یہ محض ایک موازنہ ہے ،کوئی حتمی بات نہیں، بات بس اتنی سی ہے کہ منٹو کا کردار نبھانے والے بھارتی سٹار اداکار نوازالدین صدیقی، کی ایکٹنگ پر بات کرنا تو فی الحال مقصد نہیں کہ نوازالدین کا نام ہی آج کل فلموں میں کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے، غالب گمان تو یہ ہے کہ بہت سی فلمیں محض اس لیے بنا لی جاتیں کہ اس میں نوازالدین کا کردار رکھناہے — مثلا منا اور مائیکل، مثلا سلمان خان کی کک جس میں کہانی سلمان خان کے گردگھومتی ہے لیکن لوگ اس لیے دیکھیں گے کہ نوازالدین ولن کا رول پلے کر رہا ہے ۔۔باقی رہی منا مائیکل ، تو اس مضمون میں ٹائگر شیروف کا ذکر کرکے بریانی میں الائچی یا لونگ نہیں ڈالنا چاہتا۔۔ اس لیے آتے ہیں منٹو پر ۔nnچند باتیں سمجھ لیجئے ، منٹو نے اپنی زندگی کا بہت سا تلخ حصہ، بوتل میں قلم ڈبو کر کاغذ پر پھیلایا ہے ۔۔ ممتاز مفتی کے بقول وہ ایک بڑا آدمی تھالیکن یہ بات اسے بوتل نے سمجھنے نہ دی ۔۔ ہاں یہ بھی درست ہے کہ منٹو نے پارٹیشن کے لمحے اپنی آنکھوں سے جیے ہیں ، دیکھے نہیں ، جیے ہیں ۔۔ جس کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں راکھ سے سیاہ حاشیے اتر آئے ۔اسی طرح اور بہت سی تلخ نوائی کو بوتل تلے دبا کر وہ کاغذ جوڑتا رہا ، قلم سے معاشرہ کھودتا رہا ، پچھلے محلے گھومتا رہا اوراس کو بیان کرتا رہا۔ اس کی کالی شلوار می جو ٹھنڈا گوشت پھنسا ہے اس کی بو
آج بھی لوگوں کی کنپٹیاں گرم کیے رکھتا ہے۔۔ اتنی تلخی کوئی پیٹ بھرا کم ہی لکھ سکتا ہے ۔۔ اتنا ڈپریشن کوئی نارمل آدمی کم ہی بیان کرسکتا ہے ۔ یا شاید بالکل ہی نہیں کرسکتا ۔
یہ تو تھا منٹو کا ایک مختصر سا خاکہ ، اب اس کو نوازالدین سے جوڑئیے ۔ اس سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھ لیجئے ، اور وہ یہ کہ اداکار کو کردار میں ڈھلنے کے لیے وہ زندگی جینی پڑتی ہے ، کیمرے کے سامنے آنے سے پہلے کیمرے کے پیچھے وہ لفظ، وہ احساسات، وہ تمام تاثرات ، دماغ میں ثبت کرنے پڑتے ہیں جو اس کردار کا خاصہ ہوتے ہیں جو مل کر اس کردار کو بناتے ہیں ، تاکہ جب وہ اسکرین پر دکھائی دے تو اس کو ادا کرنے والا اداکار مرچکا ہو، بس وہ کردار زندہ ہو۔۔ اور یہیں نوازالدین بازی لے جاتا ہے ۔۔ کیسے ؟ وہ ایسے کہ نوازالدین نے بھی اپنی زندگی کے پندرہ سے بیس سال گراس روٹ سے اوپر اٹھتے اور لائم لائٹ مین آتے گزار دئے ، اس کی لائف سٹوری پڑھیں یا سنیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص حالات کی کڑواہٹ کو گھونٹ گھونٹ پی چکا ہے ، یہ بہت سے کرداروں کو حقیقی زندگی میں بہت پہلے جی چکا ہے، اب بس لائنز یاد کرتا ہے اور کہہ دیتا ہے ۔ کیوں کہ عمر کے اس میچور حصے میں اسے معلوم ہوتا ہے ، احساس ہوتا ہے ان مشکلات کا جو ایک محنتی اور کام سے مخلص انسان کا طرہ امتیازہیں ، ایسا شخص محض کردار ادا نہیں کرتا، بلکہ انہیں پہن لیتاہے ، بہت سے روپ دھارلیتا ہے ، پھر جب ضرورت پڑتی ہے تو اسکرپٹ کی مناسبت سے اس کے اندر موجود نقابوں کے جھرمٹ سے ایک چہرہ ابھرتا ہے جسے ہم نوازالدین کا منٹو سمجھتے ہیں ۔۔ ہاں ۔۔ ! ایک چیز جو ابھی تک تشنہ ہے ، وہ ہے منٹو کی حقیقی آواز ، اگر اس کا کوئی انتظام ہوجائے ، کوئی ریکارڈڈ چیز، کوئی ایسا آڈیو ٹکڑا جس میں منٹو کی اپنی آواز موجود ہو ، تب ہی کہا جاسکتا ہے کہ نوازالدین مکمل طور پر اس کردار میں اترا ہے ، ورنہ پھر یہاں تک ٹھیک ہے کہ منٹو کی جسامت،منٹو کا ہیر اسٹائل، اس کا چشمہ، اس کی چال ڈھال ، اس کے وارڈروپ یا گیٹ اپ کے دوسرے لوازمات تو آف دا کیمرہ کریو کا کمال ہے ۔۔ اور جہاں تک بات ہے ڈائیلاگ، اسکرپٹ وغیرہ کی ۔۔۔۔ تو جناب ، یہی تو منٹو کی جاگیر ہے ، جب اس کے افسانوں نےچہار سو آفت ڈالی ہوئی ، تو اس کی اپنی زندگی کس قدر دلچسپ اور کیسے کیسے لفظوں میں پروئی ہوئی ہوگی ؟ کیسے کیسے مضامین اس کے حالات میں ٹانکے گئے ہوں گے خصوصا جب وہ پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد کا منظر بیان کرتا ہے تو سنی سنائی حب الوطنی نہیں کہتا، بلکہ اس نے
وہ مناظر دیکھ کر، سہہ کر ، ان سے گزر کر قلم بند کیے ہیں، ۔۔ آپ منٹو کا آخری سیلوٹ پڑھیں ، اس کا ٹوبہ ٹیک سنگھ گھومیں ، اس کی بھنگن سے ملیں، اس کے ٹیٹوال کے کتے کو پچکاریں ، اس کے کھینچے گئے سیاہ حاشئیے دیکھیں تو معلوم ہو کہ تاریخ محض مطالعہ پاکستان یا مسئلہ کشمیر کا پندرہ نمبر کا سوال نہیں ، اب جو منٹو خود یہ چیزیں لکھ گیا ہو ، تو پھر کیا خیال ہےاس کی اپنی زندگی پر بنی فلموں میں لکھے ، کہے اور فلمائے گئے ڈائیلاگز کا کریڈٹ بھی محض ایکٹر کو دے دینا ، منٹو کے ساتھ تھوڑی سی زیادتی ہوجائے گی اسلیے فی الحال ہم لفظوں کی جادوگری اور اسکرپٹ کا کمال لکھاری کے کھاتے میں ڈالتے ہیں ۔
یہ تو ہوا بیتے ہوئے منٹو کا موازنہ آج کے نواز الدین سے ۔ کیسا تھا یا کیسا نہیں تھا اس کا فیصلہ آپ
پر چھوڑتا ہوں ۔آخری بات یہ کہ منٹو کی بیوی کاصفیہ منٹو کا کردار ادا کرنے والی بھارتی اداکارہ راسیکا دگل کی ایکٹنگ میں بھی کوئی کلام نہیں – اس پرایک مضمون پھر کسی دن الگ سے لکھا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا-
پوسٹ – 2018-05-13
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد