ادھ کھائے خربوزے n——————————————-nnسیڑھیاں اترے ہوئے لگا کہ سامنے والی گیلری سے کوئی جھانک رہا ہے، سر اٹھا کر دیکھنا، وہ بھی محلے میں۔۔ ذرا محنت کا کام ہے ، آگے بڑھا تو سر پر ایک چرمرایا ہوا کاغذ آکر لگا nخوشی ہوئی کھول کر دیکھا تو لکھا تھاn” بھائی آدھا کلو دہی لادیں ,گھر میں دہی ختم ہوگیا”n دہی لا کر دیا تو چلمن سے چہرہ غائب۔ سوچا کہ تھیلی دینے کے بہانے نزاکت سے ہاتھ ٹکراوں گا اور ویلنٹائن مناوں گا ۔ nاس نے ٹوکری لٹکادی ، میرا ارمان لٹکا رہ گیا ، اگلے دن یہی ہوا اس کا دہی ختم ہوتا اور ارمان ۔
میں کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح یہ کچھ اور بھی منگوائے، کچھ تو بات آگے بڑھے، لیکن ارمان کے سر اٹھاتے ہی ٹوکری نیچے آجاتی ۔۔
ایک دن ،ہمت کرکے ٹوکری میں ۔۔ پرچہ اور ارمان رکھ کر بھیج دیا nجواب نہیں آیا ، پھر بھیجا ، پھر نہیں آیا ،بھیجتا رہا مایوس ہوتا رہا ، ارمان یونہی لٹکا رہا گیلے تولیے لیکن وزنی پپوٹوں کی طرح ۔۔ بوسیدہ بوجھل اور خشک آنکھیں لیے ، اک نگاہ کھڑکی اور دوسری ارمان پر ، کہ ٹوکری آئے تو ارمان سیدھا کروں ۔۔ اور رشتہ بھیجوں ۔nnآخر ایک دن جواب آہی گیا
لکھا تھاn”دہی لانے کا شکریہ ۔۔ وہ در اصل میرے چھوٹے بھائی کے پے پر چل رہے ہیں دماغ کی مضبوطی دہی سے مشروط ہے گھر میں اکیلی ہوتی ہوں پچھلے سال طلاق ہوئی ہے کیا آپ مجھ سے محبت کرنا پسند کریں گے “nnمیں نے لکھ بھیجاn”آپاں جی ۔۔ بات یہ ہے کہ آپ مجھے بھی چھوٹا بھائی سمجھئے میں کچے بیر کی کھٹاس چاہتا ہوں پھیکے اور ادھ کھائے خربوزے پسند نہیں آپ دہی منگواتی رہیں میں نے دکان والے سے سیلز پر کمیشن باندھ لیا ہے “nوہ ہنسی اور کہنے لگی
افسوس ہوا
امید ہے برا نہیں منایا ہوگا
پوسٹ – 2018-02-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد