یہ بات تو طے ہوگئ ، عورت کسی بھی انتظامی پوسٹ پر جائے گی وہ اپنی ، پوسٹ کی اور ادارے کی مدر سسٹر ایک کرے گی ۔ مطلب ان کو لیفٹ رائٹ ، ڈرائیونگ ڈارئیکشن تک سمجھ نہیں آتی ۔۔ ادارے کیسے چلا سکتی ہیں باقی یہ مسئلہ صرف عورتوں کا ہے بھی نہیں ان کا تو ڈیزائن ہی ایسا ہے ۔۔ الجھن یہ ہے کہ کراچی یونی ورسٹی کے ماس کام اور اردو یونی ورسٹی کے شعبہ جہالت سوری شعبہ صحافت بلکہ سوری بھی کیوں ۔۔۔ شعبہ صحافت کے شناختی کارڈ کی حد تک مرد افراد بھی اسی بیماری کا بدرجہ اتم شاہکار نہیں ۔۔ شکار نظر آتے ہیں ۔۔

اترك رد