پوسٹ – 2017-12-27

میڈیکل کالجوں کی ایک ایک کلاس میں ڈھائی ڈھائی تین تین سو لڑکیاں ہوتی ہیں ۔۔ گویا پہلی نظر جو جائز ہوتی ہے — اس کے حساب سے بھی روز مرہ کا معمول تین سو نظارے بن چکا ہوتا ہے اور انجینئرنگ خاص طر پر سول، مکینکل اور الیکٹرونکس انجینرنگ میں خشکی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ایک ہی لڑکی کو روز تین سو بار دیکھنے سے عورت ذات پر سے ایمان اٹھ جاتا ہے — بلکہ آنکھوں دیکھا تجربہ ہے کہ کئی بار تو ایسا ہوا کہ دوسرے سیکشن کے لڑکے پہلے سیکشن کی کلاسز کے باہر منڈلاتے ہوئے نظر آتے ہیں — کیوں ؟ کیوں کہ انکی اپنی کلاس میں کوئی ایک بھی لڑکی نہین ہوتی — ہوتی بھی ہے تو لڑکی نما ہوتی ہے — nکل ملا کر بات یہ ہے کہ nمیڈیکل کے سٹوڈنٹ شریف ہوں نا ہوں — سیر ضرور ہو چکے ہوتے ہیں — nسیر حاصل نظارے کر کرکے — جبکہ انجینرنگ والے ٹھرکی ہوں یا نہ ہوں — nمحروم ضرور ہوتے ہیں ۔۔ nنوٹ: اس پوسٹ کا مخاطب کسی بھی طرح – بائیومیڈیکل ، کمپیوٹر سائینس ، اور فارمیسی کے سٹوڈنٹ نہیں

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.