پہلے سرکشی سے غصہ دلاو، پھر فرمابنرداری کی حد کر کے تھکا دو۔۔ ان نے میرے ایک بنیادی اصول کو چکنا چور کردیا تھا ، کہ شاید میں زندگی میں سب سے زیادہ چیز سے چڑوں گا یا خار کھاوں گا وہ میری فطرت سے مامور کوئی دوسرا شخص ہوگا کہ ، same poles apart کے سائنسی اصول ، اٹل حقیقت ہیں ۔۔ اور مجھے لگتا تھا اور کافی حد تک ٹھیک بھی ہے کہ میں اپنی ہی طرح کے کسی شخص سے compatible نہیں ۔ میں اپنی ذات کے فیچرز لیے ہر مرد و زن سے دور بھاگتا ہوں ۔۔ ہم جیسے لوگ شاید مجسم ڈیڈلاک ہوتے ہیں ۔، گلہری نے یہ لاک فریز کر کے چکنا چور کردیا۔۔ پہلے فریز۔۔ کیا پھر گرم کیا ، پھر اس اصول کو فالج دے کر دیس نکالا دے دیا ۔۔n nSame poles apart والی بات شاید اس نے بھانپ لی تھی اور یہ بھانپتے ہی اس نے مجھ سے دور بھاگنا شروع کردیا ، میں گنگ ہو کر ایک جگہ کھڑا ہوگیا جب تک وہ بھاگتے بھاگتے مخالف پول تک نہ پہنچ گئی ۔۔ میں یہ سمجھتا رہا کہ پیچھے بھاگا تو کہیں ۔۔n nOpposite pole attracts والی سائنس روبہ عمل نہ ہوجائے ، یہ بھول گیا کہ یہ گلہری نما لڑکی خود پول میں ڈھلنے جا رہی ہے ۔۔ اور وہی ہوا بھی ۔۔ پر اپنے وجود سے محبت فضاوں میں گھول دینے والی یہ احمق گلہری ، بھول رہی تھی ، کہ محبت مجھے چکن پاکس کرتی ہے ۔۔ جذبے الرجک کرتے ہیں ، روح کا بندھن ٹائپ باتیں ، قے آور ثابت ہوتی ہیں میرے لیے ۔۔ جی متلانے لگتا ہے ، جب “ہم اٹوٹ بندھن میں ازل سے ابد تک بندھے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں ” جیسے الفاظ ، ریستورانوں کے نیم تاریک گوشوں میں بے توقیر ہوتے دیکھتا ہوں ۔ پر وہ چونکہ میراعکس تھی ۔۔ اس لیے جان گئی کہ میں یہ سب الفاظ اور جذبات کو کوڑے کے ڈھیر کے برابر سمجھتا ہوں ۔۔ اس لیے اس نے ایسے تمام حرف اپنے جسم کی خوشبو اور پسینے کا گیلا پن لیے دوپٹے سے باندھے اور دور پھینک آئی ۔۔ اس وقت جب وہ یہ کام کررہی تھی تو شاید اس کی نسوانیت بلک رہی تھی ۔۔ کہ وہ یہ سب لفظ امانت کی طرح چن کر رکھنا چاہتی تھی لیکن میری وجہ سے اس نے انہیں کوسوں دور پھینکنے پر مجبور کیا ، آنکھوں کو پسینے بھرے دوپٹے سے پونچھا اور دوپٹہ کمر سے باندھا ، گلے کا لاکٹ ریشم سے بھری وادیوں پر جھولنے لگا—اور وہ مودب میرے سامنے آکھڑی ہوئی ۔۔n nذاتی طور پر مجھے عورتیں بہت پسند ہیں ، خصوصا وہ جو بے وقوف ہوں اور جنہیں اس بات کا ادراک بھی ہو کہ وہ بے وقوف ہیں ، حتی کے پسندیدگی کی معراج تو عورت کی وہ عقل ہوتی ہے جو اسے باور کرواتی ہے کہ اپنی بدھی ، اپنی عقل اپنی منطق، اپنے من پسند مرد کے سامنے الٹی چھری سے ذبح کر کے پھینک دے ، تو وہ تجھے عقل مند مان لے گا—ورنہ نہیں ، مرد کی یہ فطرت ہی نہیں کہ وہ عورت کو عقل مند سمجھے – دل میں چاہے مانتا ہو ۔ شرط بس یہی ہوتی ہے کہ عورت اپنی تمام تر عقل اپنی لمبی چوٹی میں سمو کر مرد کے گرد لپیٹ لے اور روبوٹ ہوجائے – ایسا بہت مشکل ہوتا ہے – اور ایسا ہوجائے تو مرد کے وہ سارے پیمانے جس میں اس نے عورت کو اپسرا کاروپ دے کر سوچا ہوتا ہے وہ پگھل کر بہہ جاتے ہیں اور پھر راج کرتی ہے وہ بظاہر بے قوف لیکن بلا کی عقل مند گلہری کہ جس کا اپنا دماغ مرد کے قدمو ں ، جس کی اپنی مرضی مرد کی بوٹ کی نوک پر ۔۔ لیکن اس کی اپنی مٹھی میں معلوم ہے کیا ہوتا ہے ؟ – جی ہاں ۔۔ مرد کا دماغ ۔۔ ہو سکتا ہےیہ بات سب پر لاگو نہ ہوتی ہے پر ہم تو بھیڑئیے اور گلہری کی بات کررہے ہیں ،، گلہری یہ بات سمجھ چکی تھی اور جذب بھی کر چکی تھی ۔۔ اس نے بڑے سکون سے “میں تیری غلام ہوں ” کہہ کر بھیڑیے پر کاٹھی ڈال لی ، اور سوار ہوگئی اب بھیڑیا سمجھتا کہ یہ مجھے فالو کرتی ہے، جبکہ گلہری یہ سوچ کراپنی دم جیسی چٹیا میں منہ دیے رکھتی ، اپنا پسینے والا دوپٹہ منہ میں دیے ہنستی ہے۔۔ کہ عجیب پاگل مرد ہے ۔۔ جاہل کہیں کا۔۔ اس بھیڑیے کو یہ نہیں پتا کہ میں اسے فالو نہیں کر رہی ۔۔ اس پر سواری کر رہی ہوں اور جو زین میں نے کسی ہے اس کا نام ہے – اطاعت۔۔ یہ سب مجھے پہلے دن سے معلوم ہے – یہ ٹرکس یہ ٹیکنیکس یہ ٹیکٹیٹس۔۔ یہ فنکاریاں۔۔ لیکن میں کیا کرتا—مجھےمیرا نشہ مہیا ہو رہا تھا ،،، مجھے اطاعت سے غر ض تھی—وہ مجھے مل رہی تھی—مجھے گلہری کے دل میں چھپے مکار ارادوں کا کیا کرنا—میں تو نیت کا مکلف تو نہیں نا۔۔ – میں تو ظاہر کی بات کرتا—کہ ظاہر میں، گلہری میری فرمانبردار ۔۔ باطن میں ، اگر میں اس کی سواری بھی ہوں تو مجھے کیا فرق پڑتاہے – میرے قدم تو نہیں روکتی نا۔۔ تو کرے ،جو کرنا ہے ۔ میں اب تک یہ سب ڈھونگ سمجھتا تھا- کہ یہ کیسے ہو سکتاہے ۔۔ گلہری کیپری کورن ہے اور کیپری کورن ہوتے ہوئے فرماں برداری ؟ یہ سورج کہاں سے نکل رہا ہے – کہیں توبہ کا دروازہ بند تو نہیں ہونے لگا—کیپری کورن کب سے اطاعت گزار ہونے لگے ۔۔ ؟ پھر سوچا ، عمر کے جوالا مکھی پر بیٹھی ہے ۔۔ وقت سے پہلے آئی میچورٹی ، اور دل کے شدید جذبات کے بیچ رسہ کشی ہے ۔۔ ، شعور جب مکمل ہو کر اس کے کندھے ڈھلکائے گا تو اسے سمجھ آجائے گی کہ سراب پیاس نہیں بجھاتے –اگلے لمحے وہ ہنستی – تجھے کیا پتا کہ میری پیاس ہی سراب ہیں ۔۔ پھر گلہری اس رسہ کشی میں نڈھال بھی ہورہی ہے ۔۔ بھیڑیا تماشا دیکھتا رہتا۔۔ اور گلہری ،اسے سنگھآسن پر بٹھائے اس کے سامنے دن رات تماشا کرتی رہتی ۔۔ آہستہ آہستہ میرے سر میں یہ سوچ جامد ہوگئی ۔۔ کہ کیپری کورن ہے نا ۔ ہر چیز کو چیلنج کے طورلیتی ہے چیز ہو یا شخص ۔۔ ۔۔ پہلے تو Don’t care رویہ رکھنا ہے ۔۔ پھر جب سامنے سے بھی یہی رویہ ملے تو “اچھا تو مجھے بھاو دے گا” والی کیفیت گلہری کی انا پر چیلنج کی ضرب لگاتی رہی ہے ۔۔چیلنج کیپری کورنز کے لیے نشے کی طرح ہوتا ہے –پہلے تو کرنا نہیں – کرلیا تو ہٹنا نہیں ۔۔ لاو ، اور لاو ،، بڑے لیول کا نشہ لاو۔۔چھالیہ ، سپاری ، سگریٹ ، چرس ، ہیروئن ، بلیڈ کے کٹ ۔۔ یہ سب موہوم سی خواہشات کے بجائے – فتح کے تمغے بننے لگتے ہیں ، یہی بات تھی – میری فرماں برادری کرنے کی کٹھن کنڈیشن ، اس کے حرام مغز میں ، چیلنج بن کر لگی تھی ۔۔ اذیت نے مزہ دیا ، اور وہ فرماں بردار ہوتی چلی گی ۔۔ اسے اس کی تکمیل کر کے sense of achieving ملنے لگی ، وہ اس کو کوئی معرکہ سمجھ کر خودکو فاتح سمجھنے لگی – یہ ہوتا ہے – چیلنج لینا ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس کوپورا کیا جائے اور فتح کا پھریرا بس اپنے ہی سر پر رہے – بڑے خود غرض ٹائپ ہوتی ہے کیپری کورن کی – اپنی ذات میں سب کو امپلوڈ کرکے فنا کرنے کے پاگل سے ارادے ، بس یہی کررہی تھی وہ – ورل پول بنی ہوئی تھی – سب گم ہوتا جا رہا تھا اس کی کشش میں ۔۔ اور اسے شکست خوردہ ہو کر بھی فتح کا وہ لطف نصیب ہو رہا تھا ، جیسے کوئی نفسیاتی مریض اپنی رانوں پر یا اپنی کلائیوں پر بلیڈ سے کٹ لگائے ، خون چکھے ۔۔ مجھے گلہری کو دیکھ کر ایک کہانی کا کردار یاد آئی – جس کا نام تھائی وانگ تھا—اور جو اپنے قابل اعتبار محافظ مرد سے –اپنی ننگی پشت پر کوڑے لگواتی تھی کہ اسے اس چیز کا نشہ تھا۔۔ یہ گلہری بھی چیلنج کی اذیت کو اپنی اطاعت کی پشت پر کوڑی کی طرح کھاتی تھی ۔۔ اس لیے شاید میری کرواہٹ سے مٹھائی کشید کرتی ، یہ کام مشین کی طرح کرتی ۔۔ میں گنا سا سخت رہتا ، یہ میری جڑ پر اطاعت کی درانتی سے وار کرتی ۔۔ مجھے توڑ موڑ کر اپنی من موہنی اداوں اپنی خوبصورت مکاریوں سے بھری ، اطاعت گزار نامی مشین میں دے کر – میرا سارا جوس نکالتی ، اس جوس میں اپنی فتح تھوکتی ، اور مجھے بھر کر پیش کردیتی – یہ مجھے میری ہی کرواہٹیں بھر بھر کر پلا رہی تھی – میں گلاس ہونٹوں سے لگاتا، شش پنج سا معدہ ہوجاتا ۔۔ اور یہ کنجری ۔۔۔ “بس یا اور لاوں ” کہہ کر میری طرف کمینی نظروں سے دیکھتی جیسے کہہ رہو – بہت دیکھے تیرے جیسے اکڑفوں والے – چپ چاپ پی – سمجھا – پھر یہ کمرے کی بتی بجھا کر – اپنے من میں مجھے قید کر کے – باہر چلی جاتی – سوجاتی – مجھے جگا کر خود پر دربان بنا کر—میں سمجھتا کہ شاید میں اسے زندان میں قید رکھے ہوے ہوں – وہ سوتے میں خواب دیکھتی کہ شاید میں اسے پنکھا جھل رہا ہوں ۔۔ اب تک میں اس کے دیے گلاس میں اس کی اطاعت کا تھوک مکس کر کے پی رہا ہوں ۔۔ اور پتہ نہین کب تک پیتا رہوں گا۔۔ یہ لفظ پھینکتا رہوں ، گا جملے بنتا رہوں گا۔۔ جب تک ان لفظوں کو بن کر وہ جواب نہ کاڑھ دوں کہ جس کا سوال تھا کہ مجھے محبت کیوں نہیں ہوتی

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.