یار ویسے ایک بات ہے ، شام حلب بلکہ دنیا بھر میں ہونے والے ظلم اور مظالم پر یہاں کے قلم مزدور ایسے ہاتھ سیدھا کرتے ہیں جیسے امام مہدی کے فیس بکی کمانڈر ہوں ۔۔ بندہ ان سے پوچھے ۔۔ کہ ابے تمھاری نوکریاں سلامت۔۔ تمھاری شادی ہوئی ہو ، بچے ہوں ۔۔ آرام دہ زندگی ہو ۔۔ اور تو اور آفس میں بچیاں بھی پھانسی ہوئی ہوں تم نے جو تمھارے قلم کو ازار بند سمجھ کر تمھاری فین ہوں ۔۔ اور تم ادب کانفرسوں میں ان کی گودوں میں بیٹھنے کو فین فالوونگ سمجھتے ہو ۔۔ پھر تمھاری تنخواہ تمھیں وقت پر مل جاتی ہو ۔۔ سگریٹ تم گولڈ لیف سے کم نہیں پیتے ہو ، پریس کلب کی سستائی تم پر شاداں و فرحاں ہو ۔۔ سہی کے سٹے کھینچتے ہو ۔۔ پھر صحافت کا مفتا منہ کو لگا ہو ۔۔ تو تم جیسے لوگ کیا جانیں کہ حلب میں کیا ہو رہا ہے کیا نہیں ۔۔ مطلب جہاں دل چاہا تم نے پیک ماردی اور جاہلوں کی ایک فوج تمھارے پیک مارے گئے اسٹیٹس کو چاٹنے آجاتی ہے ۔۔ حد نہیں ہے ویسے ؟ میدانوں کی خبریں تم دیواروں پر دینے کو اپنا فرض سمجھتے ہو ۔۔ لول ہی نکلتا ہے ایک زور دار ۔۔ تم لوگوں کی زندگیوں اور حرکتوں پر ۔۔ بشمول میرےnnنوٹ: شکر الحمداللہ میں صحافت اور وکالت جیسے رذالت بھرے شعبے (آجکل کے صحافیوں اور وکیلوں کی وجہ سے ) سے تعلق نہیں رکھتا ۔۔ اس لیے شاید بخشا جاوں ۔۔ شاید شاید شاید

اترك رد