پوسٹ – 2018-02-23

اس پوسٹ کا مقصد یہ بھی نہیں کہ گناہ کیے جاو پر ایک لمحے کو اللہ کے رحم، اس کے کرم پر غور کیا جائے تو یہ سمجھ آتا ہے nnخدا سراپا محبت ہے جیسا کہ وہ خود کہتا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی ۔،۔nnکبھی کبھی تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ — اللہ اتنا رحیم ہے کہ اس نے اپنی مخلوق یعنی انسان (صرف مسلمان نہیں)nکو گناہ کرنے کی اوقات بھی نہیں دی — nاسکی محبت کو سوچیں تو یہ ہے کہ زمین آسمان گناہ سے بھر دو — پھر ایک بار صدق دل سے استغفار کہو تو سب صاف، سب معاف۔
اب سوچئیے انسان زیادہ سے زیادہ بڑا گناہ کیا کرسکتا ہے ؟
بچپن میں جھوٹ ، بڑے ہو کر دھوکہ nبچپن میں چوری ، بڑے ہو کر کرپشن
پھر سچے دل سے توبہ ، تو سب معاف ، ہاں موت کب آجائے معلوم نہیں اس لیے توبہ کے دروازے سے انٹری مارتے رہنا چاہئے ۔۔n nایک بات کا دھیان رکھیے کہ یہاں گناہ سے مراد شرک نہیں کیوں کہ شرک گناہ نہیں ظلم ہے– وہ بھی ظلم عظیم ۔۔
لیکن ہمارے ہاں خدا کا صرف غضب ہائی لائٹ کیا جاتا ہے ۔۔ تاکہ دکان داری سلامت رہے ۔۔ nڈر بیٹھا رہے ، انسان انسان کے آگے جھکا ، رہے جبہ دستار نے اللہ کی کبریائی اس کی عظمت اس کی رحمت کو چھن کر ہم تک پہنچنے سے روک دیا ہے ، جبہ دستار سے مراد علمائے سو ہیں ۔۔
کیوں ؟ کیوں کہ خدا کا مہربان چہرہ اگر دکھایا جائے اس کی رحمتوں سے روشناس کروایا جائے اسے ایک بزرگ دوست، ایک بردبار حبیب کی حیثیت سے سمجھا جائے تو nانسان شاید اس کی محبت میں گناہ سے حیا کرے ۔۔ کنارہ کرے ، کہ میرا دوست ناراض ہوجائے گا
اب چونکہ اسی خالق نے انسان میں ہٹ دھرمی رکھی ہے ، تھڑدلا پن ، جلد بازی انسان کی روح میں تصنیف کی ہے تو اس لیے جب ایک عام انسان کو دنیا کی رنگینیوں سے کنارہ کش کروا کر اللہ کے جلال کے روبرو کیا جاتا ہے صرف اس لیے کہ میری پگڑی کا کلر سلامت رہے اور میری مسجد پر کوئی دوسرا قبضہ نہیں کرلے سینیٹ میں سیٹ مل جائے اسلامی نظام کا منجن بکتا رہے تو عام انسان جس کا پیٹ بھوکا ، نفس شریر اور روح کثیف ہے ۔۔ وہ اپنی فطرت میں چھپی ہٹ دھرمی، سرکشی اور جلد بازی کی وجہ سے نعوذ باللہ ، اللہ سے ٹسل لگا بیٹھتا ہے اور پھر بربادی کی طرف سبقت کرتا چلا جاتا ہے ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.