استانی

استانیnnڈاکٹر تو وہ دماغ کی ہے کہ لیکن علاج نیت کا کرتی ہے ۔۔ پر میرے قریب آ کر اتنی بے بس ہوجاتی ہے کہ میری شرارت اور نیت کو الگ الگ نہیں سمجھ پاتی ۔۔سمجھ نہیں پاتی پر پوری کوشش کرتی ہے ہلکان ہونے کی ۔۔ یعنی الگ کرنے کی ۔۔ جب تھک جاتی ہے تو روتی ہے لڑتی ہے ۔۔ چلاتی ہے ۔۔ شور مچاتی ہے ۔۔ میں تالیاں بجاتا ہوں ۔۔ جیسے مچھر مار رہا ہوں، اس کو تھکا رہا ہوں، جیسے اس کی معصومیت کو مسل رہا ہوں ۔۔بلکہ میں نہیں ۔ میری انا اس کا تماشالگاتی ہے ۔۔ اس کو جھکانا میرا مقصد نہیں ہوتا ۔۔ لیکن اس کو بھی انا کچلنے میں ایسا مزا آتا ہے کہ اپنا سارا زہر نکال کر میرے پاس آتی ہے ۔۔ اور کہتی ہے مجھے ڈسو۔۔ مجھے مزید زہریلا کردو۔ پتا نہیں اذیت پسند ہے ۔۔ یا میرے ساتھ رہ کر ناگن ہوگئی ہے ۔؟۔ میں تو نیولا ہوں شاید۔۔ کھال کا کھٹا اور باتوں کا ترش ۔۔ وہ تیزاب جان کر مجھے پیتی ہے ۔۔یا شاید میں نے اسے کڑوا کردیا ہے ۔۔ یا پھر ترش ۔۔ ویسے ہے وہ گنوں کی پوری اور فطرت کی معصوم ۔۔ بلکہ بونگی کہوں تو غلط نہیں ہوگا ۔۔ زبان ایسے چلاتی ہے ۔۔ جیسے آلو کی چپس کھا رہی ہو ۔۔ لیکن ایک دبکا ماروں تو دبک کر چادر سینے پر پھیلا لیتی ہے ۔۔ میں پھر منگتا بن جاتا ہوں ۔۔ وہ اور باتھ ٹب کی بطخ۔۔ انگ انگ تھرکتا ہے ۔ پر حرام ہے کہ ایک لفظ منہ سے بول دے ۔۔ لیکن جسم خاموش نہیں ہوتا۔۔ ہلتا رہتا ہے ۔۔ سلگتا رہتا ہے ۔۔ تپتا رہتا ہے ۔۔ اور میرے قریب جسے راکھ کی خوشبو بکھرتی رہتی ہے ۔۔یہ راکھ اس کا غصہ ہوتی ہے ۔۔ جو وہ بن بولے برساتی رہتی ہے ۔۔ nسنا ہے ٹیچر بھی ہے اسی کالج میں جہاں ہم پڑھتے تھے ۔۔ دونوں ۔۔ ایک سال سینئر تھی مجھ سے ۔۔ پر اب تو ایسا ہے کہ وہ کوچنگ کلاسز بھی بنک کرنے پر راضی ۔۔ مطلب کوئی پروا نہیں اسے بچوں کے مستقبل بھی کی ۔۔ اپنے بھی نہیں۔ میرے بھی نہیں۔۔ عجیب پاگل سی ہوگئی ہے ۔۔ کہتی ہے ۔۔ بارش میں بائک پر گھماو۔۔ میں کہتا کہ بدن گیلے ہوکر چپکیں گے اور بارش کے قطروں کو بخاارات بننے کا موقع ملے گا ۔۔ تمھارا لباس تم پر مزید فریفتہ ہوگا ۔۔ اور میں جیلس ۔۔ وہ کہتی ۔۔ تو کیا ہوا ۔ کوئی تو تمھارا رقیب ہونا چاہئے میرا لباس ہی سیء ۔۔ میرا محرم تو میرا لباس ہی ہے ۔۔ تم پر تھوڑی روک تو ہونی چاہئے تھوڑی ٹوک توہونی چاہئے ۔۔ میں کہتا بس اسی لیے میں نہیں چاہتا کہ ہمارے بیچ پانی کے قطرے بھی آئیں اور تم آنکھوں سے پھسلتے ، گریبان میں جاتے قطروں کو مامتا کی فیلنگ دو۔۔ کیوں کہ بھوکا تو میں بھی ہوں ۔۔ اور بارش کے پانی سے پیاس نہیں بجھانی بلکہ تیرے ہونٹوں سے جل تھل کر کے بھی پیاسا رہنا ہے ۔۔ محرومی ہی تو سیری ہے ۔۔ وہ کنفیوز ہوجاتی ۔۔n استانی اردو کی ہے لیکن استعارے میں الجھ جاتی ۔۔ میری نیت اور شرارت کو مکس کر بیٹھتی ۔ میں ہونٹ دبا کر ہنستاا ور وہ میرے نچلے ہونٹ سے حسد کرتی ۔۔ کہتی کہ تم بائک پر بیٹھ کر گیلے ہو کر مزے لینا چاہتے ہولیکن ایک بات سن لو اور سمجھ لو کہ مجھے مزے کے لیے گیلے ہونے کی ضرورت نہیں ۔ یہ کہتے ہوئے دوپٹہ اپنے کندھے سے ڈھلکا دیتی ۔۔سمجھ نہین آتا۔۔ شانے کی کھال اتنی سفید۔۔ اور اوپر سے یہ کہ وہ گوری بھی نہیں تھی ۔۔ میں مذاقا کہتا ۔۔ کہ کہیں تمھیں برص تو نہیں؟ ۔۔ وہ منہ بسورتی تو اس کے کندھے پر تھپکی دیتا۔۔ اور کہتا کہ پاگل ایسا کیسے ہوسکتا ہ کہ مزا گیلے کے بغیر آجائے چاول پر رائتہ نہ ہو تو چاول بھی کھچڑی لگتے ہیں اور تم بدن کی بات کرتی ہو ۔ جو خشک ہو تو چرمری لکڑی بن جاتا ہے ۔۔ تمھارا ہو تو پرہیزی کھانا لگتا ہے ۔۔ وہ بھی کسی جانور کا۔۔ یعنی گھاس جیسا بدن۔۔ ہاں کلر اور فیچر تو ضرور ہونگے پر ان کو پانی کے بغیر ابھار کیسے لگے ۔۔ویسے بھی nہم کالج کے لان میں بیٹھے گھاس کتر رہے تھے ۔۔ آج اسی کالج میں وہ استانی بھی ہے ۔۔ میں اس وقت بھی نہیں پڑھتا تھا اور آج تو وہ ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر بھی نہیں پڑھا پاتی ۔۔ اس کی بہت سی یادیں اور باتیں ہیں جو اس تحریر میں سمو دینا مشکل ہے اور میں اس کے بارے میں زیادہ لکھ نہیں سکتا۔۔ کیوں کہ اس کا بدن میری سیاہی ہے اور اس کی باتیں میرا قلم ۔۔ اب وہ دور ہاسٹل سدھار چکی ہے ۔ کبھی بات کرلیتی ہے تو میں لکھ دیتا ہوں۔۔ لیکن مجال ہے جو تعلق ٹوٹا ہو ۔۔ رابطہ بکھرا ہو۔۔ وہ آج بھی قائم ہے ۔اور رہے گامیں اس کے بارے میں لکھتے لکھتے نڈھا ل ہوجاتا ہوں ۔۔ اس کو برت کیسے سکتا ہوں ۔۔ اسلیے آج بھی وہ آزاد ہے اور میں فرار۔۔ یہ یونہی چلتا رہے گا میں بھی چلتا ہوں گا۔۔ وہ بھی اور یہ تحاریر بھی کیا کروں یار سمجھ نہیں آتا کہ اس کو ماضی طرح پیٹھ پر کیسے لاد دوں ۔۔وہ تو ہمہ وقت سامنے رہتے ہے ۔۔ چشمے کی طرح ۔ ناک پر بیٹھتی ہے کان مروڑتی ہے ۔۔ اس کو اتار دوں تو نظر کچھ نہیں آتا۔۔ ایسا لگتا ہے دنیا دھندلا گئی ہو۔۔ ارے نہین یار یہ محبت نہیں ہے ۔۔ وہ تو بڑی چھوٹی سی چیز ہوتی ہے ۔۔یہ کچھ اور ہے ۔ عشق بھی نہیں ہو سکتا۔۔ کیوں کہ وہ انسان ہے کوئی دیوی نہیں اور ویسے بھی ان محبت عشق جیسی چیزوں میں بندھ کر رہنا میرے لیے ممکن بھی نہیں ۔۔ شاید اس رشتے کو کوئی نام نہ دے سکنا ہی اس کی کامیابی ہے ۔۔ پر یہ تو مجھے معذوری لگتی ہے کہ کوئی آپ کے پاس نہ ہو تو آپ کچھ لکھ ہی نہ سکو۔۔ کیا یہ رشتہ ہے ؟ یا محرومی ۔۔ یا پھرمحتاجی ۔۔یار جو بھی ہے ۔۔ ہے کافی کیوٹ سا۔۔ پر بات وہی ہے میر اسقدر سخت مزاجی کے باوجود وہ منڈلاتی میرے پاس ہی رہتی ۔ جیسا پہلے کہا ۔۔ یا تو وہ اذیت پسند ہے یا مجھے اپنے اندر کے مرد کو تسکین اس کی فطرت کی توہین اسی عورت کے ساتھ ملتی ہے ۔۔ سمجھ نہیں آتا کچھ ۔۔ سمجھنا چاہتا بھی نہیں شاید میں وہ بھی نہیں سمجھاتی ۔۔ لگتا ہے اگر سمجھ آگئی تو یہ پاگل پن جو ہم دونوں کو عزیز ہے وہ ختم ہوجائے گا اور وہ کسی اور دیس اڑجائے گی ۔ ایسا میں ہونے نہیں دوںگا اور وہ ایسا چاہے تو اس کو روکوں گا نہیں ۔ پتہ نہیں کیوں پر مجھے بھکاری تو رہنا نہیں ہے ۔۔ نہ بننا ہے ہاں وہ میری عادت رہے ۔۔ میری کمزوری رہے مجھے محتاج رکھے ۔۔ اپنے بدن کا اپنی خوشبو کا اپنی کھال کا اپنے انچ انچ۔۔ کا لیکن نوازتی رہے جس دن اس نے اپنی شخصیت کو استعمال کر کے مجھے ایکسپلائٹ کیا وہ میری باندی کا رتبہ ڈھونڈتی مر جائے گی یہ بھی اس کو پتہ ۔۔ ہے اور مجھے بھی ۔۔ اس لیے ہم دونوں خوش ہیں یا شاید خوش نہ ہونے کی خوشی ۔۔ مکمل نہ ہوپانے کی تکمیل ہے یہ

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.