چٹ پٹی خبر کی طرف بڑھتا ہاتھ بھٹکنے سے رک گیا تھا ۔۔ یہ بیویاں کبھی کبھی کیدو بن جاتی ہے اورمردانہ نفس قیدی ۔۔ وہ بھی کیا کرتے ۔۔ جہاں بیوی بناسپتی بن کر رہ گئی تھی ۔۔ وہاں دیسی گھی قسم کی شریفاں اپنے ہی سینے پر مونگ دلے جا رہی تھی ۔۔ وہ مونگ جواد کا احساس تھا ۔ جو شریفاں کو اخبار کی طرح پڑھنا اور برتنا چاہ رہا تھا۔۔ لیکن ایک دم سے ایک ناگوار سے اشتہار کی طرح فاریہ امڈآئی ۔۔ nفاریہ سامنے تھی ۔ شریفاں بھی سامنے تھی ۔ پھر پیچھے کون تھا ؟ فاریہ کا چہرہ تھا اور شریفاں کی پشت دیوار بنی ہوئی تھی ۔ایسی دیوار جو پسینے کی ہلکی ہلکی بارش سے بھیگی ہوئی ،بلکہ سیلن زدہ ہو ،چپکے ہوئے کپڑے اور ابھرے ہوئے پتھر ۔ کپڑے تو چپکے ہوئے فاریہ کے بھی تھے ۔ وہ جو کچھ بھی پہنتی تھی وہ چپک ہی جاتا تھا ۔ لیکن ایسے جیسے قلعہ کی دیوار پے پھسلتا ہوا پرچم ۔کوئی گداز نہیں کوئی ابھار نہیں بے بسی پرچم جس کا نصیب ہی ڈھیلا ہو کر لٹکنا ہو جیسے سوگ منا رہا ہو۔ کہ یہ کس دیوار پر سرنگوں کردیا ۔۔ ۔ یہ نشیب ، ابھار اور فراز یہ بھی عجیب بے ہودہ سی چیز ہوتے ہیں نہیں مردوں کے لیے تو یہ ابھار آب حیات ہوتے ہیں ۔۔ کٹورے سے ۔۔ پورے سے ۔۔ جن کو یہ پور پور چومنا چاہتے ہیں لیکن کہیں کہیں کہیں پاؤں میں چبھتے ہیں کہیں نظروں میں ۔۔جیسے آٹا گوندھتے ہوئے کنکر آجائے ویسے ہی نظروں ہی نظروں میں جواد احمد شریفاں کے گداز کو گوندھ رہے تھے کہ کنکر آگیاn”اتنی دیر ہوگئی تم سے ابھی تک ایک کمرا صاف نہیں ہوا۔۔ آج تمھارے ہاتھ کافی سست چل رہے ہیں ” کنکر بولا ۔۔ nفاریہ کو کیا پتا تھا کہ عورت کے ہاتھوں کی سستی مرد کی تیز رفتار نظر سے انورسلی پروپوشنل ہوتی ہے ۔۔ جتنا ان کی آنکھیں ۔۔ شریفاں کے جسم سے کسوٹی کھیل رہی تھیں اتنی وہ سست ہوتی جار ہی تھی ۔ اس میں قصور شریفاں کا تھا بھی نہیں ۔ اسے تو کچھ پتا ہی نہیں تھا۔۔ ہوتا بھی تو کیا کرلیتی ۔۔ کچھ گھروں کے شریف بڑےصاحبوں کی خدمت کرنے کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے ۔۔ مالش صرف جسم کی نہیں بلکہ نظروں کی بھی ہوتی ہے ۔۔ سب سے محفوظ راستہ ہے نا۔۔ پسینے بھرے جسم پر نظروں سے مالش کیے جاو nکوئی پکڑ بھی نہیں سکے گا ۔۔ اور جکڑنا چاہو تو ویسے بھی کام والیاں جو شادی شدہ ہوں ان کا کون سا کسی کو کچھ پتا چلتا ہے ۔۔ بس تھوڑی سی ہمت ہوتی ہے جو شریفوں میں بالکل نہیں ہوتی اور یہ ہمت سے زیادہ وحشت والا کام ہے ۔۔ اس وقت ۔ جواد احمد کے ہاتھ اور شریفاں کی پشت کے درمیان فاصلہ بس ہمت کا تھا یا شاید وہ وحشت تھی پر جو بھی تھا وہ ذراا سی ہمت کر کے چھو سکتے تھے ، محسوس کرسکتے تھےپرچم پھر سے گردن اکڑا لیتا اور دیوار رشک کرتی کہ آج پرچم سہی دیوار پر ٹانگا گیا ہے n”اب اخبار لپیٹ کر رکھ بھی دیں دیکھ لیں آج صبح سے یونہی بیٹھے ہیں ۔۔ بازار سے ہو آئیں کچھ چھوٹے موٹے کام کرلیں ۔۔ تاکہ شام میں اماں کی طرف چکر لگا لوں”nجواد احمد کو کرختگی سے جتنی چڑتھی پلاننگ سے اتنی ہی نفرت ۔۔ا یک تو پاٹ دار آواز کہ ساتھ لمبے شوربے سا سراپا جس میں بہت سے آلو تھل تھلا رہے ہوں۔۔ گوشت کے لیے ڈبکی لگانی پڑتی ہو۔۔ اوپر سے شام کو اماں کے گھر جانے کی پلاننگ ان کی شاید نیت بھی خراب نہیں تھی ۔۔ ورنہ وہ وہاں سے اٹھ نہ جاتے بلکہ ریموٹ سے چینل بدلنے لگتے ۔۔ ویسے یہ مرد ذات بہت خوش قسمت ہے اس کو کچھ پکڑنے کو نہ ملے تو یہ ریموٹ پکڑ لیتی ہے nشریفاں اب پسینہ پونچھ رہی ۔۔ اس کا کام مکمل ہو چکا تھا۔۔n”جاو جا کر برتن دھو میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں”nسارے چینل بلیک اینڈ وائٹ ہوگئے بلکہ نہیں ۔ انکی نیت نہیں قسمت بری تھی ۔ اگر قسمت بری نا ہوتی تو وہ یہ کر گذرتے ،مواقع تو بہت تھے ۔ خود فاریہ کے فراہم کردہ مواقع اور جواز ۔ جواد احمد کی ابھی عمر ہی کیا تھی ۔ بس چالیس سال ۔ چالیس سال میں تو مرد پہلی دفعہ سوچ سمجھ کر محبت کرتا ہے ۔ اس سے پہلے تو محض ،ابال ہوتا ہے ۔ پتیلے میں ابلتے دودھ کا ابال ۔ ادھر نظر چوکی ۔ ادھر دودھ چولہے پے اچھا مزے دار بات یہ ہے کہ ۔۔ کہ گرم دودھ شعلے بھڑکا دیتا ہے ۔۔ آگ نہیں بجھاتا ۔۔ شعلے ادھ ادھر بھاگنے لگتے ہیں ۔۔ جب تک آگ پر پانی نہ ڈالا جائے ۔۔ شعلے احتجاج کرتے رہتے ہیں ۔۔ لیکن جواد احمد کی والدہ ایک عقلمند عورت تھین اس لیے جواد کو احتجاج کا حق ہی نہ ملا ۔ جواد احمد کے برسر روزگار ہونے سے پہلے پہلے انہوں نے فاریہ پے نظر گاڑ کر رکھی تھی ۔ ادھر جواد احمد کی نوکری ہوئی ادھر اماں فاریہ کی دہلیز پے رشتہ لے کر پہنچ گئیں ۔ فاریہ اس وقت شریفاں سے زیادہ نازک ہوا کرتی تھی ۔ پتلی کمر اور بھرے بھرے ہونٹوں والی ابھار ، پرچم اور دیوار بھی خوش رہا کرتے تھے ۔۔ سیلن تھی لیکن خوشبو دار ۔۔ عطر جیسی ۔۔ ہلکی ہلکی گھاس پر اگر پرفیوم اسپرے کردو ویسی والی ۔۔ ۔ جواد احمد تو ابھی بھوک سے واقف بھی نہیں ہوئے تھے کہ اماں نے دسترخوان سجا دیا تھا ۔ جواد احمد کا ایک وقت کا کھانا بھی قضاء نہیں ہوا تو فاقہ کا مزاء کیسے چکھتے ۔ اس لئے انہیں جوانی میں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ نفس کی بھوک کیا ہوتی ہے ۔اور کن کن راستوں سے اپنا پیٹ بھرتی ہے ۔ فاریہ ایک نارمل سی بیوی اور چار بچوں کی ماں اسی تن آسانی میں بن گئی تھی ۔اس نے کبھی جواد احمد کو بھوکا نہیں رہنے دیا تھا ۔ فاریہ سے بھی عقلمند اگر کوئی تھا تو وہ جواد احمد کی ماں تھی ۔ فاریہ کو اپنی نزاکت اور شادی کے ابتدائی دنوں کے چونچلوں میں ہڑک اٹھتی کہ وہ بھی کوئی کام والی رکھ لے ۔آس پاس سب ہی گھروں میں ایسی جوان اور صحت مند کام والیاں دندناتی پھرتی تھین ۔یہ لوگوں کی ضرورت سے زیادہ ان کا اسٹیٹس سمبل تھا ۔بہت سے گھروں میں تو کم عمر بچیاں بھی بچوں کو سنبھالنے کے لئے رکھی جاتی تھیں ۔ فاریہ اکثر جواد احمد سے ٹھنک ٹھنک کر فرمائشیں کرتی ۔ جواد احمد کی حیثیت کا تقاضہ بھی تھا کہ وہ گھر میں دو چار نوکر رکھ سکتے تھے ۔ لیکن برا ہو اماں کا وہ اس اسٹیٹس سمبل کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوگئیں تھیں ۔ وہ فاریہ کو بھی سمجھاتیں ۔ دیکھ پتر ۔جب تک بیوی مرد کے سامنے چلتی پھرتی نظر آتی ہے تو شوہر کی ہمت نہیں پڑتی کہ وہ کسی اور عورت کی طرف دیکھے ۔ لیکن اماں ۔گھر کے اتنے کام ہیں ،بچوں کو دیکھنا ،کھا نا بنانا ۔باہر کے کام ۔ ہم کون سا چوبیس گھنٹے اس کو گھر میں رکھیں گے ؟ اماں کہتیں ۔پتر ۔چوبیس گھنٹے ہوں یا چوبیس منٹ ۔مرد کی نظر بھٹکنے کے لئے لمحے ہی کافی ہوتے ہیں ۔ فاریہ ہنستے ہوئے کہتی ۔ اماں مجھے جتنا اپنے میاں پے بھروسہ ہے آپکو اپنے بیٹے پے اتنا ہی شک ہے ۔ اچھا اماں ۔ہم کوئی بچی رکھ لیتے ہیں ۔بچوں کو سنبھال لے گی ۔ اماں اور بھی بدک جاتیں ۔ او بی بی ۔یہ بچیاں نہیں ہوتیں ،یہ پیدائشی جوان ہوتی ہیں ۔کیوں اپنے لئے مشکلات پیدا کرتی ہو ۔بچے پالنے اور گھر سنبھالنے میں کون سے ہاتھی جوتے جاتے ہیں یا ہل چلانا پڑتا ہے ؟ فاریہ بل کھا کر رہ جاتی ۔ اور ہاں بھئی مجھے پسند نہیں کہ گندے سندے لوگ میرے بچے سنبھالیں ۔ فاریہ آنسو بھری آنکھوں سے جواد احمد کی طرف دیکھتی جواد احمد اماں سے نظریں چرا کر فاریہ کو تسلی دیتے ۔ رات میں جب بیڈ روم میں فاریہ تھکن کا بہانہ کرتی تو جواد احمد کو اماں پے اچھا خاصہ غصہ آجاتا ۔ کیا ہے اماں اگر کوئی نوکرانی رکھ دیں ۔بےے چاری فاریہ یوں نڈھال تو نا ہو ۔ میں صبح اماں سے بات کروں گا ۔ لیکن فاریہ کو پتہ تھا کہ ایسی صبح کبھی نہیں آئی گی ، جواد احمد کی زندگی ایک سیدھی سڑک تھی جس پے سے اماں نے ہر اوبڑ گھابڑ قسم کی رکاوٹ اپنے کمزور ہاتھوں سے ہٹا دی تھی ۔لیکن اماں بھول گئیں تھیں کہ ان کا یہ شریف بیٹا بھی ایک مرد ہے ،ایک ایسا مرد جس کا کبھی کبھی دل چاہتا ہے بلاوجہ ،ایویں فضول میں کسی کانٹے سے الجھنے کو ،کسی کھڈے میں گرنے کو ۔ اماں تھیں کہ بچوں کی آدھی سے زیادہ ذمہ داریاں اٹھا کر فاریہ کا بوجھ ہلکا کرنے کی اپنی سی سعی کرتیں ۔ کام والی آتی بھی تھی ،لیکن اس کو حکم تھا کہ وہ جواد احمد کے دفتر جانے کے بعد آئے اور بس کام کر کے چلتی بنے ۔ہفتہ اتوار جواد احمد کی چھٹی ہوتی تو امان اپنی نگرانی میں سارے کام کرواتیں ،یا پھر جواد احمد کو کسی نا کسی بہانے سے گروسری یا سبزی گوشت لینے بھیج دیا کرتیں ،انہیں ویسے بھی کام والیوں کے کھلے ڈھلے انداز سے شدید چڑ تھی ۔ دیکھو ذرا کمبخت ماریوں کو ۔کیسے کھلے کھلے گلے پہنتی ہیں ۔حیاء تو ہے نہیں ،دس گھروں میں جاتی ہیں ارے اب تو کام والے بھی خاندانی نہیں رہے ۔ اماں کام والیوں کو ڈوپٹے اوڑھے رکھنے کی ہدایت کرتیں تو وہ تنتنا کر جواب دیتیں ۔ اماں ،اتنی سخت گرمی میں آپ کو کرنا پڑے نا جھاڑو بھارو تو آپ بھی ایسے ہی ڈوپٹہ دور پھینک دیں ۔ یہ اماں کیوں کام والیوں کے کیریکٹر پے نظریاتی کونسل والی بن جاتی ہیں ۔ فاریہ رات گئے جواد احمد کی بانہوں میں اماں کے خلاف بھڑاس نکال رہی ہوتی ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دنیا کا فرمانبردار ترین بیٹا بھی ماں سے بغاوت کرسکتا ہے ۔ پھر ایک دن یہ نظریاتی کونسل والی اماں خاموشی سے چلی گئیں ۔ اماں نے تو جواد احمد کو بغاوت کرنے کا بھی موقع نہیں دیا تھا
وہ نہ اب بغاوت کر سکتے تھے نہ ہی پرچم کو دوبارہ دوبارہ اٹھا سکتے تھے اس لیے اس بار وہ دیوار ہی تبدیل کرنے کے چکر میں تھے ۔۔ عارضی ہی سہی ۔۔ لیکن دیوار میں ترخ ڈالنا بچوں کا کھیل نہیں اور جب قلعہ کسی اور کی ملکیت ہوتو تو بہت کچھ کرنے کے لیے کچھ کچھ نظروں سے کام نہیں چلتا۔۔ ابھی جواد احمد کچھ کچھ میں ہی پھنسے ہوئے تھے ۔۔ nn- جاری ہے
ابال – دونمبر قسط
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد