میرا خیال ہے بات واضح ہوگئیnnکافی دنوں سے پیں پیں سن رہا ہوں پیں پیں میں واضح ترین آواز ان کنوارے لونڈوں کی ہے جن کی وال پر کسی ایک لمڈیا کا نام لکھ دو یا ٹیگ دو یا انہیں کسی کی وال پر ٹیگ دو تو گھونگھٹ کاڑھ کر بیٹھ جاتے ہیں ۔۔کہ یار شرم کرو اپنی عمر دیکھو اور اپنی حرکتیں دیکھو ۔۔ ایسی حرکتیں ہماری وال پر ایسے کام نہ کیا کرو۔۔دوست اور کلاس فیلوز ایڈ ہیں وہ عجیب خیال کرتے ہیں ۔۔ بہرحال اس قبیل کے پپو بچے بھی ایسی پوسٹس شئیر کرتے پائے گا جن کا لب لبا ب تھاn”عصر کی چار سنتوں کی فکرنہیں لیکن دوسری شادی کی سنت نبھانی ہے “nایسے تمام احباب سے کہنا یہ تھا کہ ۔۔ بے بی روٹی کو روٹی کہو ۔۔ جب جانتے ہوئے بھی کہ یہ چوچی ہے اس کو روٹی کہنے کی ہمت آجائے گی نہ اب باتیں کرنا ایس۔۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز کی سنتوں کا مقام اس کا عرفان اور اس سے ملنے والی معرفت کی تال میل کسی بھی ایسی سنت سے نہیں ملائی جا سکتی جس کا تعلق کسی دوسرے انسان سے ہو یا یوں کہہ لوکہ انسان کے ظاہر ہے ہو۔۔ مثلا ڈاڑھی ، مثلا پائنچوں کی اونچائی مثلا دوسری شادی مثلا نکاح سنت ہے بول بول کر شادی پہ شادی دے شادی پیٹے جانا ۔۔ بات ٹھیک ہے ۔۔ جو نماز کی سنت سے انکار ی ہے ۔۔ اس کو تو ویسے بھی گاڑ دو ۔۔ اللہ مجھے بھی نمازوں کی ادائیگی بمع سنت موکدہ اور غیر موکدہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے بس اتنا یاد رکھیں کہ عصر کی چار سنت جوکہ غیر موکدہ ہوتی ہیں وہ پڑھ لینے میں عافیت ہی عافیت ہے ۔۔ اور چھوڑ دینے میں کوئی مواخذہ نہیں ۔۔ پر دوسری شادی یا تیسری شادی والی سنت کا موازنہ نماز والی سنت سے بنتا ہی نہیں کہ ۔۔ ایک کا تعلق روحانیت سے ہے دوسری کا تعلق انسانیت ، جنسیت اور پھر کسی حدتک روحانیت سے ہے ۔۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ شہوانی جذبات کی روک وضو ، استغفار ، نماز یا روزے سے ہے ۔۔ لیکن پھر بھی جو شخص شادی در شادی حتی کے اوور آل شادی سے ہی بھاگتا ہو اور کہتا ہو کہ نماز روزہ جیسی عبادت سے میں شہوانی جذبات کم کرلوںگا تو یہ اس کی بھول ہے ۔۔ روزہ کھلنے کے بعد اور سحری سے پہلے تک تو وہ اس کیفیات کا شکار ہو سکتا ہے ؟ پھر کیا کرے گا ؟ وضو کر کے سنت اور نوافل کا اہتمام ؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادات کے ساتھ معاملات کو متوازن رکھنے کا حکم نہیں دیا ؟
اس کو مختصرا بس اتنا سمجھ لیں کہ اگر عصر کی سنت یا کوئی غیر موئکدہ سنت قضا ہوبھی جاتی ہے جو کہ نہیں ہونی چاہئے تو اس سے کم از کم زنا کو فروغ نہیں ملتا nلیکن اگر پہلی ، دوسری ، تیسری شادی یا چوتھی شادی کا انکار یہ کہہ کر کرنا شروع کردیا جائے کہ پہلے وہ سنت تو پوری کرلوں پھر یہ کروں گا ۔۔ تو پھر کچھ نہیں ہونے والا کیوں کہ یہ معاملات ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔۔ متوازی اب سوچیئے آپ عصر کی سنتیں چھوڑے چلے جار ہے ہیں ۔۔ اور ساتھ ہی ساتھ دوسری تیسری چوتھی شادی کا خیال بھی ۔ تو ان دونوں میں سے کیا چیز چھوڑنے سے زیادہ نقصان ہے ۔۔ نقصان سے مطلب یہ کہ آپ ناجائز تعلقات یا زنا میں پڑ سکتے ہیں ۔ ظاہر ہے ۔ انسان کی تنوع پسندی اسے ایک ہی گوشت کی بریانی اور ایک ہی جگہ کا قورمہ بار بار روزروز کھانے سےگریز کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔۔ اسی لیے وہ دوسری دکان پر جاتا ہے ذائقہ بدلنے کے لیے ۔ اب ظاہر ہے ہر جگہ کے لوازمات الگ الگ ہیں ۔۔ وہ بھی پورے کرنے پڑیں گے ۔۔
خیر بات کچھ زیادہ لمبی اور اس سے بھی زیادہ سنجیدہ ہوگئی ۔۔ ایک لائن کے اسٹیٹس میں سمجھا سکتا تھا پر پھر بھرم بازی والی اردو اور علمی اصطلاحات کا مظاہرہ کرکے دانشوڑی کا رعب کیسے جھاڑتا ۔۔ میرا خیال ہے بات واضح ہوگئی ۔ کیا خیا ل ہے ؟
میرا خیال ہے بات واضح ہوگئی
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد