یہ پوسٹ تعصب فروشی نہیں — بلکہ عام عوام کا گلی محلے ، ہوٹل ، چوک چوپال کا رویہ ہے ۔۔۔ اس پوسٹ پر کوئی ادبی محافل کی بات نہ کرنے آئے تو بہتر ہے — کہ اکثریت کا موازنہ اقلیت سے کرنا اثرات گٹکا خوری کا ایک مظہر ہوسکتا ہے لیکن حقیقت نہیں ۔ ہے تو یہ چھوٹا سا ، عام سا ایک واقعہ لیکن ۔۔ عجیب ہے — پر اچھنبا نہیں — nnکل ہوٹل پر بیٹھے ہوئے دو افراد کی پٹھان ویٹر کے بارے میں گفتگو nnپٹھانوں میں ایک چیز ہوتی ہے nگرمی میں ان کا دماغ کام نہیں کرتا
اور رش لگ جائے تو یہ لوگ پریشر فیس نہیں کرسکتۓ nnاب پتا نہیں یہ بات کہنے والے پنجابی تھے یا مہاجر کیوں کہ میں شکلوں میں قومیں نہین ڈھونڈتا ، لہجے مجھے خاص سمجھ نہیں آتے سوائے کراچی کو کرانچی اور چاول کو چانول کہنے والوں کے ۔۔ لیکن یہ کنفرم ہے کہ وہ دونوں جو کوئی بھی تھے– مزدور طبقہ تھے — اور عام عوام تھے — ہنسی آتی ہے پھر جب کوئی ووٹ کا متمنی یہ کہتا ہے کہ غریب پرور ہے یہ شہر۔۔۔ جہاں کہ غریبوں کا یہ حال ہے — تو اوپر والے تو بالکل جائز فرعون ہیں ۔۔ nnنوٹ: پٹھان ویٹروں کے دئے ہوئے دکھ اپنی جگہ
پوسٹ – 2018-04-28
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد