پوسٹ – 2016-12-09

جب آپ لفظوں کو انسان سمجھ کر جملوں میں استعمال کریں تب انسان دوست ادب جنم لیتا ہے ۔ اور لکھائی میں نکھار بھی آتا ہے ۔۔مثلا “خوشی” لفظ ہے ۔ ہم اکثر کہتےہیں “خوشگوارحیرت” اگر اس کو یوں لکھیں ۔۔ کہ خوشی حیرت سے اس کا منہ تکنے لگی ۔۔ یا پھر ۔ خوشی اس کے چہرے پر چست قمیض پہنے قلابازیاں کھانے لگی ۔۔اور حیرت کے گڑھے میں جا گری ۔۔ مطلب آپ نے خوشی کو ایک لڑکی بنا کر استعمال کیا۔۔ جس طرح چاہا استعمال کیا۔۔مطلب بھی پورا ہوا اور سمجھ بھی آگیا۔ ایسے ہی آپ دوسرے لفظوں سے کھیل سکتے ہیں ۔۔ یعنی مثلا۔۔ اس کے کپڑے تھے یا غم کی آبشار ۔۔یعنی اس بار آپ نے “غم” کے لفظ کو کپڑے کی طرح استعمال کیا۔۔ nبس ایک بات کا دھیان رکھیے گاجس دن آپ کو احساس ہوا کہ آپ مصنف بن گئے ۔۔ اس دن آپ کے لفظ آپ سے غداری کردیں گے ۔۔ آپ کو اکیلا چھوڑ دیں گے ۔۔ کیوں ؟اس لیے کہ جب انسان سمجھ لیتا ہے کہ وہ کچھ بن گیا۔۔ تو بس بکھرنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے ۔۔ چوٹی پر پہنچ کر ڈھلوان کا آپشن ہی بچتا ہے نا۔۔ آگے آپ کی مرضی ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.