پوسٹ – 2016-12-09

پھر دوبارہ لکھنے بیٹھا ۔۔ کیا مطلب ؟ ارے قلم کو اپنے ہاتھ میں بڑے پیار سے لے کر لکھنے بیٹھا ۔۔ الفاظ غداری کر گئے کہنے لگے تو مطلبی ہے ، جھوٹا ہے فریبی ہے مکار ہے دغا باز ہے ۔۔، جا ہم نہیں بولتے ۔۔ جا ہم نہیں آتے ۔۔ اب لکھ کر دکھا ۔۔ اب کہہ کر دکھا ۔۔ کہنے لگا الفاظ سے اب کسی کو دکھانے کے لیے کیا لکھنا ۔ اور لکھ کر کیا دکھانا ۔ جو دکھایا جائے وہ لکھا جاتا نہیں اور جو دکھ جاتا ہے اس کے لیے لکھنے کی ضرورت کاہے ؟ الفاظ کی بات میں بھی جان تھی ۔۔ تو قلم کو الٹا کر کے بڑے آرام سے کان میں گھسایا ۔۔ جیسے دماغ کا راستہ ٹٹول رہا ہو ۔۔ قلم اندر جا کر چلایا اور بولا ۔۔ اوہ بھائی کہاں کنویں میں گھسا ددیا۔۔ قلم کی آواز اس کے اپنے الفاظ سے ٹکرانے لگی ۔۔ وہ ہنسے لگا ہسٹریائی ہنسی ہنسنے لگا کان میں شور ہوا دماغ جو پائے نہاری کھا کر اداس بیٹھا تھا ۔۔ سر کو سوچ کی ٹانگوں میں دیئے گم صم تھا ہڑبڑا اٹھا ۔۔ دماغ کی گلی میں ایک آہ سی گونجی اور چکرانے لگی اب الفاظ باہر ناچ رہے تھے ۔۔ قلم کان میں منہ دئے چیخ رہا تھا اور دماغ سوچ کی ٹانگوں میں سر دئے تھا ۔۔ خیال کا زوال تو یہی تھا اب تھا تو تھا۔۔ کیا کرتا۔۔ مرتا کیا نہ کرتا اس نے ایک کتاب چنی ۔۔ چھٹی ہوئی ۔ پھٹی ہوئی اور پھر چھٹی ہوئی ان الفاظ کی ۔۔ اس نے الفاظ کو طلاق دی اور عصمت چغتائی کی گود میں بیٹھ گیا کہنے لگا اماں جی یہ تو بتاو یہ جو اتنا لکھتی ہو یہ کاہے کرتی ہو ۔۔ عصمت ہنستی رہی الفاظ اڑتے رہے قلم چیختا رہا اور دماغ ۔۔ دماغ تو عصمت کی گود میں یوں سویا گویا نرم گھاس کے نیچے پانی سرسرار رہا ہو۔۔ خاموش ، ٹھنڈا اور مکمل ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.