اس کی سانسوں میں شراب تھی ، میرے حواسوں پر وہ الکوحل بن کر سوار تھی ، nہوش آیا تو ہم لوگ چاند کے گرد رقصاں تھے ۔۔ چاند ہمارے بیچ ایک انگوٹھی جیسا لگ رہا تھا ، میں نے گٹھنوں پر بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما، دھیرے سے اس کی ہاتھ کی پشت کو سونگھا۔۔ اس کے ہاتھ کی پشت سے آتی کچی گندم کی خوشبو میرے نتھنوں کو بھوک لگا گئی تھی ۔۔ لگا کہ میری ناک مرے خون میں چھوٹے چھوٹے بلبلے پھوٹ رہے ہیں ۔۔ طبی لحاظ سے میری موت واقع ہوچکی تھی ۔۔ بس میرا مردہ اس کی زندہ آنکھوں میں دیکھتا ہوا اپنے حساب کا منتظر تھا موسم کچھ ایسا تھا جیسے فجر کی ہوا ہکلا کر چل رہی ہو۔۔ خوابناک سا ماحول اس کی جامنی ساڑھی اور میرا زخموں بھرا جسم ، ایک کرن اس کے وجود پر پڑی ، وہ قرمزی رنگ کا شعلہ بن کر اوجھل ہوگئی، nچاند نے سورج کو اوپر کھِنچ کر خود صبح کا کمبل اوڑھ لیا تھا۔۔ میرے ہاتھ اس رقعہ پھڑپڑا رہا تھا ۔۔۔ رقعے کو اس کے وجود کی تمام تر نزاکتوں کا استعارہ سمجھ کر ہولے سے پلٹا ۔۔ لکھا تھاnn- سستی سگریٹ پینا چھوڑ دو۔۔۔ یہ افسانوی بکواس کتابوں میں اچھِی لگتی ہے

اترك رد