سمندرکا غرور بیچ کر پچیس تیس سال تہذیب کے دھوکے میں گزارنے والوں کو اگر یہ پڑھنے یا سننے کو مل جائے n”میں نے سنا ہے کہ کراچی میں پانی بھی بکتا ہے — یعنی تم لوگ واقعتا بھی خرید کر پیتے ہو”؟
اور جب یہ میسج کرنے والا شخص طعنے کے بجائے ازراہ تجسس بس یہ بات کنفرم کر رہا ہو تو — بے اختیار یہ نعرہ لگانے کا دل کرتا ہے nہمیں پانی نہیں — مین پوری چاہئے ۔
پوسٹ – 2018-04-28
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد