اماں جان کے ہاتھوں ایک ڈائیریکٹر ، ایک اچھے ڈائیرکٹر بلکہ فیوچر کے ایک بڑے ڈائیریکٹر کی کھنچائیnnصاحب بہادر کہانی کا آئیڈیا شئیر کرنے کے ساتھ ساتھ سگریٹ پہ سگریٹ کھینچ رہے تھے ۔۔ ایک دم سے اماں جان نے چائے کی ٹرے اور مٹھائی سمیت چھاپا ماردیا ۔۔ ڈائیریکٹر صاحب سٹپٹاگئے ۔۔ کہ سگریٹ پیتے دھر لیے گئے تو رپورٹ گھر پہنچ جائے گیn ۔۔ فدوی کے ہاتھ خالی تھے تو سوچا کہ اس سے پہلے مستقبل میں تشکیل پانے والی فلمی کہکشاں کا ایک روشن ستارہ چائے کے کپ میں ڈوب کر نہ مر جائے تو اس ہاتھ سے سگریٹ اس طرح بٹوری کہ اماں کو لگا سگریٹ خاکسار پی رہا ہے ۔۔ اب ہم تو ٹھہرے بڑی عمر کے بدنام زمانہ ۔۔ جن کا پائپ اور دم دونوں ہی ٹیڑھے ہیں (اس میں کچھ ذو معنی نہیں )۔۔ اماں نے حسب معمول صلواتیں سنائیں تو ہم نے مذاقا کہا کہn” سگریٹ یہ یعنی ڈاریکٹر پی رہا تھا ۔۔ تو کیا ہوا خیر ہوگئی ڈائریکٹر ہے پینے دیں فیلڈ ایسی ہے سوچنا پڑتا ہے ۔۔ اب تو تھوڑا رحم کھائیں اس پر ۔۔ کتنی شارٹ فلمیں بنا چکا ہے ماشااللہ ۔۔”nnاماں نے ایک بار پھر ہماری شان میں کچھ قصیدے وغیرہ پڑھے اور اس بار حملے کی زد میں وہ اسٹوری رائٹر پلس ڈاریکٹر بھی آگیا ۔۔ اماں کے الفاظ نے ن ڈائیریکٹر کا کیلی بر دیکھا نہ اس کی سٹرگل ۔۔ ماں نے دوٹوک الفاظ میں بس یہ کہاnn”تو کیا ہوا جو یہ فلمیں بنا رہا ہے یہ بہت بڑا ہوگیا ہے کیا۔۔ ہمارے لیےتو اتنا سا بچہ ہی جو بچپن سے ہمارے گھر آتا ہے ۔۔ کان سے پکڑ کے جوتے لگاوں گی اگر سگریٹ پیتے ہوئے دیکھ لیا۔”nnاس کے بعد ہم تھے ، کہانی کا آئیڈیا تھا اور ڈاریکٹر صاحب کی مسکراہَٹ دیکھنے والی تھی ۔۔

اترك رد