پوسٹ – 2018-04-28

سمندرکا غرور بیچ کر پچیس تیس سال تہذیب کے دھوکے میں گزارنے والوں کو اگر یہ پڑھنے یا سننے کو مل جائے n”میں نے سنا ہے کہ کراچی میں پانی بھی بکتا ہے — یعنی تم لوگ واقعتا بھی خرید کر پیتے ہو”؟
اور جب یہ میسج کرنے والا شخص طعنے کے بجائے ازراہ تجسس بس یہ بات کنفرم کر رہا ہو تو — بے اختیار یہ نعرہ لگانے کا دل کرتا ہے nہمیں پانی نہیں — مین پوری چاہئے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.