لوط علیہ السلام کی بیوی ، استعارہ ہے ۔n———————————————nnشخصیت پرستی دیکھ کر حیرانی یوں نہیں ہوتی کہ جب حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی، اللہ کے عذاب کو پتھروں اور زلزلوں کی صورت میں برستے دیکھ کر کھلی آنکھوں سے کفر کا ارتکاب یہ کہہ کر کرتی ہےn”میری قوم “n”ہائے میری قوم” nتو پھر آج کے دور میں فیس بک پر موجود ، تبصروں میں گتھم گتھا اندھا دھند سیاسی ،مذہبی ، فرقہ پرست ، قوم پرست، جنرل پرست، اکابر پرست، عقل کے اندھوں کو دیکھ کر صرف اور صرف خوشی ہوتی ہے ، خوشی اس لیے کہ nمیرا رب ، میرا رسول میرا دین ، رب کا کلام ، احادیث نبوی ، پیشن گوئیاں، اور عصبیت کے بارے میں موجود فرامین ، سب حق ، سچ ہیں ، خوشی اس لیے بھی کہ ان فرامین کی تحقیق کے لیے مجھے ضرورت نہیں کہ میں سائینس کے پاوں پکڑوں یا ریسرچ کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگا کر کسی چرسی ، بھنگی ، ہیروئنچی ، زانی ، شرابی پروفیسر یا استاد کے نام پر دھبے شخص کو دانشور قرار دے کر اس سے خدا کی نفی کا علم سیکھوں اور سائنس کو مقدم جانوں ۔۔ nاگر یہ سب دیکھ کر فیس بک پر لوگوں کو کھجل خوار ہوتے دیکھ کر آپ کی بھی کیفیت ایسی ہے کہ تو خدا کا شکر ادا کیجئے کہ اس نے آپ کے سامنے قوم پرستی کی حقیقت آشکار کرکے آپ کو مذہب یا خود سے برگشتہ نہٰں کیا ، بلکہ خود سے مزید قریب کیا ، قرآن ، حدیث کی محبت مزید گہری کردی ، اور ایسی سوچ سے محفوظ رکھا کہn”مذہب نے آخر دیا ہی کیا ہے ، مذہب نے تو صرف فساد پھیلایا ہے اس لیے ریاست کو لادین ہونا چاہئے “nnیہ سوچ اتنی ہی خطرناک ہے ، جیسے پھیپھڑے کے کینسر، یا ٹی بی کے مریض کے لیے سگریٹ۔
بس یوں سمجھیے کہ یہ سارے واقعات، لوط علیہ السلام کی بیوی ، حضرت نوح کا بیٹا ، یہ سب شخصیت پرستی اور سرکشی کے زندہ استعارے ہیں ۔
پوسٹ – 2018-03-22
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد