جس وقت ہلاکو آیا تھا اس وقت بھی یہ لگے پڑے تھے کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں یا کوا حلال ہے یا ، آج بشارالاسد آیا تو تب بھی یہ لڑرہے ہیں کہ جنید جمشید شہید ہے یا مردہ ۔۔nnحلب سوجا ان کا حلیب تو گاڑھا ہے لیکن خون پتلا ۔۔۔
جس وقت ہلاکو آیا تھا اس وقت بھی یہ لگے پڑے تھے کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں یا کوا حلال ہے یا ، آج بشارالاسد آیا تو تب بھی یہ لڑرہے ہیں کہ جنید جمشید شہید ہے یا مردہ ۔۔nnحلب سوجا ان کا حلیب تو گاڑھا ہے لیکن خون پتلا ۔۔۔
اترك رد